ہم زندہ قوم ہیں !!
مجھے سفر پر نکلے تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے ،میں انیس اگست علی الصبح کراچی سے روانہ ہوا اور بزریعہ استنبول سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا ، آن لائن ایپ سے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ بک کیا ،پیکج میں صرف پانچ دن کی رہائش تھی مگر اپارٹمنٹ کے مالک نے حلال فوڈ ریسٹورنٹ دور ہونے کی وجہ سے ہونے والی میری پریشانی جان کر خیر سگالی کے طور پر میرے روم میں موجود منی فریج میں فروٹس اور مختلف جوسز لاکر رکھ دیے اور بعد میں ان کے پیسے بھی چارج نہیں کیے۔
وہاں سے میں نارتھ میساڈونیا گیا ، لینڈ بارڈر کراس کرتے وقت سبز پاسپورٹ اور مزہبی حلیے کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو سوشل میڈیا سے رابطے میں آنے والی ایک بااثر مقامی خاتون کو کال کی انہوں نے بارڈر حکام کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اور کہا یہ میرے مہمان ہیں ، اور اس طرح ان کی بروقت مداخلت سے مجھے میساڈونیا میں انٹری ملی ، انہوں نے شہر کے کاروباری علاقے میں موجود ایک مہنگے ہوٹل سے مجھے اولڈ ٹاؤن میں موجود ایک مسلمان کے ہوٹل منتقل ہونے کا کہا جس سے میرے اخراجات بھی کم ہوئے اور کھانے پینے کی پریشانی بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے شہر جانے ، وہاں رہائش کے انتخاب سے لے کر حلال فوڈ کے حصول اور پھر وہاں سے البانیہ تک کے سفر میں میری بھرپور رہنمائی کی ، ایک مقام پر مجھے کچھ مشکل پیش آئی تو اپنے بیٹے کو میرئ مدد کے لئے بھیج دیا ۔
میں البانیہ کے دارالحکومت ترانا پہنچا تو ہوٹل کے مینجر نے یہ جان کر کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سولو ٹریولر ہوں آن لائن بک کیے گئے روم سے بہتر کمرہ رہائش کے لیے پیش کیا اور وہ بھی آدھے پیسوں میں اور میرے لیے روزانہ ناشتے کا خصوصی انتظام الگ سے کیا ، وہاں سے میں قریبی ملک مونٹی نیگرو جانے کے لیے بس میں سوار ہوا تو پوری بس خالی تھی صرف ڈرائیور اور ایک ٹریول کمپنی کے مالک تھے جو دوسرے ملک سے سیاحوں کے ایک گروپ کو لینے جارہے تھے ، راستے میں میرے سفر کی کہانیاں سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مجھے شاندار کھانا کھلایا اور دوبارہ البانیہ آنے پر اپنے ہاں مفت قیام کی پیشکش بھی کی ۔
مونٹینگرو کے دو شہروں بدوا اور کوٹور میں قیام کے لیے اپارٹمنٹ بک کیے دونوں کے مالکان نے ملے بغیر ، جانے بغیر دروازے کے لاک کا کوڈ بھیج دیا، جاتے ہوئے پوچھا پیسے کس کو دوں؟ تو کہا فلاں جگہ رکھ دیں ہم بعد میں اٹھا لیں گے ، میں بغیر ادائیگی کیے نکل جاتا تو وہ کیا کرلیتے ، مگر انہوں نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا ۔
وہاں سے طویل سفر کرکے بوسنیا کے کیپٹل سرائیوو پہنچا ، رہائش کے لیے اولڈ ٹاؤن میں واقع ایک فور اسٹار ہوٹل کاانتخاب کیا ،وہاں کی خوش اخلاق مینجر نے کچھ دیر کی بات چیت کے بعد تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ہوٹل کا سب سے اچھا روم دے دیا ، میں نے ناشتے کے بغیر کمرہ بک کیا تھا مگر انہوں نے اپنی طرف سے مجھے ناشتے کی سہولت بھی مفت فراہم کردی ، میں نے تین دن کی پیشگی ادائیگی کی مگر مجھے چوتھے دن بھی رکنا پڑا ، سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی اچھا ریوو لکّھا تو اس بات پر خوش ہوکر چیک آؤٹ کے وقت آخری دن کے چارجز لینے سے انکار کردیا ، میں نے ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کی وہاں پہنچ کر چیک کیا تو میرے والٹ میں طے شدہ رقم سے پانچ مارک کم تھے جوکہ چھ سو روپے پاکستانی بنتے تھے ،میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا رکو میں اے ٹی ایم سے نکال کر لاتا ہوں کہا آپ مہمان ہیں رہنے دیجیے ۔
طویل سفر کے بعد بوسنیا سے براستہ ترکی جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچا تو رات کا ایک بج چکا تھا ، ہوٹل میں چیک ان کیا تو ہوٹل رولز کے حساب سے اس رات کی بھی ادائیگی کرنی چاہئیے تھی مگر وہاں کی مینجر نے میرا قیام اگلے دن سے شمار کیا ،اور یوں میرے ایک دن کے چارجزکی بچت ہوگئی ، رات کے دو بجے ریسٹورنٹ بند ہوچکے تھے مجھے شدید بھوک لگی تھی تو مینجر اپنے ساتھ کچن میں لے گئ اور دودھ بریڈ اور فروٹس سامنے رکھ دیے ، صبح میں ناشتے میں نہیں پہنچا ٹائم نکل گیا تو کال کرکے مجھے اٹھایا اور ہنس کر کہا۔ Someone is missing his breakfast
میں دو دن اس ملک میں اکیلے گھومتا رہا اور مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آئی ،تیسرے دن میرے ایک استاد صاحب نے مجھے میسج کیا کہ یہاں میرے جاننے والے ایک پاکستانی ہیں ان سے رابطہ کریں وہ آپ کو ہیلپ کریں گے میں گزشتہ پچیس دن میں کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا ، سو رابطہ کیا وہ ملنے آئے انہوں نے دوسرے پاکستانئ بھائی سے ملایا ،میں کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہا مجھے بھوک لگنے لگی انہوں نے نہیں پوچھا مگر میں نے اپنی طرف سے کھانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلئ اور اگلے دن مجھے شہر گھمانے کے پرزور دعوت دی میں نے تکلف سے کام لیتے ہوئے کہا میں کسی ٹور آپریٹر سے گاڑی بک کرلوں گا ، اس پر وہ ناراض ہوگئے کہا ایسے کیسے ہوسکتا ہے آپ ہمارے ہم وطن ہم زبان ہیں ، اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں ہم آپ کو گھمائیں گے بھی اور راستے میں کسی مقام پرآپ کی شاندار دعوت بھی کریں گے ،آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو ہمارا فرض بنتا ہے ، اگلے دن انہوں نے اپنے مزید پاکستانی دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور سفر پر نکل پڑے ، راستے میں پیٹرول کا ٹینک فل کروایااور ادائیگی کے وقت سائیڈ پر چلے گئے ،پیڑول پمپ والا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تو میں نے رقم ادا کردی ، منزل پر پہنچے تو میرے وہ پاکستانئ دوست ایک اور پاکستانی کے ہوٹل لے گئے وہاں پہنچ کر ضرورت سے زائد کھانا منگوایا چار لوگوں کے لیے آٹھ چائےمنگوا لی،جب بل دینے کی باری آئی تو سب آگے پیچھے ہوگئے، میں نے آگے بڑھ کر اس پاکستانی ریسٹورنٹ کا بل بھی ادا کیا جو جارجیا کے کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ کے بل سے دوگنا تھا،واپس آئے تو شہر پہنچ کر مجھ سے کہا گاڑی رینٹ کی تھی اس کا کرایہ بھی عنائیت فرما دیں اور ساتھ میں مجھے جو آپ خوشی سے دینا چاہیں ۔
اس کے بعد جو ہوا اسکی تفصیل پھر کبھی سہی ،میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں سے رخصت لی وہ روکتے رہے کہ جب تک یہاں ہیں ہمارے پاس قیام کریں ہم کل آپ کو دوسرا شہر بھی گھمائیں گے۔
رات گئے سٹی سینٹر کے ایک ہوٹل میں چیک ان کیا، بھوک لگی تھی ریسپشن پر کھانے کا پوچھا تو وہاں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا بنگالی لڑکا اپنا کھانا اٹھا کرلےآیا ،کہا رات کافی ہوگئی ہے اب کہاں جاکر کھانا ڈھونڈیں گے آپ یہ کھالیں، میں نے کہا تم کیا کھاؤ گےتو کہا میری فکر نا کریں۔
رات کے پچھلے پہر میں وہ کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے سفر کے دوران اجنبی زمینوں ، انجان لوگوں اور مجھ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے درمیان تو میں خود کومحفوظ سمجھتا رہا مگر دیار غیر میں میرے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کا ملنا مجھے عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ؟
اس وقت حکیم سعید علیہ الرحمہ کی شہادت پر لکھے گئے جاوید چودھری کے کالم کا آخری جملہ میرے ذہن میں گونج رہا تھا کہ
سعید میں کربلا میں زندہ رہا اور تم مدینے میں مارے گئے !!
محمد سجاد مدنی
Via Mufti Sajjad Madani
مجھے سفر پر نکلے تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے ،میں انیس اگست علی الصبح کراچی سے روانہ ہوا اور بزریعہ استنبول سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا ، آن لائن ایپ سے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ بک کیا ،پیکج میں صرف پانچ دن کی رہائش تھی مگر اپارٹمنٹ کے مالک نے حلال فوڈ ریسٹورنٹ دور ہونے کی وجہ سے ہونے والی میری پریشانی جان کر خیر سگالی کے طور پر میرے روم میں موجود منی فریج میں فروٹس اور مختلف جوسز لاکر رکھ دیے اور بعد میں ان کے پیسے بھی چارج نہیں کیے۔
وہاں سے میں نارتھ میساڈونیا گیا ، لینڈ بارڈر کراس کرتے وقت سبز پاسپورٹ اور مزہبی حلیے کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو سوشل میڈیا سے رابطے میں آنے والی ایک بااثر مقامی خاتون کو کال کی انہوں نے بارڈر حکام کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اور کہا یہ میرے مہمان ہیں ، اور اس طرح ان کی بروقت مداخلت سے مجھے میساڈونیا میں انٹری ملی ، انہوں نے شہر کے کاروباری علاقے میں موجود ایک مہنگے ہوٹل سے مجھے اولڈ ٹاؤن میں موجود ایک مسلمان کے ہوٹل منتقل ہونے کا کہا جس سے میرے اخراجات بھی کم ہوئے اور کھانے پینے کی پریشانی بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے شہر جانے ، وہاں رہائش کے انتخاب سے لے کر حلال فوڈ کے حصول اور پھر وہاں سے البانیہ تک کے سفر میں میری بھرپور رہنمائی کی ، ایک مقام پر مجھے کچھ مشکل پیش آئی تو اپنے بیٹے کو میرئ مدد کے لئے بھیج دیا ۔
میں البانیہ کے دارالحکومت ترانا پہنچا تو ہوٹل کے مینجر نے یہ جان کر کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سولو ٹریولر ہوں آن لائن بک کیے گئے روم سے بہتر کمرہ رہائش کے لیے پیش کیا اور وہ بھی آدھے پیسوں میں اور میرے لیے روزانہ ناشتے کا خصوصی انتظام الگ سے کیا ، وہاں سے میں قریبی ملک مونٹی نیگرو جانے کے لیے بس میں سوار ہوا تو پوری بس خالی تھی صرف ڈرائیور اور ایک ٹریول کمپنی کے مالک تھے جو دوسرے ملک سے سیاحوں کے ایک گروپ کو لینے جارہے تھے ، راستے میں میرے سفر کی کہانیاں سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مجھے شاندار کھانا کھلایا اور دوبارہ البانیہ آنے پر اپنے ہاں مفت قیام کی پیشکش بھی کی ۔
مونٹینگرو کے دو شہروں بدوا اور کوٹور میں قیام کے لیے اپارٹمنٹ بک کیے دونوں کے مالکان نے ملے بغیر ، جانے بغیر دروازے کے لاک کا کوڈ بھیج دیا، جاتے ہوئے پوچھا پیسے کس کو دوں؟ تو کہا فلاں جگہ رکھ دیں ہم بعد میں اٹھا لیں گے ، میں بغیر ادائیگی کیے نکل جاتا تو وہ کیا کرلیتے ، مگر انہوں نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا ۔
وہاں سے طویل سفر کرکے بوسنیا کے کیپٹل سرائیوو پہنچا ، رہائش کے لیے اولڈ ٹاؤن میں واقع ایک فور اسٹار ہوٹل کاانتخاب کیا ،وہاں کی خوش اخلاق مینجر نے کچھ دیر کی بات چیت کے بعد تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ہوٹل کا سب سے اچھا روم دے دیا ، میں نے ناشتے کے بغیر کمرہ بک کیا تھا مگر انہوں نے اپنی طرف سے مجھے ناشتے کی سہولت بھی مفت فراہم کردی ، میں نے تین دن کی پیشگی ادائیگی کی مگر مجھے چوتھے دن بھی رکنا پڑا ، سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی اچھا ریوو لکّھا تو اس بات پر خوش ہوکر چیک آؤٹ کے وقت آخری دن کے چارجز لینے سے انکار کردیا ، میں نے ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کی وہاں پہنچ کر چیک کیا تو میرے والٹ میں طے شدہ رقم سے پانچ مارک کم تھے جوکہ چھ سو روپے پاکستانی بنتے تھے ،میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا رکو میں اے ٹی ایم سے نکال کر لاتا ہوں کہا آپ مہمان ہیں رہنے دیجیے ۔
طویل سفر کے بعد بوسنیا سے براستہ ترکی جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچا تو رات کا ایک بج چکا تھا ، ہوٹل میں چیک ان کیا تو ہوٹل رولز کے حساب سے اس رات کی بھی ادائیگی کرنی چاہئیے تھی مگر وہاں کی مینجر نے میرا قیام اگلے دن سے شمار کیا ،اور یوں میرے ایک دن کے چارجزکی بچت ہوگئی ، رات کے دو بجے ریسٹورنٹ بند ہوچکے تھے مجھے شدید بھوک لگی تھی تو مینجر اپنے ساتھ کچن میں لے گئ اور دودھ بریڈ اور فروٹس سامنے رکھ دیے ، صبح میں ناشتے میں نہیں پہنچا ٹائم نکل گیا تو کال کرکے مجھے اٹھایا اور ہنس کر کہا۔ Someone is missing his breakfast
میں دو دن اس ملک میں اکیلے گھومتا رہا اور مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آئی ،تیسرے دن میرے ایک استاد صاحب نے مجھے میسج کیا کہ یہاں میرے جاننے والے ایک پاکستانی ہیں ان سے رابطہ کریں وہ آپ کو ہیلپ کریں گے میں گزشتہ پچیس دن میں کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا ، سو رابطہ کیا وہ ملنے آئے انہوں نے دوسرے پاکستانئ بھائی سے ملایا ،میں کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہا مجھے بھوک لگنے لگی انہوں نے نہیں پوچھا مگر میں نے اپنی طرف سے کھانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلئ اور اگلے دن مجھے شہر گھمانے کے پرزور دعوت دی میں نے تکلف سے کام لیتے ہوئے کہا میں کسی ٹور آپریٹر سے گاڑی بک کرلوں گا ، اس پر وہ ناراض ہوگئے کہا ایسے کیسے ہوسکتا ہے آپ ہمارے ہم وطن ہم زبان ہیں ، اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں ہم آپ کو گھمائیں گے بھی اور راستے میں کسی مقام پرآپ کی شاندار دعوت بھی کریں گے ،آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو ہمارا فرض بنتا ہے ، اگلے دن انہوں نے اپنے مزید پاکستانی دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور سفر پر نکل پڑے ، راستے میں پیٹرول کا ٹینک فل کروایااور ادائیگی کے وقت سائیڈ پر چلے گئے ،پیڑول پمپ والا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تو میں نے رقم ادا کردی ، منزل پر پہنچے تو میرے وہ پاکستانئ دوست ایک اور پاکستانی کے ہوٹل لے گئے وہاں پہنچ کر ضرورت سے زائد کھانا منگوایا چار لوگوں کے لیے آٹھ چائےمنگوا لی،جب بل دینے کی باری آئی تو سب آگے پیچھے ہوگئے، میں نے آگے بڑھ کر اس پاکستانی ریسٹورنٹ کا بل بھی ادا کیا جو جارجیا کے کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ کے بل سے دوگنا تھا،واپس آئے تو شہر پہنچ کر مجھ سے کہا گاڑی رینٹ کی تھی اس کا کرایہ بھی عنائیت فرما دیں اور ساتھ میں مجھے جو آپ خوشی سے دینا چاہیں ۔
اس کے بعد جو ہوا اسکی تفصیل پھر کبھی سہی ،میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں سے رخصت لی وہ روکتے رہے کہ جب تک یہاں ہیں ہمارے پاس قیام کریں ہم کل آپ کو دوسرا شہر بھی گھمائیں گے۔
رات گئے سٹی سینٹر کے ایک ہوٹل میں چیک ان کیا، بھوک لگی تھی ریسپشن پر کھانے کا پوچھا تو وہاں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا بنگالی لڑکا اپنا کھانا اٹھا کرلےآیا ،کہا رات کافی ہوگئی ہے اب کہاں جاکر کھانا ڈھونڈیں گے آپ یہ کھالیں، میں نے کہا تم کیا کھاؤ گےتو کہا میری فکر نا کریں۔
رات کے پچھلے پہر میں وہ کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے سفر کے دوران اجنبی زمینوں ، انجان لوگوں اور مجھ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے درمیان تو میں خود کومحفوظ سمجھتا رہا مگر دیار غیر میں میرے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کا ملنا مجھے عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ؟
اس وقت حکیم سعید علیہ الرحمہ کی شہادت پر لکھے گئے جاوید چودھری کے کالم کا آخری جملہ میرے ذہن میں گونج رہا تھا کہ
سعید میں کربلا میں زندہ رہا اور تم مدینے میں مارے گئے !!
محمد سجاد مدنی
Via Mufti Sajjad Madani
ہم زندہ قوم ہیں !!
مجھے سفر پر نکلے تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے ،میں انیس اگست علی الصبح کراچی سے روانہ ہوا اور بزریعہ استنبول سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا ، آن لائن ایپ سے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ بک کیا ،پیکج میں صرف پانچ دن کی رہائش تھی مگر اپارٹمنٹ کے مالک نے حلال فوڈ ریسٹورنٹ دور ہونے کی وجہ سے ہونے والی میری پریشانی جان کر خیر سگالی کے طور پر میرے روم میں موجود منی فریج میں فروٹس اور مختلف جوسز لاکر رکھ دیے اور بعد میں ان کے پیسے بھی چارج نہیں کیے۔
وہاں سے میں نارتھ میساڈونیا گیا ، لینڈ بارڈر کراس کرتے وقت سبز پاسپورٹ اور مزہبی حلیے کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو سوشل میڈیا سے رابطے میں آنے والی ایک بااثر مقامی خاتون کو کال کی انہوں نے بارڈر حکام کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اور کہا یہ میرے مہمان ہیں ، اور اس طرح ان کی بروقت مداخلت سے مجھے میساڈونیا میں انٹری ملی ، انہوں نے شہر کے کاروباری علاقے میں موجود ایک مہنگے ہوٹل سے مجھے اولڈ ٹاؤن میں موجود ایک مسلمان کے ہوٹل منتقل ہونے کا کہا جس سے میرے اخراجات بھی کم ہوئے اور کھانے پینے کی پریشانی بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے شہر جانے ، وہاں رہائش کے انتخاب سے لے کر حلال فوڈ کے حصول اور پھر وہاں سے البانیہ تک کے سفر میں میری بھرپور رہنمائی کی ، ایک مقام پر مجھے کچھ مشکل پیش آئی تو اپنے بیٹے کو میرئ مدد کے لئے بھیج دیا ۔
میں البانیہ کے دارالحکومت ترانا پہنچا تو ہوٹل کے مینجر نے یہ جان کر کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سولو ٹریولر ہوں آن لائن بک کیے گئے روم سے بہتر کمرہ رہائش کے لیے پیش کیا اور وہ بھی آدھے پیسوں میں اور میرے لیے روزانہ ناشتے کا خصوصی انتظام الگ سے کیا ، وہاں سے میں قریبی ملک مونٹی نیگرو جانے کے لیے بس میں سوار ہوا تو پوری بس خالی تھی صرف ڈرائیور اور ایک ٹریول کمپنی کے مالک تھے جو دوسرے ملک سے سیاحوں کے ایک گروپ کو لینے جارہے تھے ، راستے میں میرے سفر کی کہانیاں سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مجھے شاندار کھانا کھلایا اور دوبارہ البانیہ آنے پر اپنے ہاں مفت قیام کی پیشکش بھی کی ۔
مونٹینگرو کے دو شہروں بدوا اور کوٹور میں قیام کے لیے اپارٹمنٹ بک کیے دونوں کے مالکان نے ملے بغیر ، جانے بغیر دروازے کے لاک کا کوڈ بھیج دیا، جاتے ہوئے پوچھا پیسے کس کو دوں؟ تو کہا فلاں جگہ رکھ دیں ہم بعد میں اٹھا لیں گے ، میں بغیر ادائیگی کیے نکل جاتا تو وہ کیا کرلیتے ، مگر انہوں نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا ۔
وہاں سے طویل سفر کرکے بوسنیا کے کیپٹل سرائیوو پہنچا ، رہائش کے لیے اولڈ ٹاؤن میں واقع ایک فور اسٹار ہوٹل کاانتخاب کیا ،وہاں کی خوش اخلاق مینجر نے کچھ دیر کی بات چیت کے بعد تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ہوٹل کا سب سے اچھا روم دے دیا ، میں نے ناشتے کے بغیر کمرہ بک کیا تھا مگر انہوں نے اپنی طرف سے مجھے ناشتے کی سہولت بھی مفت فراہم کردی ، میں نے تین دن کی پیشگی ادائیگی کی مگر مجھے چوتھے دن بھی رکنا پڑا ، سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی اچھا ریوو لکّھا تو اس بات پر خوش ہوکر چیک آؤٹ کے وقت آخری دن کے چارجز لینے سے انکار کردیا ، میں نے ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کی وہاں پہنچ کر چیک کیا تو میرے والٹ میں طے شدہ رقم سے پانچ مارک کم تھے جوکہ چھ سو روپے پاکستانی بنتے تھے ،میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا رکو میں اے ٹی ایم سے نکال کر لاتا ہوں کہا آپ مہمان ہیں رہنے دیجیے ۔
طویل سفر کے بعد بوسنیا سے براستہ ترکی جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچا تو رات کا ایک بج چکا تھا ، ہوٹل میں چیک ان کیا تو ہوٹل رولز کے حساب سے اس رات کی بھی ادائیگی کرنی چاہئیے تھی مگر وہاں کی مینجر نے میرا قیام اگلے دن سے شمار کیا ،اور یوں میرے ایک دن کے چارجزکی بچت ہوگئی ، رات کے دو بجے ریسٹورنٹ بند ہوچکے تھے مجھے شدید بھوک لگی تھی تو مینجر اپنے ساتھ کچن میں لے گئ اور دودھ بریڈ اور فروٹس سامنے رکھ دیے ، صبح میں ناشتے میں نہیں پہنچا ٹائم نکل گیا تو کال کرکے مجھے اٹھایا اور ہنس کر کہا۔ Someone is missing his breakfast
میں دو دن اس ملک میں اکیلے گھومتا رہا اور مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آئی ،تیسرے دن میرے ایک استاد صاحب نے مجھے میسج کیا کہ یہاں میرے جاننے والے ایک پاکستانی ہیں ان سے رابطہ کریں وہ آپ کو ہیلپ کریں گے میں گزشتہ پچیس دن میں کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا ، سو رابطہ کیا وہ ملنے آئے انہوں نے دوسرے پاکستانئ بھائی سے ملایا ،میں کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہا مجھے بھوک لگنے لگی انہوں نے نہیں پوچھا مگر میں نے اپنی طرف سے کھانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلئ اور اگلے دن مجھے شہر گھمانے کے پرزور دعوت دی میں نے تکلف سے کام لیتے ہوئے کہا میں کسی ٹور آپریٹر سے گاڑی بک کرلوں گا ، اس پر وہ ناراض ہوگئے کہا ایسے کیسے ہوسکتا ہے آپ ہمارے ہم وطن ہم زبان ہیں ، اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں ہم آپ کو گھمائیں گے بھی اور راستے میں کسی مقام پرآپ کی شاندار دعوت بھی کریں گے ،آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو ہمارا فرض بنتا ہے ، اگلے دن انہوں نے اپنے مزید پاکستانی دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور سفر پر نکل پڑے ، راستے میں پیٹرول کا ٹینک فل کروایااور ادائیگی کے وقت سائیڈ پر چلے گئے ،پیڑول پمپ والا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تو میں نے رقم ادا کردی ، منزل پر پہنچے تو میرے وہ پاکستانئ دوست ایک اور پاکستانی کے ہوٹل لے گئے وہاں پہنچ کر ضرورت سے زائد کھانا منگوایا چار لوگوں کے لیے آٹھ چائےمنگوا لی،جب بل دینے کی باری آئی تو سب آگے پیچھے ہوگئے، میں نے آگے بڑھ کر اس پاکستانی ریسٹورنٹ کا بل بھی ادا کیا جو جارجیا کے کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ کے بل سے دوگنا تھا،واپس آئے تو شہر پہنچ کر مجھ سے کہا گاڑی رینٹ کی تھی اس کا کرایہ بھی عنائیت فرما دیں اور ساتھ میں مجھے جو آپ خوشی سے دینا چاہیں ۔
اس کے بعد جو ہوا اسکی تفصیل پھر کبھی سہی ،میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں سے رخصت لی وہ روکتے رہے کہ جب تک یہاں ہیں ہمارے پاس قیام کریں ہم کل آپ کو دوسرا شہر بھی گھمائیں گے۔
رات گئے سٹی سینٹر کے ایک ہوٹل میں چیک ان کیا، بھوک لگی تھی ریسپشن پر کھانے کا پوچھا تو وہاں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا بنگالی لڑکا اپنا کھانا اٹھا کرلےآیا ،کہا رات کافی ہوگئی ہے اب کہاں جاکر کھانا ڈھونڈیں گے آپ یہ کھالیں، میں نے کہا تم کیا کھاؤ گےتو کہا میری فکر نا کریں۔
رات کے پچھلے پہر میں وہ کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے سفر کے دوران اجنبی زمینوں ، انجان لوگوں اور مجھ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے درمیان تو میں خود کومحفوظ سمجھتا رہا مگر دیار غیر میں میرے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کا ملنا مجھے عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ؟
اس وقت حکیم سعید علیہ الرحمہ کی شہادت پر لکھے گئے جاوید چودھری کے کالم کا آخری جملہ میرے ذہن میں گونج رہا تھا کہ
سعید میں کربلا میں زندہ رہا اور تم مدینے میں مارے گئے !!
محمد سجاد مدنی
Via Mufti Sajjad Madani
0 Σχόλια
0 Μοιράστηκε
83 Views