پاکستان کی ساحلی پٹی قریب پندرا سو کلو میٹر ہے اس پر ہر دس کلومیٹر کے بعد ایک چھوٹا شہر بسایا جاسکتا ہے اور سمندر انکو غزا بھی پرووائیڈ کردے گا ۔۔۔ائر ونڈ اور سولر کی مدد سے بجلی بنائیں سمندری پانی کو ہی میٹھا کرکے اور سمندر سے ہی مچھلی جھینگا سیپ الجی اور بیسیوں اقسام کی غزائیں حاصل کی جاسکتی ہیں ۔۔۔۔یہ ساحلی پٹی قریب ایک سے دو کڑور لوگوں کو سمنبھال سکتی ہے ۔۔۔بلوچستان پورا خالی پڑا ہے سندھ کی ساحلی پٹی بھی کافی حد تک خالی ہے ۔۔۔جبکہ کراچی میں سو گز جگہ کروڑوں کی ہے ۔۔۔یہ ساحلی پٹی کراچی اور دیگر شہروں کے غریب اور عام لوگوں کی باآسانی پرورش کرسکتی ہے اور اس کے لیے کسی خاص انفرا اسٹریکچر کی بھی ضرورت نہیں ۔۔۔۔روڈ بنا ہوا ہے کوسٹل ہائی وے ۔۔۔جب ایک چھوٹا صنعتی شہر بسے گا تو لازما وہاں کاروباری سرگرمی بھی شروع ہوگی اور چین سسٹم کے تحت کام سے کام نکتا چلاجائے گا ۔۔۔

Via Shahazada Khurram Saleem
پاکستان کی ساحلی پٹی قریب پندرا سو کلو میٹر ہے اس پر ہر دس کلومیٹر کے بعد ایک چھوٹا شہر بسایا جاسکتا ہے اور سمندر انکو غزا بھی پرووائیڈ کردے گا ۔۔۔ائر ونڈ اور سولر کی مدد سے بجلی بنائیں سمندری پانی کو ہی میٹھا کرکے اور سمندر سے ہی مچھلی جھینگا سیپ الجی اور بیسیوں اقسام کی غزائیں حاصل کی جاسکتی ہیں ۔۔۔۔یہ ساحلی پٹی قریب ایک سے دو کڑور لوگوں کو سمنبھال سکتی ہے ۔۔۔بلوچستان پورا خالی پڑا ہے سندھ کی ساحلی پٹی بھی کافی حد تک خالی ہے ۔۔۔جبکہ کراچی میں سو گز جگہ کروڑوں کی ہے ۔۔۔یہ ساحلی پٹی کراچی اور دیگر شہروں کے غریب اور عام لوگوں کی باآسانی پرورش کرسکتی ہے اور اس کے لیے کسی خاص انفرا اسٹریکچر کی بھی ضرورت نہیں ۔۔۔۔روڈ بنا ہوا ہے کوسٹل ہائی وے ۔۔۔جب ایک چھوٹا صنعتی شہر بسے گا تو لازما وہاں کاروباری سرگرمی بھی شروع ہوگی اور چین سسٹم کے تحت کام سے کام نکتا چلاجائے گا ۔۔۔ Via Shahazada Khurram Saleem
0 Comments 0 Shares 87 Views