ایک گاوں جو واٹس ایپ پر چلتا ہے۔
بھالریجی میں ایک انسٹنٹ میسجنگ سروس سماجی تبدیلی اور عوامی فلاح کا سبب بن گئی۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی نے شہری زندگی کے ہر شعبے میں بہتری لائی دنیا کو سکیڑ کر ہتھیلی پر لاکر رکھ دیا لیکن لاڑکانہ کے چھوٹے گاوں بھالیرجی میں ٹیکنالاجی کے ذریعے تبدیلی حیرت انگیز ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کی رسائی نے مواصالات کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ جہاں آج پورا گاوں واٹس ایپ کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک میسج کرنے اور صوتی پیغامات پر مبنی ایپ ہے جو فیس بک کی طرف سے مہیا کی گئی ہے۔ یہ گاوں موئن جو دڑو سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں کے رہائشی اور اس کام کو سر انجام دینے والے ریاض پیرزادو کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اپنے گاوں کا واٹس ایپ گروپ ۲۰۱۶ میں شروع کیا تھا اس نومبر پر اس کی پانچویں سالگرہ ہوگی۔‘‘ پیرزادو کو یقین ہے کہ یہ ڈیجیٹل چیٹ روم اس گاوں کے لوگوں میں کامیابی سے تبدیلی لیکر آئے گا۔ اب تک اس گروپ میں گاوں کے ۱۸۰ افراد جڑ چکے ہیں ان میں اسی گاوں کے ڈاکٹرز، انجنئیرز، علما، وکلا، ادیب اور کئی گورنمنٹ ملازم شامل ہیں۔
تاسیسی تقریب کے موقع پر پیرزادو کا کہنا ہے کہ گاوں کھلی کچہری منعقد کرتا ہے جہاں وہ اپنی بہترین کارکردگی کے جائزے کے ساتھ ہر اس روپے کا احتساب بھی کرتے ہیں جو گاوں میں خرچ کیا گیا۔
پیرزادو کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نوجوانوں پر مبنی ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو مختلف حکومتی ڈپارٹمنٹس اور منتخب نمائندوں سے ربط میں رہ کر اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
اس سارے کام کو چلانے کے لیے انہوں نے پانچ سو سے ایک ہزار گروپ ممبرشپ فیس رکھی ہوئی ہے۔ یہ لوگ شکرگذار ہیں واٹس ایپ کے جنہوں نے مواصلاتی ذرائع میں آسانیاں فراہم کرکے لوگوں کو اتنا قریب کردیا ہے کہ وہ اپنے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق واٹس ایپ کے اس گروپ کی مدد سے ایسے کئی مسائل ہیں جو انہوں نے فوراً حل کردیے جو کئی سالوں سے حل ہو نہیں پارہے تھے۔ اس گروپ کی مدد سے اس گاوں کو کئی رضاکار نوجوان میسر ہو گئے ہیں جو مواصلات، تعلیم، صحت، کھیلوں، خواتین کے مسائل، اور ٹیکنالاجی میں موثر انداز سے کام کرنے کے لیے منظم ہیں۔
Work of Riaz Pirzada
بھالریجی میں ایک انسٹنٹ میسجنگ سروس سماجی تبدیلی اور عوامی فلاح کا سبب بن گئی۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی نے شہری زندگی کے ہر شعبے میں بہتری لائی دنیا کو سکیڑ کر ہتھیلی پر لاکر رکھ دیا لیکن لاڑکانہ کے چھوٹے گاوں بھالیرجی میں ٹیکنالاجی کے ذریعے تبدیلی حیرت انگیز ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کی رسائی نے مواصالات کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ جہاں آج پورا گاوں واٹس ایپ کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک میسج کرنے اور صوتی پیغامات پر مبنی ایپ ہے جو فیس بک کی طرف سے مہیا کی گئی ہے۔ یہ گاوں موئن جو دڑو سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں کے رہائشی اور اس کام کو سر انجام دینے والے ریاض پیرزادو کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اپنے گاوں کا واٹس ایپ گروپ ۲۰۱۶ میں شروع کیا تھا اس نومبر پر اس کی پانچویں سالگرہ ہوگی۔‘‘ پیرزادو کو یقین ہے کہ یہ ڈیجیٹل چیٹ روم اس گاوں کے لوگوں میں کامیابی سے تبدیلی لیکر آئے گا۔ اب تک اس گروپ میں گاوں کے ۱۸۰ افراد جڑ چکے ہیں ان میں اسی گاوں کے ڈاکٹرز، انجنئیرز، علما، وکلا، ادیب اور کئی گورنمنٹ ملازم شامل ہیں۔
تاسیسی تقریب کے موقع پر پیرزادو کا کہنا ہے کہ گاوں کھلی کچہری منعقد کرتا ہے جہاں وہ اپنی بہترین کارکردگی کے جائزے کے ساتھ ہر اس روپے کا احتساب بھی کرتے ہیں جو گاوں میں خرچ کیا گیا۔
پیرزادو کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نوجوانوں پر مبنی ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو مختلف حکومتی ڈپارٹمنٹس اور منتخب نمائندوں سے ربط میں رہ کر اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
اس سارے کام کو چلانے کے لیے انہوں نے پانچ سو سے ایک ہزار گروپ ممبرشپ فیس رکھی ہوئی ہے۔ یہ لوگ شکرگذار ہیں واٹس ایپ کے جنہوں نے مواصلاتی ذرائع میں آسانیاں فراہم کرکے لوگوں کو اتنا قریب کردیا ہے کہ وہ اپنے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق واٹس ایپ کے اس گروپ کی مدد سے ایسے کئی مسائل ہیں جو انہوں نے فوراً حل کردیے جو کئی سالوں سے حل ہو نہیں پارہے تھے۔ اس گروپ کی مدد سے اس گاوں کو کئی رضاکار نوجوان میسر ہو گئے ہیں جو مواصلات، تعلیم، صحت، کھیلوں، خواتین کے مسائل، اور ٹیکنالاجی میں موثر انداز سے کام کرنے کے لیے منظم ہیں۔
Work of Riaz Pirzada
ایک گاوں جو واٹس ایپ پر چلتا ہے۔
بھالریجی میں ایک انسٹنٹ میسجنگ سروس سماجی تبدیلی اور عوامی فلاح کا سبب بن گئی۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی نے شہری زندگی کے ہر شعبے میں بہتری لائی دنیا کو سکیڑ کر ہتھیلی پر لاکر رکھ دیا لیکن لاڑکانہ کے چھوٹے گاوں بھالیرجی میں ٹیکنالاجی کے ذریعے تبدیلی حیرت انگیز ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کی رسائی نے مواصالات کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ جہاں آج پورا گاوں واٹس ایپ کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک میسج کرنے اور صوتی پیغامات پر مبنی ایپ ہے جو فیس بک کی طرف سے مہیا کی گئی ہے۔ یہ گاوں موئن جو دڑو سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں کے رہائشی اور اس کام کو سر انجام دینے والے ریاض پیرزادو کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اپنے گاوں کا واٹس ایپ گروپ ۲۰۱۶ میں شروع کیا تھا اس نومبر پر اس کی پانچویں سالگرہ ہوگی۔‘‘ پیرزادو کو یقین ہے کہ یہ ڈیجیٹل چیٹ روم اس گاوں کے لوگوں میں کامیابی سے تبدیلی لیکر آئے گا۔ اب تک اس گروپ میں گاوں کے ۱۸۰ افراد جڑ چکے ہیں ان میں اسی گاوں کے ڈاکٹرز، انجنئیرز، علما، وکلا، ادیب اور کئی گورنمنٹ ملازم شامل ہیں۔
تاسیسی تقریب کے موقع پر پیرزادو کا کہنا ہے کہ گاوں کھلی کچہری منعقد کرتا ہے جہاں وہ اپنی بہترین کارکردگی کے جائزے کے ساتھ ہر اس روپے کا احتساب بھی کرتے ہیں جو گاوں میں خرچ کیا گیا۔
پیرزادو کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نوجوانوں پر مبنی ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو مختلف حکومتی ڈپارٹمنٹس اور منتخب نمائندوں سے ربط میں رہ کر اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
اس سارے کام کو چلانے کے لیے انہوں نے پانچ سو سے ایک ہزار گروپ ممبرشپ فیس رکھی ہوئی ہے۔ یہ لوگ شکرگذار ہیں واٹس ایپ کے جنہوں نے مواصلاتی ذرائع میں آسانیاں فراہم کرکے لوگوں کو اتنا قریب کردیا ہے کہ وہ اپنے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق واٹس ایپ کے اس گروپ کی مدد سے ایسے کئی مسائل ہیں جو انہوں نے فوراً حل کردیے جو کئی سالوں سے حل ہو نہیں پارہے تھے۔ اس گروپ کی مدد سے اس گاوں کو کئی رضاکار نوجوان میسر ہو گئے ہیں جو مواصلات، تعلیم، صحت، کھیلوں، خواتین کے مسائل، اور ٹیکنالاجی میں موثر انداز سے کام کرنے کے لیے منظم ہیں۔
Work of Riaz Pirzada
0 Comentários
0 Compartilhamentos
69 Visualizações