آج رات گلستان جوہر سے گزر ہؤا تو یہ عجب منظر دیکھا کہ ایک نجی کمپنی کا رائیڈر جا رہا ہے اور اسکے پیچھے ایک کمسن بچہ ہاتھ میں فون لئے اسکو کچھ سمجھا رہا ہے میں نے جب بائیک روک کر پوچھا یہ بچا کون ہے تو اس رائیڈر نے بتایا کہ یہ میرا بیٹا چوں کہ مجھے سمارٹ فون استعمال کرنا نہیں آتا تو یہ روز میرے ساتھ آتا ہے اور میری اسی طرح مدد کرتا ہے یہ سن کرمجھے بہت خوشی ہوئ کہ اس کم عمری میں ہی یہ بچہ اپنے باپ کا بازو بنا ہوا ہے خدا سے دعا ہے کے اس بچے کا مستقبل روشن ہو اور اسکی محنت ایک دن رنگ لائے۔
بیٹا تمہارے اس جذبہ کو کراچی والوں کا سلام۔

Via Mohsin Rizvee
آج رات گلستان جوہر سے گزر ہؤا تو یہ عجب منظر دیکھا کہ ایک نجی کمپنی کا رائیڈر جا رہا ہے اور اسکے پیچھے ایک کمسن بچہ ہاتھ میں فون لئے اسکو کچھ سمجھا رہا ہے میں نے جب بائیک روک کر پوچھا یہ بچا کون ہے تو اس رائیڈر نے بتایا کہ یہ میرا بیٹا چوں کہ مجھے سمارٹ فون استعمال کرنا نہیں آتا تو یہ روز میرے ساتھ آتا ہے اور میری اسی طرح مدد کرتا ہے یہ سن کرمجھے بہت خوشی ہوئ کہ اس کم عمری میں ہی یہ بچہ اپنے باپ کا بازو بنا ہوا ہے خدا سے دعا ہے کے اس بچے کا مستقبل روشن ہو اور اسکی محنت ایک دن رنگ لائے۔ بیٹا تمہارے اس جذبہ کو کراچی والوں کا سلام۔ Via Mohsin Rizvee
0 Commenti 0 condivisioni 11 Views