رمضان المبارک اور نرنجن سنگھ کی دوکان ۔
مادہ پرستی کے اس دورمیں ضلع خیبر میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والا تاجر نرنجن سنگھ ہر سال ماہ رمضان میں منافع ترک کر دیتا ھے، اسکاکہنا ہے کہ سال کے 11مہینے پیسے مگر رمضان اللہ کی رضاکمانے کا موقع ہے ،
نرنجن کی دکان میں سستا ترین سامان فروخت ہوتے دیکھ کر گاہک حیران ہوتے ہیں ، اور قطار میں کھڑے ہوکر اشیا خوردونوش خریدتے ھے، اور اسکے اس کام کی وجہ سے جمرود بازار کے دکاندار پریشان ہیں،
رمضان میں منافع ترک کرنے کی وجہ سے دکان کا کرایہ اور مزدوروں کی تنخواہیں نرنجن سنگھ اپنی جیب سے ادا کرتا ھے، جس پر خریدار نرنجن سنگھ کی خدا ترسی کے معترف جبکہ دیگر تاجر پریشان ہیں۔
گراں فروشی ، زخیرہ اندازی میں ملوث تاجروں کے لیے نرنجن سنگھ ایک قابل تقلید مثال ہے اور اس سکھ کا انصاف ھمارے مسلمان کے لئے عبرت ھے،جس پر عمل کر کے ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اللہ پاک، رنجن سنگھ کو ایمان کی دولت سے نوازے۔ امین
کیا آپ اپنے سٹوڈنٹس کو میرا یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں کہ رمضان میں اپنے علاقوں میں Not for Profit فوڈ سٹالز لگائیں جہاں وہ ڈائریکٹ منڈیوں اور فیکٹریوں سے اشیاء خرید کر اپنے گلی محلے کے لوگوں کو بغیر کسی منافع کے مناسب قیمت پہ معیاری اشیاء بیچیں۔ اس سے باقی کے تاجروں میں بھی شعور پیدا ہوگا اور انہیں احساس ہوگا کہ رمضان پیسے کمانے کا نہیں بلکہ احساس کا مہینہ ہے اور بہت سے لوگوں کا بھلا ہوگا۔
مادہ پرستی کے اس دورمیں ضلع خیبر میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والا تاجر نرنجن سنگھ ہر سال ماہ رمضان میں منافع ترک کر دیتا ھے، اسکاکہنا ہے کہ سال کے 11مہینے پیسے مگر رمضان اللہ کی رضاکمانے کا موقع ہے ،
نرنجن کی دکان میں سستا ترین سامان فروخت ہوتے دیکھ کر گاہک حیران ہوتے ہیں ، اور قطار میں کھڑے ہوکر اشیا خوردونوش خریدتے ھے، اور اسکے اس کام کی وجہ سے جمرود بازار کے دکاندار پریشان ہیں،
رمضان میں منافع ترک کرنے کی وجہ سے دکان کا کرایہ اور مزدوروں کی تنخواہیں نرنجن سنگھ اپنی جیب سے ادا کرتا ھے، جس پر خریدار نرنجن سنگھ کی خدا ترسی کے معترف جبکہ دیگر تاجر پریشان ہیں۔
گراں فروشی ، زخیرہ اندازی میں ملوث تاجروں کے لیے نرنجن سنگھ ایک قابل تقلید مثال ہے اور اس سکھ کا انصاف ھمارے مسلمان کے لئے عبرت ھے،جس پر عمل کر کے ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اللہ پاک، رنجن سنگھ کو ایمان کی دولت سے نوازے۔ امین
کیا آپ اپنے سٹوڈنٹس کو میرا یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں کہ رمضان میں اپنے علاقوں میں Not for Profit فوڈ سٹالز لگائیں جہاں وہ ڈائریکٹ منڈیوں اور فیکٹریوں سے اشیاء خرید کر اپنے گلی محلے کے لوگوں کو بغیر کسی منافع کے مناسب قیمت پہ معیاری اشیاء بیچیں۔ اس سے باقی کے تاجروں میں بھی شعور پیدا ہوگا اور انہیں احساس ہوگا کہ رمضان پیسے کمانے کا نہیں بلکہ احساس کا مہینہ ہے اور بہت سے لوگوں کا بھلا ہوگا۔
رمضان المبارک اور نرنجن سنگھ کی دوکان ۔
مادہ پرستی کے اس دورمیں ضلع خیبر میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والا تاجر نرنجن سنگھ ہر سال ماہ رمضان میں منافع ترک کر دیتا ھے، اسکاکہنا ہے کہ سال کے 11مہینے پیسے مگر رمضان اللہ کی رضاکمانے کا موقع ہے ،
نرنجن کی دکان میں سستا ترین سامان فروخت ہوتے دیکھ کر گاہک حیران ہوتے ہیں ، اور قطار میں کھڑے ہوکر اشیا خوردونوش خریدتے ھے، اور اسکے اس کام کی وجہ سے جمرود بازار کے دکاندار پریشان ہیں،
رمضان میں منافع ترک کرنے کی وجہ سے دکان کا کرایہ اور مزدوروں کی تنخواہیں نرنجن سنگھ اپنی جیب سے ادا کرتا ھے، جس پر خریدار نرنجن سنگھ کی خدا ترسی کے معترف جبکہ دیگر تاجر پریشان ہیں۔
گراں فروشی ، زخیرہ اندازی میں ملوث تاجروں کے لیے نرنجن سنگھ ایک قابل تقلید مثال ہے اور اس سکھ کا انصاف ھمارے مسلمان کے لئے عبرت ھے،جس پر عمل کر کے ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اللہ پاک، رنجن سنگھ کو ایمان کی دولت سے نوازے۔ امین
کیا آپ اپنے سٹوڈنٹس کو میرا یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں کہ رمضان میں اپنے علاقوں میں Not for Profit فوڈ سٹالز لگائیں جہاں وہ ڈائریکٹ منڈیوں اور فیکٹریوں سے اشیاء خرید کر اپنے گلی محلے کے لوگوں کو بغیر کسی منافع کے مناسب قیمت پہ معیاری اشیاء بیچیں۔ اس سے باقی کے تاجروں میں بھی شعور پیدا ہوگا اور انہیں احساس ہوگا کہ رمضان پیسے کمانے کا نہیں بلکہ احساس کا مہینہ ہے اور بہت سے لوگوں کا بھلا ہوگا۔
0 Reacties
0 aandelen
17 Views