" سقراط کی درسگاہ کے اصول "
__________
سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے
خیالات تحمل کے ساتھ
سُنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے..
سقراط کی درسگاہ کا اصول تھا
اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا
یا پھر دوسرے کو
گالی دے دیتا تھا یا
دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درسگاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔
سقراط کا کہنا تھ برداشت سوسائٹی کی
روح ہوتی ہے، سوسائٹی میں جب برداشت کم ہوجاتی ہے تو مکالمہ کم ہوجاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔
بقول سقراط اختلاف دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے،
یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے
اُس وقت تک معاشرہ
ترقی کرتا ہے ۔۔ لیکن جب مکالمہ یا اختلاف
جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ
انارکی کا شکار ہوجاتا ہے ۔۔
سقراط کہتا تھا :
"اور عالم اُس وقت تک
عالم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں برداشت نہ آجائے، وہ جب تک ہاتھ اور بات میں
فرق نہ رکھے” ----
منقول
__________
سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے
خیالات تحمل کے ساتھ
سُنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے..
سقراط کی درسگاہ کا اصول تھا
اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا
یا پھر دوسرے کو
گالی دے دیتا تھا یا
دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درسگاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔
سقراط کا کہنا تھ برداشت سوسائٹی کی
روح ہوتی ہے، سوسائٹی میں جب برداشت کم ہوجاتی ہے تو مکالمہ کم ہوجاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔
بقول سقراط اختلاف دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے،
یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے
اُس وقت تک معاشرہ
ترقی کرتا ہے ۔۔ لیکن جب مکالمہ یا اختلاف
جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ
انارکی کا شکار ہوجاتا ہے ۔۔
سقراط کہتا تھا :
"اور عالم اُس وقت تک
عالم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں برداشت نہ آجائے، وہ جب تک ہاتھ اور بات میں
فرق نہ رکھے” ----
منقول
" سقراط کی درسگاہ کے اصول "
__________
سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے
خیالات تحمل کے ساتھ
سُنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے..
سقراط کی درسگاہ کا اصول تھا
اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا
یا پھر دوسرے کو
گالی دے دیتا تھا یا
دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درسگاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔
سقراط کا کہنا تھ برداشت سوسائٹی کی
روح ہوتی ہے، سوسائٹی میں جب برداشت کم ہوجاتی ہے تو مکالمہ کم ہوجاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔
بقول سقراط اختلاف دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے،
یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے
اُس وقت تک معاشرہ
ترقی کرتا ہے ۔۔ لیکن جب مکالمہ یا اختلاف
جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ
انارکی کا شکار ہوجاتا ہے ۔۔
سقراط کہتا تھا :
"اور عالم اُس وقت تک
عالم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں برداشت نہ آجائے، وہ جب تک ✋ ہاتھ اور بات میں
فرق نہ رکھے” ----
منقول
0 Comments
0 Shares
142 Views