ریحان اللہ والا
بے شمار مسائل کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کراچی شہر کی حدود متعین نہیں
یہاں پر اور دوسرے بڑے شہروں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی نفی کی جاتی ہے اس لئے مسائل زیادہ ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات کی نفی کی جاتی ہے اس لئے مسائل زیادہ ہیں
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر اور ماحول کو گندہ مت رکھنا کیوں کہ گندگی پھیلانا یہودیوں کا شیوہ ہے
آج ہم یہودی اور یہودی مسلمان لگتے ہیں ہمارا دشمن اسرائیل دنیا کا چھٹا صاف ستھرا ملک ہے
حضرت عمر کا قول ہے کہ شہروں کو بس انکی حدود تک رہنے دو
کراچی تین سو کلیو میٹر میں پھیلا ہوا شہر ہے جبکہ کافر کی کافر ملکوں کا رقبہ کراچی سے بھی شاید کم ہے چھوٹے علاقے کو وہ کمیونٹی کیمپ بنا کر جیتے ہیں کم مسائل ہوتے ہیں اور جلد حل ہو بھی جاتے ہیں
ہم نہ تیتر ہیں نہ بٹیر
یا تو انتظامی معاملات میں
مسلمان بن جانا ہو گا ہمیں یا پھر یہودی
صفائی نصف ایمان ہے
یہ حکم ہم مسلمانوں کے لئے ہے
مگر ہم نے صفائی کے لئے بھنگی رکھے ہوئے ہیں
اصل تو پھر مسلمان بھنگی ہوۓ
ہم پر تو لیبل لگا ہے
مسلوں کا
بحیثیت قوم ہم سب کو بشمول میرے ڈوب مرنا چاہیے کہ جس کافر ملک کو ہم ستر سال سے مانتے ہی نہیں کم از کم صفائی کے معاملے میں تو اس سے اوپر درجے پر رکھ پاتے
مگر ہم ٹھہرے جو مسلمان
کم تولتے
ملاوٹ کرے
جھوٹ بولتے
جب یہ سب ہمارے درمیان ہے
تو گندگی تو
باقی رہے گی
ظاہری بھی
باطنی بھی
معزرت اگر برا لگے کسی کو تو
افسوس
بے شمار مسائل کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کراچی شہر کی حدود متعین نہیں
یہاں پر اور دوسرے بڑے شہروں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی نفی کی جاتی ہے اس لئے مسائل زیادہ ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات کی نفی کی جاتی ہے اس لئے مسائل زیادہ ہیں
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر اور ماحول کو گندہ مت رکھنا کیوں کہ گندگی پھیلانا یہودیوں کا شیوہ ہے
آج ہم یہودی اور یہودی مسلمان لگتے ہیں ہمارا دشمن اسرائیل دنیا کا چھٹا صاف ستھرا ملک ہے
حضرت عمر کا قول ہے کہ شہروں کو بس انکی حدود تک رہنے دو
کراچی تین سو کلیو میٹر میں پھیلا ہوا شہر ہے جبکہ کافر کی کافر ملکوں کا رقبہ کراچی سے بھی شاید کم ہے چھوٹے علاقے کو وہ کمیونٹی کیمپ بنا کر جیتے ہیں کم مسائل ہوتے ہیں اور جلد حل ہو بھی جاتے ہیں
ہم نہ تیتر ہیں نہ بٹیر
یا تو انتظامی معاملات میں
مسلمان بن جانا ہو گا ہمیں یا پھر یہودی
صفائی نصف ایمان ہے
یہ حکم ہم مسلمانوں کے لئے ہے
مگر ہم نے صفائی کے لئے بھنگی رکھے ہوئے ہیں
اصل تو پھر مسلمان بھنگی ہوۓ
ہم پر تو لیبل لگا ہے
مسلوں کا
بحیثیت قوم ہم سب کو بشمول میرے ڈوب مرنا چاہیے کہ جس کافر ملک کو ہم ستر سال سے مانتے ہی نہیں کم از کم صفائی کے معاملے میں تو اس سے اوپر درجے پر رکھ پاتے
مگر ہم ٹھہرے جو مسلمان
کم تولتے
ملاوٹ کرے
جھوٹ بولتے
جب یہ سب ہمارے درمیان ہے
تو گندگی تو
باقی رہے گی
ظاہری بھی
باطنی بھی
معزرت اگر برا لگے کسی کو تو
افسوس
ریحان اللہ والا
بے شمار مسائل کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کراچی شہر کی حدود متعین نہیں
یہاں پر اور دوسرے بڑے شہروں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی نفی کی جاتی ہے اس لئے مسائل زیادہ ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات کی نفی کی جاتی ہے اس لئے مسائل زیادہ ہیں
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر اور ماحول کو گندہ مت رکھنا کیوں کہ گندگی پھیلانا یہودیوں کا شیوہ ہے
آج ہم یہودی اور یہودی مسلمان لگتے ہیں ہمارا دشمن اسرائیل دنیا کا چھٹا صاف ستھرا ملک ہے
حضرت عمر کا قول ہے کہ شہروں کو بس انکی حدود تک رہنے دو
کراچی تین سو کلیو میٹر میں پھیلا ہوا شہر ہے جبکہ کافر کی کافر ملکوں کا رقبہ کراچی سے بھی شاید کم ہے چھوٹے علاقے کو وہ کمیونٹی کیمپ بنا کر جیتے ہیں کم مسائل ہوتے ہیں اور جلد حل ہو بھی جاتے ہیں
ہم نہ تیتر ہیں نہ بٹیر
یا تو انتظامی معاملات میں
مسلمان بن جانا ہو گا ہمیں یا پھر یہودی
صفائی نصف ایمان ہے
یہ حکم ہم مسلمانوں کے لئے ہے
مگر ہم نے صفائی کے لئے بھنگی رکھے ہوئے ہیں
اصل تو پھر مسلمان بھنگی ہوۓ
ہم پر تو لیبل لگا ہے
مسلوں کا
بحیثیت قوم ہم سب کو بشمول میرے ڈوب مرنا چاہیے کہ جس کافر ملک کو ہم ستر سال سے مانتے ہی نہیں کم از کم صفائی کے معاملے میں تو اس سے اوپر درجے پر رکھ پاتے
مگر ہم ٹھہرے جو مسلمان
کم تولتے
ملاوٹ کرے
جھوٹ بولتے
جب یہ سب ہمارے درمیان ہے
تو گندگی تو
باقی رہے گی
ظاہری بھی
باطنی بھی
معزرت اگر برا لگے کسی کو تو
افسوس
0 Comentários
0 Compartilhamentos
22 Visualizações