اسلام وعلیکم ریحان بھائی جان۔
میں نے آپکی زرعی انقلابی ویڈیوز دیکھی ہیں لیکن میں بھی ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور زراعت کے ساتھ ہی پلے بڑھے اور جوان ہوئے ہیں لیکن ایسی کوئی بھی فصل نہیں ہے جو فی ایکڑ فی مہینہ 2 لاکھ یا 1 لاکھ روپے بھی دے۔ہم نے ہمیشہ کپاس کاشت کی ریٹ نہیں ملا نقصان اٹھائے، گندم صرف اپنا خرچہ نکالتی ہے محنت اور وقت الگ ضائع ہوتا ہے۔ہم نے تھک ہار کر آموں کا باغ لگایا اور کچھ زمین پر فالسوں کا باغ۔
اب جا کر کچھ سکون نصیب ہوا ہے اور اچھا فائدہ ہو جاتا ہے۔
اس میں بھی اگر گورنمنٹ 2،3 عرب ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر کے ایکسپورٹ کرے تو کوئی مشکل نہیں پاکستان کا کسان آسودہ زندگی گزار سکے اور وہ بھی کار رکھ سکے، زندگی کا سٹینڈرڈ اچھا گزار سکے۔
دبئی میں لہسن ٹماٹر سے لے پیاز آلو اور تمام فروٹ سبزیاں صرف انڈیا سے آئی ہوئی ہیں باقی چیزیں باقی دنیا سے لیکن پاکستان سے کیوں نہیں؟؟؟؟
یقین کریں اگر ایسا ہو جائے تو ہماری ہر فصل کا ریٹ 200 فیصد تک بڑھ جائے گا اور پاکستان کے بہت ہی محنتی اور قابل کسان رات دن ایک کر دیں گے انشاء اللہ۔
جب معاوضہ ہی نہیں ملتا تو صرف مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
آموں کیلئے ملتان ائیر پورٹ کو سپیشل ڈرائی پورٹ کا درجہ ملنا تھا تاکہ کہ بہت ہی تیزی سے آموں کو ایکسپورٹ کیا جا سکے لیکن کچھ نہ ہوا۔
اسکے علاوہ آموں کیلئے پلپ مشین کروڑوں کی امپورٹ کی تھیں جن میں سے ایک یوسف رضا گیلانی صاحب نے اپنے کھاتے میں ڈالی تھی لیکن پتہ نہیں اسکا کیا بنا ابھی تک تو کوئی پلپ کا پتہ نہ چلا۔
یقین کریں دنیا میں آموں کی شدید ترین مٹھاس صرف ملتان، مظفرگڑھ، رحیم یار خان، خان گڑھ، شجاع آباد وغیرہ کے بلٹ سے زیادہ کہیں نہیں۔
موسمی چونسہ اس کی زبردست مثال ہے اور باقی ورائیٹیاں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
یہ قدرتی طور پر زمین کی کوالٹی کی وجہ سے ہے اور کسی کا کوئی کمال نہیں ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فی مہینہ فی ایکڑ ابھی کوئی فصل نہیں آئی جو 1 لاکھ دے۔
شکریہ
Malik Azhar Hussain Joiya from Dubai
میں نے آپکی زرعی انقلابی ویڈیوز دیکھی ہیں لیکن میں بھی ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور زراعت کے ساتھ ہی پلے بڑھے اور جوان ہوئے ہیں لیکن ایسی کوئی بھی فصل نہیں ہے جو فی ایکڑ فی مہینہ 2 لاکھ یا 1 لاکھ روپے بھی دے۔ہم نے ہمیشہ کپاس کاشت کی ریٹ نہیں ملا نقصان اٹھائے، گندم صرف اپنا خرچہ نکالتی ہے محنت اور وقت الگ ضائع ہوتا ہے۔ہم نے تھک ہار کر آموں کا باغ لگایا اور کچھ زمین پر فالسوں کا باغ۔
اب جا کر کچھ سکون نصیب ہوا ہے اور اچھا فائدہ ہو جاتا ہے۔
اس میں بھی اگر گورنمنٹ 2،3 عرب ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر کے ایکسپورٹ کرے تو کوئی مشکل نہیں پاکستان کا کسان آسودہ زندگی گزار سکے اور وہ بھی کار رکھ سکے، زندگی کا سٹینڈرڈ اچھا گزار سکے۔
دبئی میں لہسن ٹماٹر سے لے پیاز آلو اور تمام فروٹ سبزیاں صرف انڈیا سے آئی ہوئی ہیں باقی چیزیں باقی دنیا سے لیکن پاکستان سے کیوں نہیں؟؟؟؟
یقین کریں اگر ایسا ہو جائے تو ہماری ہر فصل کا ریٹ 200 فیصد تک بڑھ جائے گا اور پاکستان کے بہت ہی محنتی اور قابل کسان رات دن ایک کر دیں گے انشاء اللہ۔
جب معاوضہ ہی نہیں ملتا تو صرف مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
آموں کیلئے ملتان ائیر پورٹ کو سپیشل ڈرائی پورٹ کا درجہ ملنا تھا تاکہ کہ بہت ہی تیزی سے آموں کو ایکسپورٹ کیا جا سکے لیکن کچھ نہ ہوا۔
اسکے علاوہ آموں کیلئے پلپ مشین کروڑوں کی امپورٹ کی تھیں جن میں سے ایک یوسف رضا گیلانی صاحب نے اپنے کھاتے میں ڈالی تھی لیکن پتہ نہیں اسکا کیا بنا ابھی تک تو کوئی پلپ کا پتہ نہ چلا۔
یقین کریں دنیا میں آموں کی شدید ترین مٹھاس صرف ملتان، مظفرگڑھ، رحیم یار خان، خان گڑھ، شجاع آباد وغیرہ کے بلٹ سے زیادہ کہیں نہیں۔
موسمی چونسہ اس کی زبردست مثال ہے اور باقی ورائیٹیاں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
یہ قدرتی طور پر زمین کی کوالٹی کی وجہ سے ہے اور کسی کا کوئی کمال نہیں ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فی مہینہ فی ایکڑ ابھی کوئی فصل نہیں آئی جو 1 لاکھ دے۔
شکریہ
Malik Azhar Hussain Joiya from Dubai
اسلام وعلیکم ریحان بھائی جان۔
میں نے آپکی زرعی انقلابی ویڈیوز دیکھی ہیں لیکن میں بھی ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور زراعت کے ساتھ ہی پلے بڑھے اور جوان ہوئے ہیں لیکن ایسی کوئی بھی فصل نہیں ہے جو فی ایکڑ فی مہینہ 2 لاکھ یا 1 لاکھ روپے بھی دے۔ہم نے ہمیشہ کپاس کاشت کی ریٹ نہیں ملا نقصان اٹھائے، گندم صرف اپنا خرچہ نکالتی ہے محنت اور وقت الگ ضائع ہوتا ہے۔ہم نے تھک ہار کر آموں کا باغ لگایا اور کچھ زمین پر فالسوں کا باغ۔
اب جا کر کچھ سکون نصیب ہوا ہے اور اچھا فائدہ ہو جاتا ہے۔
اس میں بھی اگر گورنمنٹ 2،3 عرب ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر کے ایکسپورٹ کرے تو کوئی مشکل نہیں پاکستان کا کسان آسودہ زندگی گزار سکے اور وہ بھی کار رکھ سکے، زندگی کا سٹینڈرڈ اچھا گزار سکے۔
دبئی میں لہسن ٹماٹر سے لے پیاز آلو اور تمام فروٹ سبزیاں صرف انڈیا سے آئی ہوئی ہیں باقی چیزیں باقی دنیا سے لیکن پاکستان سے کیوں نہیں؟؟؟؟
یقین کریں اگر ایسا ہو جائے تو ہماری ہر فصل کا ریٹ 200 فیصد تک بڑھ جائے گا اور پاکستان کے بہت ہی محنتی اور قابل کسان رات دن ایک کر دیں گے انشاء اللہ۔
جب معاوضہ ہی نہیں ملتا تو صرف مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
آموں کیلئے ملتان ائیر پورٹ کو سپیشل ڈرائی پورٹ کا درجہ ملنا تھا تاکہ کہ بہت ہی تیزی سے آموں کو ایکسپورٹ کیا جا سکے لیکن کچھ نہ ہوا۔
اسکے علاوہ آموں کیلئے پلپ مشین کروڑوں کی امپورٹ کی تھیں جن میں سے ایک یوسف رضا گیلانی صاحب نے اپنے کھاتے میں ڈالی تھی لیکن پتہ نہیں اسکا کیا بنا ابھی تک تو کوئی پلپ کا پتہ نہ چلا۔
یقین کریں دنیا میں آموں کی شدید ترین مٹھاس صرف ملتان، مظفرگڑھ، رحیم یار خان، خان گڑھ، شجاع آباد وغیرہ کے بلٹ سے زیادہ کہیں نہیں۔
موسمی چونسہ اس کی زبردست مثال ہے اور باقی ورائیٹیاں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
یہ قدرتی طور پر زمین کی کوالٹی کی وجہ سے ہے اور کسی کا کوئی کمال نہیں ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فی مہینہ فی ایکڑ ابھی کوئی فصل نہیں آئی جو 1 لاکھ دے۔
شکریہ
Malik Azhar Hussain Joiya from Dubai
0 Σχόλια
0 Μοιράστηκε
68 Views