ریحان بھائی ، ہم دن میں اپنے گھر کی صفائی دو دفعہ کرتے ہیں ، اپنے جسم کی صفائی کم از کم ایک دفعہ کرتے ہیں اپنے دانتوں کی صفائی دو دفعہ کرتے مگر ہم اپنے دماغ کی صفائی کیوں نہیں کرتے ، ہم کسی کو اپنے گھر دفتر میں کوڑا کرکٹ ڈالنے نہیں دیتے مگر بہت سارے لوگ ہمارے دماغ میں کوڑا کرکٹ ڈال جاتے ہیں ہماری آنکھوں کانوں کے ذریعے کیا کیا ہمارے دماغ میں سٹور ہو جاتا ہے جن کو فارمیٹ کرنا نہیں آتا ، ہمارے ساتھ بہت ساری تلخیاں زندہ رہتی ہیں فرض کریں ہم کو ایک زخم ہو جائے اور پھر دوسرا تیسرا چوتھا اور ہم ا ن کو ٹھیک نہ ہونے دیں تو ہمارے جسم کا کیا حال ہو جائے گا ہم ہر روز اپنے زخم کو کرید کر تازہ کر دیں تو کیا وہ ناسور نہیں بن جائے گا ، ایسی طرح بہت سارے لوگوں نے ہمیں بہت سارے زخم دیے ہیں جن کو ہم بھول نہیں سکتے ہر موڑ پر ہر روز یاد کرتے ہیں ان کو دماغ کی میموری سے ڈیلٹ نہیں کرتے تو کیا ہمارے دماغ میں وہ کینسر نہیں بن جاتے ، ہم کو اپنے دماغ کو واش کرنا چاہئے کسی سے معافی مانگ کر اور کسی کو معاف کر کے ،
Sarwar Adil
Sarwar Adil
ریحان بھائی ، ہم دن میں اپنے گھر کی صفائی دو دفعہ کرتے ہیں ، اپنے جسم کی صفائی کم از کم ایک دفعہ کرتے ہیں اپنے دانتوں کی صفائی دو دفعہ کرتے مگر ہم اپنے دماغ کی صفائی کیوں نہیں کرتے ، ہم کسی کو اپنے گھر دفتر میں کوڑا کرکٹ ڈالنے نہیں دیتے مگر بہت سارے لوگ ہمارے دماغ میں کوڑا کرکٹ ڈال جاتے ہیں ہماری آنکھوں کانوں کے ذریعے کیا کیا ہمارے دماغ میں سٹور ہو جاتا ہے جن کو فارمیٹ کرنا نہیں آتا ، ہمارے ساتھ بہت ساری تلخیاں زندہ رہتی ہیں فرض کریں ہم کو ایک زخم ہو جائے اور پھر دوسرا تیسرا چوتھا اور ہم ا ن کو ٹھیک نہ ہونے دیں تو ہمارے جسم کا کیا حال ہو جائے گا ہم ہر روز اپنے زخم کو کرید کر تازہ کر دیں تو کیا وہ ناسور نہیں بن جائے گا ، ایسی طرح بہت سارے لوگوں نے ہمیں بہت سارے زخم دیے ہیں جن کو ہم بھول نہیں سکتے ہر موڑ پر ہر روز یاد کرتے ہیں ان کو دماغ کی میموری سے ڈیلٹ نہیں کرتے تو کیا ہمارے دماغ میں وہ کینسر نہیں بن جاتے ، ہم کو اپنے دماغ کو واش کرنا چاہئے کسی سے معافی مانگ کر اور کسی کو معاف کر کے ،
Sarwar Adil
0 Yorumlar
0 hisse senetleri
19 Views