ایران سے جڑے حالیہ واقعات پر ایک دل دہلا دینے والا مشاہدہ…

پچھلے دو دنوں میں پاکستان کے اندر احتجاج کے دوران جتنے لوگ جان سے گئے ہیں (تقریباً 23 افراد)، وہ تعداد اس سے زیادہ ہے جتنے لوگ ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیل، سعودی عرب، یو اے ای، قطر، کویت اور بحرین سمیت کئی ممالک میں مجموعی طور پر ہلاک ہوئے (تقریباً 20 افراد)۔

سوچنے کی بات ہے…
ہم اکثر دنیا کی سیاست، جنگوں اور عالمی طاقتوں پر بحث کرتے ہیں…
لیکن کیا ہم نے کبھی رک کر یہ سوال پوچھا ہے کہ انسانی جان کی اصل قیمت ہمارے اپنے معاشرے میں کیا رہ گئی ہے؟

جب غصہ سڑکوں پر آتا ہے…
جب جذبات عقل پر غالب آ جاتے ہیں…
جب اختلاف بات چیت سے نہیں بلکہ تصادم سے حل کیا جاتا ہے…
تو سب سے پہلے مرتا کون ہے؟

نہ لیڈر…
نہ فیصلے کرنے والے…
بلکہ عام انسان۔

ایک باپ…
ایک بیٹا…
ایک بھائی…
ایک مزدور…
ایک طالب علم۔

دنیا میں کہیں میزائل گرتے ہیں، کہیں احتجاج بھڑکتے ہیں —
لیکن آخر میں زمین پر گرنے والا ہر جسم ایک انسان کا ہوتا ہے۔

شاید ہمیں بطور قوم یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ
اختلاف ہو سکتا ہے…
جذبہ بھی ہو سکتا ہے…
لیکن انسانی جان سے بڑھ کر کوئی نظریہ نہیں ہونا چاہیے۔

اللہ ہمیں وہ معاشرہ بنانے کی توفیق دے
جہاں غصے سے پہلے عقل آئے
اور سیاست سے پہلے انسانیت۔

تحریر: فرظل دوجکی (Farzal Ali Dojki)
ایران سے جڑے حالیہ واقعات پر ایک دل دہلا دینے والا مشاہدہ… پچھلے دو دنوں میں پاکستان کے اندر احتجاج کے دوران جتنے لوگ جان سے گئے ہیں (تقریباً 23 افراد)، وہ تعداد اس سے زیادہ ہے جتنے لوگ ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیل، سعودی عرب، یو اے ای، قطر، کویت اور بحرین سمیت کئی ممالک میں مجموعی طور پر ہلاک ہوئے (تقریباً 20 افراد)۔ سوچنے کی بات ہے… ہم اکثر دنیا کی سیاست، جنگوں اور عالمی طاقتوں پر بحث کرتے ہیں… لیکن کیا ہم نے کبھی رک کر یہ سوال پوچھا ہے کہ انسانی جان کی اصل قیمت ہمارے اپنے معاشرے میں کیا رہ گئی ہے؟ جب غصہ سڑکوں پر آتا ہے… جب جذبات عقل پر غالب آ جاتے ہیں… جب اختلاف بات چیت سے نہیں بلکہ تصادم سے حل کیا جاتا ہے… تو سب سے پہلے مرتا کون ہے؟ نہ لیڈر… نہ فیصلے کرنے والے… بلکہ عام انسان۔ ایک باپ… ایک بیٹا… ایک بھائی… ایک مزدور… ایک طالب علم۔ دنیا میں کہیں میزائل گرتے ہیں، کہیں احتجاج بھڑکتے ہیں — لیکن آخر میں زمین پر گرنے والا ہر جسم ایک انسان کا ہوتا ہے۔ شاید ہمیں بطور قوم یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اختلاف ہو سکتا ہے… جذبہ بھی ہو سکتا ہے… لیکن انسانی جان سے بڑھ کر کوئی نظریہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ ہمیں وہ معاشرہ بنانے کی توفیق دے جہاں غصے سے پہلے عقل آئے اور سیاست سے پہلے انسانیت۔ ✍️ تحریر: فرظل دوجکی (Farzal Ali Dojki)
0 Comentários 0 Compartilhamentos 200 Visualizações