ایک دن میں چاند پہ بیٹھا
تاروں سے میں باتیں کرتا
نیچے پیاری سی زمین تھی
جیسے کوئی گول سا گھر تھا۔
[Verse 1]
میں نے دیکھا نیچے جھانک کے
لوگ تھے ہنستے کھیلتے
کوئی روٹی بانٹ رہا تھا
کوئی خواب نئے بُن لیتے۔
ڈھونڈا میں نے نام بہت سے
پر کچھ بھی سمجھ نہ آیا
نہ کوئی ملک نظر آیا
نہ کوئی فرق دکھایا۔
[Chorus]
ہم سب ایک زمین کے بچے
ہم سب ایک کہانی ہیں
رنگ الگ ہوں نام الگ ہوں
دل سے سب انسان ہی ہیں۔
چاند سے جب دنیا دیکھو
سب اپنا لگتا ہے
ہاتھ پکڑ لو ایک دوسرے کا
دل خوش رہتا ہے۔
[Verse 2]
نہ پاکستانی دکھا کوئی
نہ کوئی ہندوستانی
نہ امریکی نہ ایرانی
بس تھی دنیا پیاری سی۔
کوئی ہنستا کوئی گاتا
کوئی ماں کو یاد کرتا
سب کے دل میں ایک جیسا
پیار ہی پیار دھڑکتا۔
[Chorus]
ہم سب ایک زمین کے بچے
ہم سب دوست پرانے ہیں
لڑنا جھگڑا چھوڑ کے آؤ
مل کر گیت سنانے ہیں۔
[Outro]
چاند نے مجھ سے یہ کہا
نیچے جا کے سب کو کہنا
زمین سب کا گھر ہے پیارا
مل جل کر ہی ر
تاروں سے میں باتیں کرتا
نیچے پیاری سی زمین تھی
جیسے کوئی گول سا گھر تھا۔
[Verse 1]
میں نے دیکھا نیچے جھانک کے
لوگ تھے ہنستے کھیلتے
کوئی روٹی بانٹ رہا تھا
کوئی خواب نئے بُن لیتے۔
ڈھونڈا میں نے نام بہت سے
پر کچھ بھی سمجھ نہ آیا
نہ کوئی ملک نظر آیا
نہ کوئی فرق دکھایا۔
[Chorus]
ہم سب ایک زمین کے بچے
ہم سب ایک کہانی ہیں
رنگ الگ ہوں نام الگ ہوں
دل سے سب انسان ہی ہیں۔
چاند سے جب دنیا دیکھو
سب اپنا لگتا ہے
ہاتھ پکڑ لو ایک دوسرے کا
دل خوش رہتا ہے۔
[Verse 2]
نہ پاکستانی دکھا کوئی
نہ کوئی ہندوستانی
نہ امریکی نہ ایرانی
بس تھی دنیا پیاری سی۔
کوئی ہنستا کوئی گاتا
کوئی ماں کو یاد کرتا
سب کے دل میں ایک جیسا
پیار ہی پیار دھڑکتا۔
[Chorus]
ہم سب ایک زمین کے بچے
ہم سب دوست پرانے ہیں
لڑنا جھگڑا چھوڑ کے آؤ
مل کر گیت سنانے ہیں۔
[Outro]
چاند نے مجھ سے یہ کہا
نیچے جا کے سب کو کہنا
زمین سب کا گھر ہے پیارا
مل جل کر ہی ر
ایک دن میں چاند پہ بیٹھا
تاروں سے میں باتیں کرتا
نیچے پیاری سی زمین تھی
جیسے کوئی گول سا گھر تھا۔
[Verse 1]
میں نے دیکھا نیچے جھانک کے
لوگ تھے ہنستے کھیلتے
کوئی روٹی بانٹ رہا تھا
کوئی خواب نئے بُن لیتے۔
ڈھونڈا میں نے نام بہت سے
پر کچھ بھی سمجھ نہ آیا
نہ کوئی ملک نظر آیا
نہ کوئی فرق دکھایا۔
[Chorus]
ہم سب ایک زمین کے بچے
ہم سب ایک کہانی ہیں
رنگ الگ ہوں نام الگ ہوں
دل سے سب انسان ہی ہیں۔
چاند سے جب دنیا دیکھو
سب اپنا لگتا ہے
ہاتھ پکڑ لو ایک دوسرے کا
دل خوش رہتا ہے۔
[Verse 2]
نہ پاکستانی دکھا کوئی
نہ کوئی ہندوستانی
نہ امریکی نہ ایرانی
بس تھی دنیا پیاری سی۔
کوئی ہنستا کوئی گاتا
کوئی ماں کو یاد کرتا
سب کے دل میں ایک جیسا
پیار ہی پیار دھڑکتا۔
[Chorus]
ہم سب ایک زمین کے بچے
ہم سب دوست پرانے ہیں
لڑنا جھگڑا چھوڑ کے آؤ
مل کر گیت سنانے ہیں۔
[Outro]
چاند نے مجھ سے یہ کہا
نیچے جا کے سب کو کہنا
زمین سب کا گھر ہے پیارا
مل جل کر ہی ر
0 Commentarii
0 Distribuiri
227 Views