چاند کی تنہائی سے زمین کو دیکھتا ہوا



میں آج چاند پر بیٹھا ہوں…
خاموشی کے ایک ایسے سمندر میں
جہاں نہ شور ہے، نہ سرحدوں کی لکیریں۔

نیچے زمین گھوم رہی ہے…
نیلی، سفید، سبز…
بالکل ایک ماں کی طرح
جو اپنے سب بچوں کو ایک ساتھ سینے سے لگائے ہوئے ہے۔

میں نے بہت غور سے دیکھا…
مگر مجھے کہیں کوئی پٹھان نظر نہیں آیا،
نہ کوئی افغانی،
نہ پاکستانی،
نہ ہندوستانی۔

میں نے اور قریب جھانکا…
نہ کوئی امریکی تھا،
نہ ایرانی،
نہ مشرق، نہ مغرب۔

بس انسان تھے…
سانس لیتے ہوئے،
خواب دیکھتے ہوئے،
محبت ڈھونڈتے ہوئے انسان۔

چاند سے دیکھو تو
سرحدیں نظر نہیں آتیں…
وہ صرف نقشوں پر بنتی ہیں،
دلوں پر نہیں۔

یہاں اوپر سے
کوئی ویزا نہیں مانگتا،
کوئی مذہب نہیں پوچھتا،
کوئی زبان پر فیصلہ نہیں کرتا۔

صرف ایک زمین ہے…
اور آٹھ ارب دھڑکتے ہوئے دل۔

مجھے حیرت ہوئی…
نیچے لوگ کیوں لڑ رہے ہیں؟
کس بات پر؟
اس مٹی کے ٹکڑے پر
جو خلا میں ایک نقطے سے زیادہ بھی نہیں۔

اگر تم کبھی غصے میں آؤ…
تو ذرا تصور کرنا
کہ تم بھی میرے ساتھ چاند پر بیٹھے ہو۔

پھر نیچے دیکھنا…
اور خود سے پوچھنا:

کیا واقعی ہم اتنے مختلف ہیں؟

یا ہم سب
ایک ہی کہانی کے کردار ہیں…
جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں؟

یہ زمین…
میرا بھی گھر ہے،
تمہارا بھی۔

اور شاید
اللہ نے ہمیں قوموں میں اس لیے نہیں بنایا
کہ ہم دیواریں کھڑی کریں…
بلکہ اس لیے
کہ ہم ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔

چاند خاموش ہے…
زمین گھوم رہی ہے…
اور میں سوچ رہا ہوں—

کاش
نیچے رہنے والے بھی
کبھی اوپر آ کر دیکھ سکیں۔
چاند کی تنہائی سے زمین کو دیکھتا ہوا ⸻ میں آج چاند پر بیٹھا ہوں… خاموشی کے ایک ایسے سمندر میں جہاں نہ شور ہے، نہ سرحدوں کی لکیریں۔ نیچے زمین گھوم رہی ہے… نیلی، سفید، سبز… بالکل ایک ماں کی طرح جو اپنے سب بچوں کو ایک ساتھ سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ میں نے بہت غور سے دیکھا… مگر مجھے کہیں کوئی پٹھان نظر نہیں آیا، نہ کوئی افغانی، نہ پاکستانی، نہ ہندوستانی۔ میں نے اور قریب جھانکا… نہ کوئی امریکی تھا، نہ ایرانی، نہ مشرق، نہ مغرب۔ بس انسان تھے… سانس لیتے ہوئے، خواب دیکھتے ہوئے، محبت ڈھونڈتے ہوئے انسان۔ چاند سے دیکھو تو سرحدیں نظر نہیں آتیں… وہ صرف نقشوں پر بنتی ہیں، دلوں پر نہیں۔ یہاں اوپر سے کوئی ویزا نہیں مانگتا، کوئی مذہب نہیں پوچھتا، کوئی زبان پر فیصلہ نہیں کرتا۔ صرف ایک زمین ہے… اور آٹھ ارب دھڑکتے ہوئے دل۔ مجھے حیرت ہوئی… نیچے لوگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ کس بات پر؟ اس مٹی کے ٹکڑے پر جو خلا میں ایک نقطے سے زیادہ بھی نہیں۔ اگر تم کبھی غصے میں آؤ… تو ذرا تصور کرنا کہ تم بھی میرے ساتھ چاند پر بیٹھے ہو۔ پھر نیچے دیکھنا… اور خود سے پوچھنا: کیا واقعی ہم اتنے مختلف ہیں؟ یا ہم سب ایک ہی کہانی کے کردار ہیں… جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں؟ یہ زمین… میرا بھی گھر ہے، تمہارا بھی۔ اور شاید اللہ نے ہمیں قوموں میں اس لیے نہیں بنایا کہ ہم دیواریں کھڑی کریں… بلکہ اس لیے کہ ہم ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ چاند خاموش ہے… زمین گھوم رہی ہے… اور میں سوچ رہا ہوں— کاش نیچے رہنے والے بھی کبھی اوپر آ کر دیکھ سکیں۔ 🌍🌙
0 Comments 0 Shares 227 Views