ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا یہ شکائت اکثر کاروباری کرتے ہیں، مسائل اور حل کیا ہیں؟

کیا واقعی ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا، یا ہم اچھا سٹاف برداشت ہی نہیں کر سکتے؟ یہ سوال ذرا کڑوا ہے مگر سچ یہی سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان ہی نہیں، انڈیا اور دنیا بھر کے کاروبار ایک ہی مسئلے سے گزرتے ہیں، مگر صرف وہی آگے نکلتے ہیں جو اس حقیقت کو مان لیتے ہیں کہ مارکیٹ میں ٹیلنٹ نایاب نہیں، درست ماحول نایاب ہے۔ اگر جاپان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری دیکھیں تو وہاں فیکٹری میں کام کرنے والا مزدور بھی پندرہ بیس سال ایک ہی کمپنی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایک لڑکا دو مہینے میں کہتا ہے کہ کہیں اور زیادہ پیسے مل رہے ہیں، سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ آپ نے اسے کیوں رکنے کی کوئی وجہ دی یا نہیں؟ پاکستان میں نجی شعبے میں اوسط ملازم کی مدت ایک سے ڈیڑھ سال ہے، یہ ڈیٹا جذباتی نہیں، حقیقت ہے، اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر دو سال بعد پورا کاروبار نئے لوگوں کے کندھوں پر اٹھایا جا سکتا ہے؟
اصلاحی مشق:
آج ہی کاغذ پر لکھیں کہ آپ کے کاروبار میں پچھلے تین سال میں کتنے لوگ آئے اور کتنے گئے۔
پھر اپنے آپ سے ایک ایماندار سوال لکھیں کہ ان میں سے کتنے واقعی سیکھ کر بہتر ہوئے، اور کتنے صرف وقت گزار کر نکل گئے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ سٹاف ذمہ دار نہیں، مگر یہ کم ہی پوچھتے ہیں کہ ہم نے ذمہ داری کبھی واضح بھی کی؟ انڈیا کی آئی ٹی انڈسٹری اس لیے نہیں چلی کہ وہاں سب لوگ جینیس ہیں، بلکہ اس لیے چلی کہ ہر بندے کو پہلے دن یہ پتہ ہوتا ہے کہ اس سے کیا مانگا جائے گا اور اگلے چھ مہینے میں اس کا معیار کیا ہو گا۔ ہمارے ہاں اکثر کاروباروں میں جاب ڈسکرپشن زبانی ہوتی ہے، آج یہ کام، کل وہ کام، پرسوں بالکل نیا حکم، پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بندہ کنفیوژ کیوں ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جن کمپنیوں میں تحریری ذمہ داریاں اور سادہ طریقہ کار ہوتا ہے وہاں پیداواری صلاحیت تیس سے چالیس فیصد زیادہ ہوتی ہے، تو مسئلہ بندے کی نیت کا ہے یا نظام کی کمی کا؟
اصلاحی مشق:
اپنے ہر اہم عہدے کے لیے ایک صفحے پر ذمہ داریاں لکھیں، موبائل پر نہیں، کاغذ پر۔
اگلے سات دن وہی لکھا ہوا عملے کو پڑھ کر سنائیں اور دیکھیں کہاں کہاں سوال اٹھتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ نوجوان سیکھنا نہیں چاہتے، مگر کیا ہم نے سکھانے کا وقت کبھی دیا؟ دنیا کی بڑی فیکٹریاں، چاہے جرمنی کی ہوں یا چین کی، ہر نئے ملازم کو ابتدائی تربیت دیتی ہیں، چاہے وہ کلینر ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ہاں پہلا دن ہی میدان میں پھینک دیا جاتا ہے، اور پھر غصہ آتا ہے کہ غلطی کیوں ہوئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق تربیت پر خرچ کیا گیا ہر ایک روپیہ، تین سے پانچ روپے کی صورت میں واپس آتا ہے، مگر ہم اسے خرچ سمجھتے ہیں، سرمایہ کاری نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بغیر سکھائے ہم کس بنیاد پر معیار مانگ رہے ہیں؟
اصلاحی مشق:
اگلے دس دنوں میں اپنے کاروبار کا ایک بنیادی کام منتخب کریں اور اس کی تربیت کا سادہ طریقہ لکھیں۔
پھر وہی طریقہ ایک نئے بندے کو سکھائیں اور اس عمل میں اپنی زبان، لہجہ اور صبر کا جائزہ لیں۔

اکثر مالکان کہتے ہیں کہ سٹاف وفادار نہیں، مگر وفاداری خوف سے نہیں، مستقبل سے جڑتی ہے۔ امریکا کی ریٹیل کمپنیاں صرف تنخواہ نہیں دیتیں، وہ آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہیں، اسی لیے لوگ سالہا سال جمے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بندہ پوچھے کہ آگے کیا ہو گا تو جواب ملتا ہے کہ کام ٹھیک کرو بس، کوئی اسکیل، کوئی اگلا قدم واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان پیسے سے نہیں، سمت سے جڑتا ہے، تو کیا ہم نے کبھی اپنے عملے کو بتایا کہ یہاں رہنے سے وہ دو سال بعد کیا بن سکتا ہے؟
اصلاحی مشق:
ہر اہم ملازم سے الگ بیٹھ کر بات کریں اور اگلے ایک سال کا ایک ممکنہ راستہ کاغذ پر بنائیں۔
یہ وعدہ نہیں، امکان ہو، اور خود دیکھیں کہ بات کرنے کے بعد اس کے رویے میں کیا فرق آتا ہے۔

ہم اکثر تنخواہ کم ہونے کا رونا روتے ہیں، مگر مارکیٹ دیکھے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی کام کی اجرت میں بیس سے تیس فیصد فرق پایا جاتا ہے، یہ ڈیٹا کھلا راز ہے۔ اگر آپ مارکیٹ سے کم دے رہے ہیں تو اچھے لوگ رکیں گے کیسے؟ دنیا بھر میں اصول ایک ہی ہے، یا تو مارکیٹ کے برابر دیں، یا ماحول اور سیکھنے میں اتنا آگے ہوں کہ بندہ فرق قبول کر لے، سوال یہ ہے کہ ہم نے کون سا آپشن چنا ہے؟
اصلاحی مشق:
آج ہی اپنی انڈسٹری میں اسی عہدے کی تین تنخواہیں معلوم کریں۔
پھر فیصلہ کریں کہ آپ پیسے سے مقابلہ کریں گے یا نظام اور سیکھنے سے، اور اس پر قائم رہیں۔

ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات مسئلہ سٹاف نہیں، ہمارا اپنا رویہ ہوتا ہے۔ گلوبل بزنس اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ خراب مینیجر کے نیچے لوگ، اچھی تنخواہ کے باوجود، چھ ماہ میں نوکری چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر روز ڈانٹ، تحقیر یا غیر یقینی ہو تو بہترین بندہ بھی کند ہو جاتا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم لیڈر ہیں یا صرف حکم دینے والے؟
اصلاحی مشق:
اپنے پچھلے ہفتے کی گفتگو یاد کر کے لکھیں کہ کتنی بار تعریف کی اور کتنی بار غصہ۔
پھر اگلے ہفتے جان بوجھ کر دو اچھی باتیں بولیں اور اثر خود دیکھیں۔

ہم یہ بھی ماننے سے کتراتے ہیں کہ ہر بندہ ہر جگہ فٹ نہیں ہوتا۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں بھرتی میں وقت لگاتی ہیں کیونکہ غلط بندہ پورے نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں جلدی میں فیصلہ ہو جاتا ہے، پھر شکایت بھی جلدی آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک غلط بھرتی کی لاگت، تنخواہ سے دو گنا زیادہ ہوتی ہے، کیا ہم نے کبھی اس قیمت کا حساب لگایا؟
اصلاحی مشق:
آئندہ کسی کو رکھیں تو ایک دن کا آزمائشی کام ضرور کروائیں۔
فیصلہ رفتار سے نہیں، مشاہدے سے کریں، چاہے انتظار کرنا پڑے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ آج کل لوگ محنتی نہیں، مگر کیا ہم نے کام کو قابلِ فہم بنایا؟ جاپان کی سادہ لائن سسٹم ہو یا یورپ کی فیکٹریاں، ہر کام چھوٹے حصوں میں واضح ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک بندے پر دس ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں، پھر کہتے ہیں کہ فوکس نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے پیچیدگی کم کی یا بڑھائی؟
اصلاحی مشق:
اپنے کاروبار کا ایک اہم کام لیں اور اسے تین سادہ مرحلوں میں توڑیں۔
یہ مرحلے عملے کے سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ غلطی کہاں کم ہوتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اچھا سٹاف نہیں ملتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اچھا سٹاف بنانا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ دنیا بھر میں مضبوط کاروبار وہی ہیں جو سسٹم سے انسان بناتے ہیں، انسانوں پر سسٹم نہیں لادتے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر ثابت شدہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی شکایت چھوڑ کر ذمہ داری لینے کو تیار ہیں؟
اصلاحی مشق:
اپنے کاروبار کا ایک کمزور شعبہ منتخب کریں اور یہ لکھیں کہ وہ بندے سے چل رہا ہے یا طریقے سے۔
اگلے تیس دن میں کم از کم ایک کام بندے کے بجائے طریقے کے تحت لانے کا وعدہ خود سے کریں۔

Via Shahid Hussain Joia
ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا یہ شکائت اکثر کاروباری کرتے ہیں، مسائل اور حل کیا ہیں؟ کیا واقعی ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا، یا ہم اچھا سٹاف برداشت ہی نہیں کر سکتے؟ یہ سوال ذرا کڑوا ہے مگر سچ یہی سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان ہی نہیں، انڈیا اور دنیا بھر کے کاروبار ایک ہی مسئلے سے گزرتے ہیں، مگر صرف وہی آگے نکلتے ہیں جو اس حقیقت کو مان لیتے ہیں کہ مارکیٹ میں ٹیلنٹ نایاب نہیں، درست ماحول نایاب ہے۔ اگر جاپان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری دیکھیں تو وہاں فیکٹری میں کام کرنے والا مزدور بھی پندرہ بیس سال ایک ہی کمپنی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایک لڑکا دو مہینے میں کہتا ہے کہ کہیں اور زیادہ پیسے مل رہے ہیں، سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ آپ نے اسے کیوں رکنے کی کوئی وجہ دی یا نہیں؟ پاکستان میں نجی شعبے میں اوسط ملازم کی مدت ایک سے ڈیڑھ سال ہے، یہ ڈیٹا جذباتی نہیں، حقیقت ہے، اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر دو سال بعد پورا کاروبار نئے لوگوں کے کندھوں پر اٹھایا جا سکتا ہے؟ اصلاحی مشق: آج ہی کاغذ پر لکھیں کہ آپ کے کاروبار میں پچھلے تین سال میں کتنے لوگ آئے اور کتنے گئے۔ پھر اپنے آپ سے ایک ایماندار سوال لکھیں کہ ان میں سے کتنے واقعی سیکھ کر بہتر ہوئے، اور کتنے صرف وقت گزار کر نکل گئے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ سٹاف ذمہ دار نہیں، مگر یہ کم ہی پوچھتے ہیں کہ ہم نے ذمہ داری کبھی واضح بھی کی؟ انڈیا کی آئی ٹی انڈسٹری اس لیے نہیں چلی کہ وہاں سب لوگ جینیس ہیں، بلکہ اس لیے چلی کہ ہر بندے کو پہلے دن یہ پتہ ہوتا ہے کہ اس سے کیا مانگا جائے گا اور اگلے چھ مہینے میں اس کا معیار کیا ہو گا۔ ہمارے ہاں اکثر کاروباروں میں جاب ڈسکرپشن زبانی ہوتی ہے، آج یہ کام، کل وہ کام، پرسوں بالکل نیا حکم، پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بندہ کنفیوژ کیوں ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جن کمپنیوں میں تحریری ذمہ داریاں اور سادہ طریقہ کار ہوتا ہے وہاں پیداواری صلاحیت تیس سے چالیس فیصد زیادہ ہوتی ہے، تو مسئلہ بندے کی نیت کا ہے یا نظام کی کمی کا؟ اصلاحی مشق: اپنے ہر اہم عہدے کے لیے ایک صفحے پر ذمہ داریاں لکھیں، موبائل پر نہیں، کاغذ پر۔ اگلے سات دن وہی لکھا ہوا عملے کو پڑھ کر سنائیں اور دیکھیں کہاں کہاں سوال اٹھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ نوجوان سیکھنا نہیں چاہتے، مگر کیا ہم نے سکھانے کا وقت کبھی دیا؟ دنیا کی بڑی فیکٹریاں، چاہے جرمنی کی ہوں یا چین کی، ہر نئے ملازم کو ابتدائی تربیت دیتی ہیں، چاہے وہ کلینر ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ہاں پہلا دن ہی میدان میں پھینک دیا جاتا ہے، اور پھر غصہ آتا ہے کہ غلطی کیوں ہوئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق تربیت پر خرچ کیا گیا ہر ایک روپیہ، تین سے پانچ روپے کی صورت میں واپس آتا ہے، مگر ہم اسے خرچ سمجھتے ہیں، سرمایہ کاری نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بغیر سکھائے ہم کس بنیاد پر معیار مانگ رہے ہیں؟ اصلاحی مشق: اگلے دس دنوں میں اپنے کاروبار کا ایک بنیادی کام منتخب کریں اور اس کی تربیت کا سادہ طریقہ لکھیں۔ پھر وہی طریقہ ایک نئے بندے کو سکھائیں اور اس عمل میں اپنی زبان، لہجہ اور صبر کا جائزہ لیں۔ اکثر مالکان کہتے ہیں کہ سٹاف وفادار نہیں، مگر وفاداری خوف سے نہیں، مستقبل سے جڑتی ہے۔ امریکا کی ریٹیل کمپنیاں صرف تنخواہ نہیں دیتیں، وہ آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہیں، اسی لیے لوگ سالہا سال جمے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بندہ پوچھے کہ آگے کیا ہو گا تو جواب ملتا ہے کہ کام ٹھیک کرو بس، کوئی اسکیل، کوئی اگلا قدم واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان پیسے سے نہیں، سمت سے جڑتا ہے، تو کیا ہم نے کبھی اپنے عملے کو بتایا کہ یہاں رہنے سے وہ دو سال بعد کیا بن سکتا ہے؟ اصلاحی مشق: ہر اہم ملازم سے الگ بیٹھ کر بات کریں اور اگلے ایک سال کا ایک ممکنہ راستہ کاغذ پر بنائیں۔ یہ وعدہ نہیں، امکان ہو، اور خود دیکھیں کہ بات کرنے کے بعد اس کے رویے میں کیا فرق آتا ہے۔ ہم اکثر تنخواہ کم ہونے کا رونا روتے ہیں، مگر مارکیٹ دیکھے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی کام کی اجرت میں بیس سے تیس فیصد فرق پایا جاتا ہے، یہ ڈیٹا کھلا راز ہے۔ اگر آپ مارکیٹ سے کم دے رہے ہیں تو اچھے لوگ رکیں گے کیسے؟ دنیا بھر میں اصول ایک ہی ہے، یا تو مارکیٹ کے برابر دیں، یا ماحول اور سیکھنے میں اتنا آگے ہوں کہ بندہ فرق قبول کر لے، سوال یہ ہے کہ ہم نے کون سا آپشن چنا ہے؟ اصلاحی مشق: آج ہی اپنی انڈسٹری میں اسی عہدے کی تین تنخواہیں معلوم کریں۔ پھر فیصلہ کریں کہ آپ پیسے سے مقابلہ کریں گے یا نظام اور سیکھنے سے، اور اس پر قائم رہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات مسئلہ سٹاف نہیں، ہمارا اپنا رویہ ہوتا ہے۔ گلوبل بزنس اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ خراب مینیجر کے نیچے لوگ، اچھی تنخواہ کے باوجود، چھ ماہ میں نوکری چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر روز ڈانٹ، تحقیر یا غیر یقینی ہو تو بہترین بندہ بھی کند ہو جاتا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم لیڈر ہیں یا صرف حکم دینے والے؟ اصلاحی مشق: اپنے پچھلے ہفتے کی گفتگو یاد کر کے لکھیں کہ کتنی بار تعریف کی اور کتنی بار غصہ۔ پھر اگلے ہفتے جان بوجھ کر دو اچھی باتیں بولیں اور اثر خود دیکھیں۔ ہم یہ بھی ماننے سے کتراتے ہیں کہ ہر بندہ ہر جگہ فٹ نہیں ہوتا۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں بھرتی میں وقت لگاتی ہیں کیونکہ غلط بندہ پورے نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں جلدی میں فیصلہ ہو جاتا ہے، پھر شکایت بھی جلدی آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک غلط بھرتی کی لاگت، تنخواہ سے دو گنا زیادہ ہوتی ہے، کیا ہم نے کبھی اس قیمت کا حساب لگایا؟ اصلاحی مشق: آئندہ کسی کو رکھیں تو ایک دن کا آزمائشی کام ضرور کروائیں۔ فیصلہ رفتار سے نہیں، مشاہدے سے کریں، چاہے انتظار کرنا پڑے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ آج کل لوگ محنتی نہیں، مگر کیا ہم نے کام کو قابلِ فہم بنایا؟ جاپان کی سادہ لائن سسٹم ہو یا یورپ کی فیکٹریاں، ہر کام چھوٹے حصوں میں واضح ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک بندے پر دس ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں، پھر کہتے ہیں کہ فوکس نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے پیچیدگی کم کی یا بڑھائی؟ اصلاحی مشق: اپنے کاروبار کا ایک اہم کام لیں اور اسے تین سادہ مرحلوں میں توڑیں۔ یہ مرحلے عملے کے سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ غلطی کہاں کم ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اچھا سٹاف نہیں ملتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اچھا سٹاف بنانا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ دنیا بھر میں مضبوط کاروبار وہی ہیں جو سسٹم سے انسان بناتے ہیں، انسانوں پر سسٹم نہیں لادتے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر ثابت شدہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی شکایت چھوڑ کر ذمہ داری لینے کو تیار ہیں؟ اصلاحی مشق: اپنے کاروبار کا ایک کمزور شعبہ منتخب کریں اور یہ لکھیں کہ وہ بندے سے چل رہا ہے یا طریقے سے۔ اگلے تیس دن میں کم از کم ایک کام بندے کے بجائے طریقے کے تحت لانے کا وعدہ خود سے کریں۔ Via Shahid Hussain Joia
0 Comments 0 Shares 151 Views