،،،،،، ایک باپ کی گواہی ،،،،،،
ایک روشن مستقبل کی امید
کافی عرصے سے میں ریحان اللہ والا صاحب کی ویڈیوز وقتاً فوقتاً دیکھتا رہا۔
دیکھتا نہیں تھا، بلکہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔
سوچتا تھا کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا؟
ہمارے بچوں کا مستقبل کس طرف جا رہا ہے؟
اور کیا ہماری روایتی تعلیم واقعی آنے والے ڈیجیٹل اور AI کے دور کے لیے کافی ہے؟
پھر ایک دن دل نے کہا:
صرف سننے سے کچھ نہیں بدلے گا،
اب قدم اٹھانے کا وقت ہے۔
الحمدللہ!
میں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو مریم اسماعیل مدرسہ اینڈ اکیڈمی (ریحان اللہ والا اسکول سسٹم) میں داخل کروا دیا۔
آج الحمدللہ دو ہفتے مکمل ہونے والے ہیں ، اور یہ دو ہفتے میرے لیے ایک باپ کی حیثیت سے بے حد اطمینان لے کر آئے ہیں۔
میرے بچے خوش ہیں…
واقعی خوش ہیں۔
روز صبح ساڑھے آٹھ بجے شوق سے اسکول جاتی ہیں،
اور شام پانچ بجے میں خود لینے جاتا ہوں۔
راستے میں ابھی چند قدم ہی چلتے ہیں کہ تینوں ایک ساتھ بول پڑتی ہیں:

“ابو آج ہم نے یہ سیکھا!”
“نہیں ابو پہلے میں بتاؤں گی!”
“نہیں پہلے میں!”

تینوں کی آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں،
اور میں مسکرا کر کہتا ہوں:
“اچھا ٹھہرو… باری باری بتانا”
اس لمحے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ:
تعلیم بوجھ نہیں رہی
سیکھنا خوشی بن گیا ہے
علم اب شوق سے حاصل ہو رہا ہے
یہ وہ نظامِ تعلیم ہے جہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں، پُراعتماد ہیں
جہاں سوال کرنا جرم نہیں
جہاں آنے والے کل کے لیے سوچنے والے ذہن تیار کیے جا رہے ہیں۔
میں دل کی گہرائی سے
اہلِ علاقہ، اہلِ کراچی اور اہلِ پاکستان سے گزارش کرتا ہوں:
اگر آپ واقعی اپنے بچوں کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں،
تو اس نظامِ تعلیم کو ضرور دیکھیں، ضرور سمجھیں۔
ان شاء اللہ، ان شاء اللہ
چھ مہینے کے اندر آپ خود اپنے بچوں کے رویّے، سوچ اور سیکھنے میں واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔
آخر میں دل سے دعا ہے ،،،

اللہ تعالیٰ ریحان اللہ والا صاحب کو صحت، ہمت اور استقامت عطا فرمائے،
ان کی اس تعلیمی جدوجہد کو قبول فرمائے،
اور ان کے ذریعے پاکستان کے بچوں کو ایسا مستقبل دے
جس میں علم بھی ہو، کردار بھی، اور خودداری بھی۔
آمین یا رب العالمین
، ایک شکر گزار باپ

Abdul Malik Amb
،،،،،، ایک باپ کی گواہی ،،،،،، ایک روشن مستقبل کی امید کافی عرصے سے میں ریحان اللہ والا صاحب کی ویڈیوز وقتاً فوقتاً دیکھتا رہا۔ دیکھتا نہیں تھا، بلکہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ سوچتا تھا کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا؟ ہمارے بچوں کا مستقبل کس طرف جا رہا ہے؟ اور کیا ہماری روایتی تعلیم واقعی آنے والے ڈیجیٹل اور AI کے دور کے لیے کافی ہے؟ پھر ایک دن دل نے کہا: صرف سننے سے کچھ نہیں بدلے گا، اب قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ الحمدللہ! میں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو مریم اسماعیل مدرسہ اینڈ اکیڈمی (ریحان اللہ والا اسکول سسٹم) میں داخل کروا دیا۔ آج الحمدللہ دو ہفتے مکمل ہونے والے ہیں ، اور یہ دو ہفتے میرے لیے ایک باپ کی حیثیت سے بے حد اطمینان لے کر آئے ہیں۔ میرے بچے خوش ہیں… واقعی خوش ہیں۔ روز صبح ساڑھے آٹھ بجے شوق سے اسکول جاتی ہیں، اور شام پانچ بجے میں خود لینے جاتا ہوں۔ راستے میں ابھی چند قدم ہی چلتے ہیں کہ تینوں ایک ساتھ بول پڑتی ہیں: “ابو آج ہم نے یہ سیکھا!” “نہیں ابو پہلے میں بتاؤں گی!” “نہیں پہلے میں!” تینوں کی آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں، اور میں مسکرا کر کہتا ہوں: “اچھا ٹھہرو… باری باری بتانا” اس لمحے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ: 📌 تعلیم بوجھ نہیں رہی 📌 سیکھنا خوشی بن گیا ہے 📌 علم اب شوق سے حاصل ہو رہا ہے یہ وہ نظامِ تعلیم ہے جہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں، پُراعتماد ہیں جہاں سوال کرنا جرم نہیں جہاں آنے والے کل کے لیے سوچنے والے ذہن تیار کیے جا رہے ہیں۔ میں دل کی گہرائی سے اہلِ علاقہ، اہلِ کراچی اور اہلِ پاکستان سے گزارش کرتا ہوں: اگر آپ واقعی اپنے بچوں کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں، تو اس نظامِ تعلیم کو ضرور دیکھیں، ضرور سمجھیں۔ ان شاء اللہ، ان شاء اللہ چھ مہینے کے اندر آپ خود اپنے بچوں کے رویّے، سوچ اور سیکھنے میں واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔ آخر میں دل سے دعا ہے ،،، اللہ تعالیٰ ریحان اللہ والا صاحب کو صحت، ہمت اور استقامت عطا فرمائے، ان کی اس تعلیمی جدوجہد کو قبول فرمائے، اور ان کے ذریعے پاکستان کے بچوں کو ایسا مستقبل دے جس میں علم بھی ہو، کردار بھی، اور خودداری بھی۔ آمین یا رب العالمین ، ایک شکر گزار باپ Abdul Malik Amb
0 Комментарии 0 Поделились 147 Просмотры