ہم صرف پاکستان میں نہیں، دنیا میں رہتے ہیں
جب میں آج کے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں تو دل بھاری ہو جاتا ہے۔
ہمیں اسکول، کالج میں یہ سکھایا گیا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں۔
لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، چیچہ وطنی میں۔
لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اسی زمین پر رہتے ہیں جس پر امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور باقی دنیا کے لوگ رہتے ہیں۔
وہی سورج،
وہی چاند،
وہی دن رات۔
یہ کوئی لمبی بات نہیں، یہ بہت سادہ حقیقت ہے۔
⸻
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ چھوٹی رہ گئی ہے
جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ “میں پاکستان میں ہوں”،
تو وہ سوچتا بھی پاکستان تک ہی محدود رہتا ہے۔
وہ یہ نہیں سوچتا کہ:
• میں پاکستان میں بیٹھ کر باہر کے ملک کے لیے کام کر سکتا ہوں
• میں آن لائن نوکری کر سکتا ہوں
• میں دنیا بھر کے لوگوں سے بات کر سکتا ہوں
• میں ان سے سیکھ سکتا ہوں
اس لیے نہیں کہ وہ کر نہیں سکتا،
بلکہ اس لیے کہ اس کے دماغ میں یہ خیال آیا ہی نہیں۔
وہ ایسے سوچتا ہے جیسے:
• دنیا میں صرف ہم ہی ہیں
• پیسہ صرف یہاں ہی ملتا ہے
• کام گھر کے پاس ہی ملتا ہے
یہ ان کی غلطی نہیں۔
⸻
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ:
• ہم ایک ہی زبان بولتے ہیں
• ہمارے دوست سب ایک جیسے ہوتے ہیں
• ہمارا موبائل صرف پاکستانی خبروں سے بھرا ہوتا ہے
• ٹی وی پر ہر وقت وہی سیاست اور لڑائی
پھر دماغ بھی وہی سوچتا ہے جو وہ روز دیکھتا ہے۔
⸻
انٹرنیٹ آ گیا، مگر ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا
آج:
• آپ دنیا کے کسی بھی انسان کو وہاٹس ایپ کر سکتے ہیں
• ای میل کر سکتے ہیں
• زوم پر بات کر سکتے ہیں
• بغیر پاکستان چھوڑے باہر کی کمپنی کے لیے کام کر سکتے ہیں
فاصلہ اب مسئلہ نہیں رہا۔
پیسہ بھی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔
اصل مسئلہ صرف سوچ ہے۔
⸻
25 سال بعد ہم سب افسوس کریں گے
میں یقین سے کہتا ہوں کہ آنے والے وقت میں لوگ کہیں گے:
“ہم زیادہ کما سکتے تھے…”
“ہم بہتر زندگی گزار سکتے تھے…”
“ہم دنیا سے جُڑ سکتے تھے…”
یہ سب ممکن تھا:
• بغیر ویزا
• بغیر ملک چھوڑے
• صرف موبائل اور انٹرنیٹ سے
بس ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔
⸻
یہ وہی غلطی ہے جو پہلے بھی ہو چکی ہے
یہ بات مجھے ایک امریکی صدر کی یاد دلاتی ہے جو گولی سے نہیں،
بلکہ لاعلمی سے مر گیا۔
علاج موجود تھا،
مگر استعمال نہیں ہوا۔
آج بھی مسئلہ یہی ہے:
مواقع موجود ہیں،
مگر ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔
⸻
اگر میرے ہاتھ میں اختیار ہو
اگر میں پاکستان کا سربراہ ہوتا تو میں ایک کام ضرور کرواتا:
ہر پاکستانی کم از کم:
• باہر کے ملکوں کے لوگوں سے بات کرے
• دوستی کرے
• سیکھے
خاص طور پر اُن لوگوں سے جو ہم سے بہتر کما رہے ہیں۔
صرف یہ ایک قدم:
• سوچ بدل دے گا
• ڈر ختم کرے گا
• کمائی کے راستے کھول دے گا
⸻
سچ یہ ہے
آپ صرف پاکستان میں نہیں رہتے۔
آپ دنیا میں رہتے ہیں۔
آپ انٹرنیٹ پر رہتے ہیں۔
آپ عالمی بازار کا حصہ ہیں۔
پاکستان آپ کا گھر ہے،
لیکن دنیا آپ کا میدان ہے۔
⸻
غربت قسمت نہیں،
سوچ کا مسئلہ ہے۔
— ریحان اللہ والا
جب میں آج کے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں تو دل بھاری ہو جاتا ہے۔
ہمیں اسکول، کالج میں یہ سکھایا گیا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں۔
لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، چیچہ وطنی میں۔
لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اسی زمین پر رہتے ہیں جس پر امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور باقی دنیا کے لوگ رہتے ہیں۔
وہی سورج،
وہی چاند،
وہی دن رات۔
یہ کوئی لمبی بات نہیں، یہ بہت سادہ حقیقت ہے۔
⸻
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ چھوٹی رہ گئی ہے
جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ “میں پاکستان میں ہوں”،
تو وہ سوچتا بھی پاکستان تک ہی محدود رہتا ہے۔
وہ یہ نہیں سوچتا کہ:
• میں پاکستان میں بیٹھ کر باہر کے ملک کے لیے کام کر سکتا ہوں
• میں آن لائن نوکری کر سکتا ہوں
• میں دنیا بھر کے لوگوں سے بات کر سکتا ہوں
• میں ان سے سیکھ سکتا ہوں
اس لیے نہیں کہ وہ کر نہیں سکتا،
بلکہ اس لیے کہ اس کے دماغ میں یہ خیال آیا ہی نہیں۔
وہ ایسے سوچتا ہے جیسے:
• دنیا میں صرف ہم ہی ہیں
• پیسہ صرف یہاں ہی ملتا ہے
• کام گھر کے پاس ہی ملتا ہے
یہ ان کی غلطی نہیں۔
⸻
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ:
• ہم ایک ہی زبان بولتے ہیں
• ہمارے دوست سب ایک جیسے ہوتے ہیں
• ہمارا موبائل صرف پاکستانی خبروں سے بھرا ہوتا ہے
• ٹی وی پر ہر وقت وہی سیاست اور لڑائی
پھر دماغ بھی وہی سوچتا ہے جو وہ روز دیکھتا ہے۔
⸻
انٹرنیٹ آ گیا، مگر ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا
آج:
• آپ دنیا کے کسی بھی انسان کو وہاٹس ایپ کر سکتے ہیں
• ای میل کر سکتے ہیں
• زوم پر بات کر سکتے ہیں
• بغیر پاکستان چھوڑے باہر کی کمپنی کے لیے کام کر سکتے ہیں
فاصلہ اب مسئلہ نہیں رہا۔
پیسہ بھی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔
اصل مسئلہ صرف سوچ ہے۔
⸻
25 سال بعد ہم سب افسوس کریں گے
میں یقین سے کہتا ہوں کہ آنے والے وقت میں لوگ کہیں گے:
“ہم زیادہ کما سکتے تھے…”
“ہم بہتر زندگی گزار سکتے تھے…”
“ہم دنیا سے جُڑ سکتے تھے…”
یہ سب ممکن تھا:
• بغیر ویزا
• بغیر ملک چھوڑے
• صرف موبائل اور انٹرنیٹ سے
بس ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔
⸻
یہ وہی غلطی ہے جو پہلے بھی ہو چکی ہے
یہ بات مجھے ایک امریکی صدر کی یاد دلاتی ہے جو گولی سے نہیں،
بلکہ لاعلمی سے مر گیا۔
علاج موجود تھا،
مگر استعمال نہیں ہوا۔
آج بھی مسئلہ یہی ہے:
مواقع موجود ہیں،
مگر ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔
⸻
اگر میرے ہاتھ میں اختیار ہو
اگر میں پاکستان کا سربراہ ہوتا تو میں ایک کام ضرور کرواتا:
ہر پاکستانی کم از کم:
• باہر کے ملکوں کے لوگوں سے بات کرے
• دوستی کرے
• سیکھے
خاص طور پر اُن لوگوں سے جو ہم سے بہتر کما رہے ہیں۔
صرف یہ ایک قدم:
• سوچ بدل دے گا
• ڈر ختم کرے گا
• کمائی کے راستے کھول دے گا
⸻
سچ یہ ہے
آپ صرف پاکستان میں نہیں رہتے۔
آپ دنیا میں رہتے ہیں۔
آپ انٹرنیٹ پر رہتے ہیں۔
آپ عالمی بازار کا حصہ ہیں۔
پاکستان آپ کا گھر ہے،
لیکن دنیا آپ کا میدان ہے۔
⸻
غربت قسمت نہیں،
سوچ کا مسئلہ ہے۔
— ریحان اللہ والا
ہم صرف پاکستان میں نہیں، دنیا میں رہتے ہیں
جب میں آج کے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں تو دل بھاری ہو جاتا ہے۔
ہمیں اسکول، کالج میں یہ سکھایا گیا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں۔
لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، چیچہ وطنی میں۔
لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اسی زمین پر رہتے ہیں جس پر امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور باقی دنیا کے لوگ رہتے ہیں۔
وہی سورج،
وہی چاند،
وہی دن رات۔
یہ کوئی لمبی بات نہیں، یہ بہت سادہ حقیقت ہے۔
⸻
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ چھوٹی رہ گئی ہے
جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ “میں پاکستان میں ہوں”،
تو وہ سوچتا بھی پاکستان تک ہی محدود رہتا ہے۔
وہ یہ نہیں سوچتا کہ:
• میں پاکستان میں بیٹھ کر باہر کے ملک کے لیے کام کر سکتا ہوں
• میں آن لائن نوکری کر سکتا ہوں
• میں دنیا بھر کے لوگوں سے بات کر سکتا ہوں
• میں ان سے سیکھ سکتا ہوں
اس لیے نہیں کہ وہ کر نہیں سکتا،
بلکہ اس لیے کہ اس کے دماغ میں یہ خیال آیا ہی نہیں۔
وہ ایسے سوچتا ہے جیسے:
• دنیا میں صرف ہم ہی ہیں
• پیسہ صرف یہاں ہی ملتا ہے
• کام گھر کے پاس ہی ملتا ہے
یہ ان کی غلطی نہیں۔
⸻
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ:
• ہم ایک ہی زبان بولتے ہیں
• ہمارے دوست سب ایک جیسے ہوتے ہیں
• ہمارا موبائل صرف پاکستانی خبروں سے بھرا ہوتا ہے
• ٹی وی پر ہر وقت وہی سیاست اور لڑائی
پھر دماغ بھی وہی سوچتا ہے جو وہ روز دیکھتا ہے۔
⸻
انٹرنیٹ آ گیا، مگر ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا
آج:
• آپ دنیا کے کسی بھی انسان کو وہاٹس ایپ کر سکتے ہیں
• ای میل کر سکتے ہیں
• زوم پر بات کر سکتے ہیں
• بغیر پاکستان چھوڑے باہر کی کمپنی کے لیے کام کر سکتے ہیں
فاصلہ اب مسئلہ نہیں رہا۔
پیسہ بھی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔
اصل مسئلہ صرف سوچ ہے۔
⸻
25 سال بعد ہم سب افسوس کریں گے
میں یقین سے کہتا ہوں کہ آنے والے وقت میں لوگ کہیں گے:
“ہم زیادہ کما سکتے تھے…”
“ہم بہتر زندگی گزار سکتے تھے…”
“ہم دنیا سے جُڑ سکتے تھے…”
یہ سب ممکن تھا:
• بغیر ویزا
• بغیر ملک چھوڑے
• صرف موبائل اور انٹرنیٹ سے
بس ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔
⸻
یہ وہی غلطی ہے جو پہلے بھی ہو چکی ہے
یہ بات مجھے ایک امریکی صدر کی یاد دلاتی ہے جو گولی سے نہیں،
بلکہ لاعلمی سے مر گیا۔
علاج موجود تھا،
مگر استعمال نہیں ہوا۔
آج بھی مسئلہ یہی ہے:
مواقع موجود ہیں،
مگر ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔
⸻
اگر میرے ہاتھ میں اختیار ہو
اگر میں پاکستان کا سربراہ ہوتا تو میں ایک کام ضرور کرواتا:
ہر پاکستانی کم از کم:
• باہر کے ملکوں کے لوگوں سے بات کرے
• دوستی کرے
• سیکھے
خاص طور پر اُن لوگوں سے جو ہم سے بہتر کما رہے ہیں۔
صرف یہ ایک قدم:
• سوچ بدل دے گا
• ڈر ختم کرے گا
• کمائی کے راستے کھول دے گا
⸻
سچ یہ ہے
آپ صرف پاکستان میں نہیں رہتے۔
آپ دنیا میں رہتے ہیں۔
آپ انٹرنیٹ پر رہتے ہیں۔
آپ عالمی بازار کا حصہ ہیں۔
پاکستان آپ کا گھر ہے،
لیکن دنیا آپ کا میدان ہے۔
⸻
غربت قسمت نہیں،
سوچ کا مسئلہ ہے۔
— ریحان اللہ والا
0 Comments
0 Shares
207 Views