اگر آپ کے پاس 2025 میں وائی فائی، چیٹ جی پی ٹی اور لیپ ٹاپ موجود ہیں اور پھر بھی آپ خالی جیب ہیں، تو یہ بدقسمتی نہیں بلکہ غیر سنجیدگی ہے۔

لوگ کہتے ہیں: ریحان اسکول ہمارے علاقے میں کھولو، ہمیں اے آئی سکھاؤ، پڑھائی سکھاؤ۔ میں نے سینٹر بھی بنائے، اسکول بھی کھولے، لیکن وہ خالی پڑے رہے۔ لوگ آتے ہی نہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ جگہ دور ہے۔ مگر آکسفورڈ، ہارورڈ یا ایم آئی ٹی تو آپ کے محلے کے کونے پر نہیں کھل سکتے نا؟ اگر دور ہے تو پھر آپ کیا کریں گے؟

اسی لیے میں نے ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بنایا، آن لائن اسکول بنایا، لیکن پھر بھی لوگ شامل نہیں ہوئے۔ پھر بھی یہی شکوہ رہا کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ اگر واقعی سنجیدہ ہیں تو کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔ بالکل ہوگا۔ لیکن سنجیدگی کا اظہار آ کر بیٹھنے سے ہوتا ہے، جیسا کہ نور آپا نے کیا۔ وہ غریبی سے اٹھی، اسکول کے دروازے پر آ کر بیٹھی، ایک سال پڑھا، اور آج ہم نے اُس کے ساتھ ایک نیا اسکول بنا لیا۔

ڈھائی سو ملین میں ہمیں ایک نور آپا ملی جو سنجیدہ ثابت ہوئی۔ اگر مزید نور آپائیں آئیں گی تو مزید اسکول بنیں گے۔ لیکن بغیر سیکھے کوئی کسی کو کیا سکھا سکتا ہے؟

اگر آپ پاکستان کے لیے سنجیدہ ہیں، یا اپنے لیے بہتری چاہتے ہیں تو آئیے۔ سب کچھ تیار ہے۔ ادارے تیار ہیں۔ میں نے کالج بھی بنا دیا، پھر بھی آپ نہیں آتے۔ آپ کہتے ہیں ہم سنجیدہ ہیں، لیکن عمل نہیں کرتے۔ اصل سنجیدگی دل سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔

ہمارے پاس آن لائن اسکول ہے، ٹیچر ٹریننگ اسکول ہے، کالج ہے۔ سب کچھ یوٹیوب پر موجود ہے۔ پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن ہماری آمدنی نہیں بڑھ رہی۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ سنجیدہ نہیں ہیں تو آپ صرف سوچوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ زیادہ سوچتے ہیں، کم عمل کرتے ہیں۔ اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمارے کسی بھی ادارے میں شامل ہو جائیے۔ تین مہینے لگائیے، اور پھر دیکھیے کہ نتیجہ ملتا ہے یا نہیں۔ تین مہینے سے پہلے تو کوئی اثر ظاہر ہی نہیں ہوتا۔

یاد رکھیں، ایک دن میں کسی کے پاس اللہ کا چراغ نہیں آتا۔ حکومت سزا دیتی ہے، جرمانہ کرتی ہے تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔ لیکن ہم تو سزا بھی نہیں دیتے۔ ہم تو اپنی موٹر سائیکل کا بلب تک درست کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک پولیس ہمیں جرمانہ نہ کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سنجیدہ قوم نہیں بلکہ ایک غمگین اور جذباتی قوم ہیں۔ اور ہمارا منصوبہ یہی ہے کہ ہم ایسے ہی رہیں۔ بہتر ہونے کا کوئی امکان تب تک نہیں جب تک ہم خود قدم نہ اٹھائیں۔

لہٰذا میں آپ سے دعا کا طالب ہوں۔ جزاک اللہ۔
خوش رہیے، آباد رہیے۔

آپ کا سنجیدہ ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ٹک ٹاک کھولیے، کارٹون دیکھیے، ڈرامے دیکھیے، لطیفے سنیے اور خوش رہیے۔
زندگی گزر رہی ہے، گزر جائے گی۔ پھر رونے کے لیے اور بھی بہت سی باتیں موجود ہوں گی۔
رونا دھونا بند کیجیے۔ جب خوش ہیں تو خوش رہیے۔
مسئلہ کوئی ہے ہی نہیں۔
اگر آپ کے پاس 2025 میں وائی فائی، چیٹ جی پی ٹی اور لیپ ٹاپ موجود ہیں اور پھر بھی آپ خالی جیب ہیں، تو یہ بدقسمتی نہیں بلکہ غیر سنجیدگی ہے۔ لوگ کہتے ہیں: ریحان اسکول ہمارے علاقے میں کھولو، ہمیں اے آئی سکھاؤ، پڑھائی سکھاؤ۔ میں نے سینٹر بھی بنائے، اسکول بھی کھولے، لیکن وہ خالی پڑے رہے۔ لوگ آتے ہی نہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ جگہ دور ہے۔ مگر آکسفورڈ، ہارورڈ یا ایم آئی ٹی تو آپ کے محلے کے کونے پر نہیں کھل سکتے نا؟ اگر دور ہے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ اسی لیے میں نے ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بنایا، آن لائن اسکول بنایا، لیکن پھر بھی لوگ شامل نہیں ہوئے۔ پھر بھی یہی شکوہ رہا کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ اگر واقعی سنجیدہ ہیں تو کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔ بالکل ہوگا۔ لیکن سنجیدگی کا اظہار آ کر بیٹھنے سے ہوتا ہے، جیسا کہ نور آپا نے کیا۔ وہ غریبی سے اٹھی، اسکول کے دروازے پر آ کر بیٹھی، ایک سال پڑھا، اور آج ہم نے اُس کے ساتھ ایک نیا اسکول بنا لیا۔ ڈھائی سو ملین میں ہمیں ایک نور آپا ملی جو سنجیدہ ثابت ہوئی۔ اگر مزید نور آپائیں آئیں گی تو مزید اسکول بنیں گے۔ لیکن بغیر سیکھے کوئی کسی کو کیا سکھا سکتا ہے؟ اگر آپ پاکستان کے لیے سنجیدہ ہیں، یا اپنے لیے بہتری چاہتے ہیں تو آئیے۔ سب کچھ تیار ہے۔ ادارے تیار ہیں۔ میں نے کالج بھی بنا دیا، پھر بھی آپ نہیں آتے۔ آپ کہتے ہیں ہم سنجیدہ ہیں، لیکن عمل نہیں کرتے۔ اصل سنجیدگی دل سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے پاس آن لائن اسکول ہے، ٹیچر ٹریننگ اسکول ہے، کالج ہے۔ سب کچھ یوٹیوب پر موجود ہے۔ پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن ہماری آمدنی نہیں بڑھ رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ سنجیدہ نہیں ہیں تو آپ صرف سوچوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ زیادہ سوچتے ہیں، کم عمل کرتے ہیں۔ اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمارے کسی بھی ادارے میں شامل ہو جائیے۔ تین مہینے لگائیے، اور پھر دیکھیے کہ نتیجہ ملتا ہے یا نہیں۔ تین مہینے سے پہلے تو کوئی اثر ظاہر ہی نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں، ایک دن میں کسی کے پاس اللہ کا چراغ نہیں آتا۔ حکومت سزا دیتی ہے، جرمانہ کرتی ہے تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔ لیکن ہم تو سزا بھی نہیں دیتے۔ ہم تو اپنی موٹر سائیکل کا بلب تک درست کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک پولیس ہمیں جرمانہ نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سنجیدہ قوم نہیں بلکہ ایک غمگین اور جذباتی قوم ہیں۔ اور ہمارا منصوبہ یہی ہے کہ ہم ایسے ہی رہیں۔ بہتر ہونے کا کوئی امکان تب تک نہیں جب تک ہم خود قدم نہ اٹھائیں۔ لہٰذا میں آپ سے دعا کا طالب ہوں۔ جزاک اللہ۔ خوش رہیے، آباد رہیے۔ آپ کا سنجیدہ ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ٹک ٹاک کھولیے، کارٹون دیکھیے، ڈرامے دیکھیے، لطیفے سنیے اور خوش رہیے۔ زندگی گزر رہی ہے، گزر جائے گی۔ پھر رونے کے لیے اور بھی بہت سی باتیں موجود ہوں گی۔ رونا دھونا بند کیجیے۔ جب خوش ہیں تو خوش رہیے۔ مسئلہ کوئی ہے ہی نہیں۔
0 Yorumlar 0 hisse senetleri 295 Views