89 کھرب ڈالر کا سوال: اسلحہ یا ایک بہتر زمین؟
اقوامِ متحدہ کے قیام 1945ء کے بعد سے دنیا نے اندازاً 89 کھرب ڈالر (موجودہ کرنسی کی قیمت کے حساب سے) ہتھیاروں، افواج اور جنگوں پر خرچ کیے ہیں۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ سمجھنا مشکل ہے۔ یہ دنیا کی سالانہ مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ مگر ہر سال تقریباً تمام ممالک نے فیصلہ کیا کہ دولت کا سب سے بڑا حصہ تعلیم، صحت یا امن پر نہیں بلکہ اسلحے پر خرچ کیا جائے۔
اس کی بنیادی وجہ خوف ہے۔ قومیں ہتھیار صرف زمین بچانے کے لیے نہیں بلکہ نظریات کی حفاظت کے لیے بھی خریدتی ہیں۔ اسلحہ دراصل ایک دیوار ہے جو نظریات کو ایک سرحد سے دوسری سرحد تک جانے سے روکتا ہے—سرمایہ داری بمقابلہ اشتراکیت، جمہوریت بمقابلہ آمریت، بادشاہت بمقابلہ جمہوری نظام، مذہب بمقابلہ سیکولرزم۔ گزشتہ 80 برسوں سے اسلحے پر اخراجات نظریات کی “انشورنس پالیسی” بنے ہوئے ہیں۔
لیکن ذرا سوچئے، اگر یہ 89 کھرب ڈالر انسانیت کی بہتری پر خرچ ہوتے تو آج زمین کیسی ہوتی؟
⸻
1. غربت کا خاتمہ
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق دنیا بھر سے انتہا درجے کی غربت ختم کرنے کے لیے سالانہ تقریباً 500 ارب ڈالر درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے غربت کو 150 بار سے بھی زیادہ ختم کیا جا سکتا تھا۔ یعنی ہر انسان کے پاس خوراک، پینے کا صاف پانی اور چھت میسر ہوتی۔
⸻
2. ہر بچے کے لیے تعلیم
یونیسکو کے مطابق دنیا بھر کے ہر بچے کو بنیادی تعلیم دینے پر صرف 40 ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے دنیا کے بچوں کو 2,000 سال تک مفت اور معیاری تعلیم دی جا سکتی تھی۔ سوچئے، اربوں جاہل دماغوں کے بجائے اربوں باشعور اور باصلاحیت دماغ پیدا ہوتے۔
⸻
3. صاف توانائی کا انقلاب
عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ دنیا کو مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر لانے کے لیے 4 کھرب ڈالر سالانہ 2050 تک درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے ہم 20 سال کا عالمی صاف توانائی منصوبہ مکمل کر سکتے تھے اور ماحولیاتی تبدیلی کی تباہی کو روک سکتے تھے۔
⸻
4. صحت سب کے لیے
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں یونیورسل ہیلتھ کئیر کے لیے صرف 300 سے 400 ارب ڈالر سالانہ کافی ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے ہم 200 سال سے زیادہ کے لیے تمام انسانوں کو علاج اور دوا فراہم کر سکتے تھے۔ ملیریا، ٹی بی اور بچوں کی قابلِ علاج اموات ماضی کا قصہ ہوتیں۔
⸻
5. بنیادی ڈھانچہ اور ترقی
89 کھرب ڈالر سے دنیا یہ سب کچھ کر سکتی تھی:
• براعظموں کو جوڑنے والی تیز رفتار ریل۔
• ماحول کی بحالی کے لیے کھربوں درخت۔
• ہر ملک میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی نظام۔
• ہر انسان کے لیے صاف پینے کا پانی۔
• اربوں لوگوں کے لیے جدید اور پائیدار شہر۔
لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بجائے، دنیا نے یہ دولت ٹینکوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں پر لگائی—ایسی مشینیں جو بنانے کے بجائے صرف تباہ کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔
⸻
اصل حقیقت: نظریات کا راستہ روکنا
ان تمام اعداد و شمار کے پیچھے ایک گہری حقیقت چھپی ہے۔ اسلحے پر اخراجات زمین کے دفاع سے زیادہ خیالات کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ جمہوریت کو آمریت روکتی ہے، سرمایہ داری کو اشتراکیت، اور مذہب کو سیکولرزم۔ افواج نظریاتی دیواریں بن جاتی ہیں۔
لیکن تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ خیالات ہمیشہ ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ سوویت یونین ہتھیاروں کی کمی سے نہیں بلکہ اپنے نظریے کے زوال سے ٹوٹا۔ برلن کی دیوار بمباری سے نہیں بلکہ آزادی کے جذبے سے گری۔ آج سوشل میڈیا خیالات کو اس رفتار سے پھیلا رہا ہے کہ کوئی ٹینک انہیں نہیں روک سکتا۔
⸻
نتیجہ: مستقبل کا فیصلہ
1945ء سے آج تک انسانیت نے 89 کھرب ڈالر ہتھیاروں پر لگا دیے۔ اس فیصلے نے جنگیں پیدا کیں مگر انسان کے بنیادی مسائل حل نہ کیے۔ اگر اس دولت کا نصف بھی ترقی پر لگتا تو آج کی دنیا بالکل مختلف ہوتی: نہ غربت، نہ ناخواندگی، سب کے لیے علاج، اور ایک پائیدار زمین۔
اصل المیہ صرف رقم کا ضیاع نہیں بلکہ وہ دنیا ہے جو ہم بنا سکتے تھے مگر نہیں بنا پائے۔ سوال یہ ہے: کیا اگلے 89 کھرب ڈالر بھی ہتھیاروں پر خرچ ہوں گے یا انسانیت کو ایک بہتر گھر دینے پر؟
اقوامِ متحدہ کے قیام 1945ء کے بعد سے دنیا نے اندازاً 89 کھرب ڈالر (موجودہ کرنسی کی قیمت کے حساب سے) ہتھیاروں، افواج اور جنگوں پر خرچ کیے ہیں۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ سمجھنا مشکل ہے۔ یہ دنیا کی سالانہ مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ مگر ہر سال تقریباً تمام ممالک نے فیصلہ کیا کہ دولت کا سب سے بڑا حصہ تعلیم، صحت یا امن پر نہیں بلکہ اسلحے پر خرچ کیا جائے۔
اس کی بنیادی وجہ خوف ہے۔ قومیں ہتھیار صرف زمین بچانے کے لیے نہیں بلکہ نظریات کی حفاظت کے لیے بھی خریدتی ہیں۔ اسلحہ دراصل ایک دیوار ہے جو نظریات کو ایک سرحد سے دوسری سرحد تک جانے سے روکتا ہے—سرمایہ داری بمقابلہ اشتراکیت، جمہوریت بمقابلہ آمریت، بادشاہت بمقابلہ جمہوری نظام، مذہب بمقابلہ سیکولرزم۔ گزشتہ 80 برسوں سے اسلحے پر اخراجات نظریات کی “انشورنس پالیسی” بنے ہوئے ہیں۔
لیکن ذرا سوچئے، اگر یہ 89 کھرب ڈالر انسانیت کی بہتری پر خرچ ہوتے تو آج زمین کیسی ہوتی؟
⸻
1. غربت کا خاتمہ
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق دنیا بھر سے انتہا درجے کی غربت ختم کرنے کے لیے سالانہ تقریباً 500 ارب ڈالر درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے غربت کو 150 بار سے بھی زیادہ ختم کیا جا سکتا تھا۔ یعنی ہر انسان کے پاس خوراک، پینے کا صاف پانی اور چھت میسر ہوتی۔
⸻
2. ہر بچے کے لیے تعلیم
یونیسکو کے مطابق دنیا بھر کے ہر بچے کو بنیادی تعلیم دینے پر صرف 40 ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے دنیا کے بچوں کو 2,000 سال تک مفت اور معیاری تعلیم دی جا سکتی تھی۔ سوچئے، اربوں جاہل دماغوں کے بجائے اربوں باشعور اور باصلاحیت دماغ پیدا ہوتے۔
⸻
3. صاف توانائی کا انقلاب
عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ دنیا کو مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر لانے کے لیے 4 کھرب ڈالر سالانہ 2050 تک درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے ہم 20 سال کا عالمی صاف توانائی منصوبہ مکمل کر سکتے تھے اور ماحولیاتی تبدیلی کی تباہی کو روک سکتے تھے۔
⸻
4. صحت سب کے لیے
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں یونیورسل ہیلتھ کئیر کے لیے صرف 300 سے 400 ارب ڈالر سالانہ کافی ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے ہم 200 سال سے زیادہ کے لیے تمام انسانوں کو علاج اور دوا فراہم کر سکتے تھے۔ ملیریا، ٹی بی اور بچوں کی قابلِ علاج اموات ماضی کا قصہ ہوتیں۔
⸻
5. بنیادی ڈھانچہ اور ترقی
89 کھرب ڈالر سے دنیا یہ سب کچھ کر سکتی تھی:
• براعظموں کو جوڑنے والی تیز رفتار ریل۔
• ماحول کی بحالی کے لیے کھربوں درخت۔
• ہر ملک میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی نظام۔
• ہر انسان کے لیے صاف پینے کا پانی۔
• اربوں لوگوں کے لیے جدید اور پائیدار شہر۔
لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بجائے، دنیا نے یہ دولت ٹینکوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں پر لگائی—ایسی مشینیں جو بنانے کے بجائے صرف تباہ کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔
⸻
اصل حقیقت: نظریات کا راستہ روکنا
ان تمام اعداد و شمار کے پیچھے ایک گہری حقیقت چھپی ہے۔ اسلحے پر اخراجات زمین کے دفاع سے زیادہ خیالات کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ جمہوریت کو آمریت روکتی ہے، سرمایہ داری کو اشتراکیت، اور مذہب کو سیکولرزم۔ افواج نظریاتی دیواریں بن جاتی ہیں۔
لیکن تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ خیالات ہمیشہ ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ سوویت یونین ہتھیاروں کی کمی سے نہیں بلکہ اپنے نظریے کے زوال سے ٹوٹا۔ برلن کی دیوار بمباری سے نہیں بلکہ آزادی کے جذبے سے گری۔ آج سوشل میڈیا خیالات کو اس رفتار سے پھیلا رہا ہے کہ کوئی ٹینک انہیں نہیں روک سکتا۔
⸻
نتیجہ: مستقبل کا فیصلہ
1945ء سے آج تک انسانیت نے 89 کھرب ڈالر ہتھیاروں پر لگا دیے۔ اس فیصلے نے جنگیں پیدا کیں مگر انسان کے بنیادی مسائل حل نہ کیے۔ اگر اس دولت کا نصف بھی ترقی پر لگتا تو آج کی دنیا بالکل مختلف ہوتی: نہ غربت، نہ ناخواندگی، سب کے لیے علاج، اور ایک پائیدار زمین۔
اصل المیہ صرف رقم کا ضیاع نہیں بلکہ وہ دنیا ہے جو ہم بنا سکتے تھے مگر نہیں بنا پائے۔ سوال یہ ہے: کیا اگلے 89 کھرب ڈالر بھی ہتھیاروں پر خرچ ہوں گے یا انسانیت کو ایک بہتر گھر دینے پر؟
89 کھرب ڈالر کا سوال: اسلحہ یا ایک بہتر زمین؟
اقوامِ متحدہ کے قیام 1945ء کے بعد سے دنیا نے اندازاً 89 کھرب ڈالر (موجودہ کرنسی کی قیمت کے حساب سے) ہتھیاروں، افواج اور جنگوں پر خرچ کیے ہیں۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ سمجھنا مشکل ہے۔ یہ دنیا کی سالانہ مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ مگر ہر سال تقریباً تمام ممالک نے فیصلہ کیا کہ دولت کا سب سے بڑا حصہ تعلیم، صحت یا امن پر نہیں بلکہ اسلحے پر خرچ کیا جائے۔
اس کی بنیادی وجہ خوف ہے۔ قومیں ہتھیار صرف زمین بچانے کے لیے نہیں بلکہ نظریات کی حفاظت کے لیے بھی خریدتی ہیں۔ اسلحہ دراصل ایک دیوار ہے جو نظریات کو ایک سرحد سے دوسری سرحد تک جانے سے روکتا ہے—سرمایہ داری بمقابلہ اشتراکیت، جمہوریت بمقابلہ آمریت، بادشاہت بمقابلہ جمہوری نظام، مذہب بمقابلہ سیکولرزم۔ گزشتہ 80 برسوں سے اسلحے پر اخراجات نظریات کی “انشورنس پالیسی” بنے ہوئے ہیں۔
لیکن ذرا سوچئے، اگر یہ 89 کھرب ڈالر انسانیت کی بہتری پر خرچ ہوتے تو آج زمین کیسی ہوتی؟
⸻
1. غربت کا خاتمہ
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق دنیا بھر سے انتہا درجے کی غربت ختم کرنے کے لیے سالانہ تقریباً 500 ارب ڈالر درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے غربت کو 150 بار سے بھی زیادہ ختم کیا جا سکتا تھا۔ یعنی ہر انسان کے پاس خوراک، پینے کا صاف پانی اور چھت میسر ہوتی۔
⸻
2. ہر بچے کے لیے تعلیم
یونیسکو کے مطابق دنیا بھر کے ہر بچے کو بنیادی تعلیم دینے پر صرف 40 ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے دنیا کے بچوں کو 2,000 سال تک مفت اور معیاری تعلیم دی جا سکتی تھی۔ سوچئے، اربوں جاہل دماغوں کے بجائے اربوں باشعور اور باصلاحیت دماغ پیدا ہوتے۔
⸻
3. صاف توانائی کا انقلاب
عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ دنیا کو مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر لانے کے لیے 4 کھرب ڈالر سالانہ 2050 تک درکار ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے ہم 20 سال کا عالمی صاف توانائی منصوبہ مکمل کر سکتے تھے اور ماحولیاتی تبدیلی کی تباہی کو روک سکتے تھے۔
⸻
4. صحت سب کے لیے
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں یونیورسل ہیلتھ کئیر کے لیے صرف 300 سے 400 ارب ڈالر سالانہ کافی ہیں۔ 89 کھرب ڈالر سے ہم 200 سال سے زیادہ کے لیے تمام انسانوں کو علاج اور دوا فراہم کر سکتے تھے۔ ملیریا، ٹی بی اور بچوں کی قابلِ علاج اموات ماضی کا قصہ ہوتیں۔
⸻
5. بنیادی ڈھانچہ اور ترقی
89 کھرب ڈالر سے دنیا یہ سب کچھ کر سکتی تھی:
• براعظموں کو جوڑنے والی تیز رفتار ریل۔
• ماحول کی بحالی کے لیے کھربوں درخت۔
• ہر ملک میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی نظام۔
• ہر انسان کے لیے صاف پینے کا پانی۔
• اربوں لوگوں کے لیے جدید اور پائیدار شہر۔
لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بجائے، دنیا نے یہ دولت ٹینکوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں پر لگائی—ایسی مشینیں جو بنانے کے بجائے صرف تباہ کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔
⸻
اصل حقیقت: نظریات کا راستہ روکنا
ان تمام اعداد و شمار کے پیچھے ایک گہری حقیقت چھپی ہے۔ اسلحے پر اخراجات زمین کے دفاع سے زیادہ خیالات کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ جمہوریت کو آمریت روکتی ہے، سرمایہ داری کو اشتراکیت، اور مذہب کو سیکولرزم۔ افواج نظریاتی دیواریں بن جاتی ہیں۔
لیکن تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ خیالات ہمیشہ ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ سوویت یونین ہتھیاروں کی کمی سے نہیں بلکہ اپنے نظریے کے زوال سے ٹوٹا۔ برلن کی دیوار بمباری سے نہیں بلکہ آزادی کے جذبے سے گری۔ آج سوشل میڈیا خیالات کو اس رفتار سے پھیلا رہا ہے کہ کوئی ٹینک انہیں نہیں روک سکتا۔
⸻
نتیجہ: مستقبل کا فیصلہ
1945ء سے آج تک انسانیت نے 89 کھرب ڈالر ہتھیاروں پر لگا دیے۔ اس فیصلے نے جنگیں پیدا کیں مگر انسان کے بنیادی مسائل حل نہ کیے۔ اگر اس دولت کا نصف بھی ترقی پر لگتا تو آج کی دنیا بالکل مختلف ہوتی: نہ غربت، نہ ناخواندگی، سب کے لیے علاج، اور ایک پائیدار زمین۔
اصل المیہ صرف رقم کا ضیاع نہیں بلکہ وہ دنیا ہے جو ہم بنا سکتے تھے مگر نہیں بنا پائے۔ سوال یہ ہے: کیا اگلے 89 کھرب ڈالر بھی ہتھیاروں پر خرچ ہوں گے یا انسانیت کو ایک بہتر گھر دینے پر؟
0 Comments
0 Shares
237 Views