تقریر: “ڈیلیگیشن کا درد”
حضرات و خواتین!
السلام علیکم!
آج میں آپ کو ایک ایسا راز بتانے جا رہا ہوں جس نے کتنے ہی ادارے، کمپنیاں اور کاروبار برباد کر دیے ہیں۔ اور وہ راز ہے: ہمیں کام بانٹنا نہیں آتا۔
جی ہاں! ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم خود اپنے ہاتھ سے کام کریں گے تو ہی بہترین ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنے ادارے کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
اب ذرا سوچیں… ایک مینیجر ہے، خود ہی فائل بھی بنا رہا ہے، خود ہی چائے بھی پلا رہا ہے، اور خود ہی بوس کے لیے پریزنٹیشن بھی تیار کر رہا ہے۔ نتیجہ؟ نہ فائل اچھی بنی، نہ چائے میں شکر تھی، نہ پریزنٹیشن میں دم تھا۔ لیکن بھائی صاحب خوش ہیں کہ “میں نے سب کچھ اپنے ہاتھ سے کیا!”
یہ بیماری کیوں ہے؟
1. کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پرفیکشنسٹ ہیں۔ مطلب وہی کام صحیح کر سکتے ہیں، باقی سب تو نااہل ہیں۔
2. کچھ کو کنٹرول کا نشہ ہے۔ ہر چیز پر پہرہ دینا ہے، جیسے دنیا انہی کے قابو میں چلتی ہے۔
3. کچھ کو اعتماد نہیں ہوتا اپنے اسٹاف پر۔ اور کچھ کی انا اتنی بڑی ہے کہ کہتے ہیں: “ہیرو تو میں ہی ہوں، باقی سب ایکسٹرا ہیں۔”
اب بھائیو اور بہنو! اگر آپ ہر کام خود ہی کریں گے تو آپ کا ادارہ ایک ریڑھی کی دکان سے آگے نہیں بڑھے گا۔ کیونکہ وہاں بھی ریڑھی والا خود ہی برتن دھو رہا ہوتا ہے، خود ہی چٹنی بنا رہا ہوتا ہے، اور خود ہی آواز لگا رہا ہوتا ہے: “آلو چھولے گرم گرم!”
حل کیا ہے؟
ڈیلیگیشن! یعنی کام بانٹنا۔
لیکن یہ ایسے نہیں ہوتا کہ آپ کہیں: “تم یہ کر لو” اور پھر بھاگ جائیں۔ نہیں! کچھ اصول ہیں:
1. صحیح بندہ چنیں۔ ہر کام ہر کسی کے بس کا نہیں۔ گاڑی ڈرائیور سے چلوائیں، مالی سے پریزنٹیشن نہ بنوائیں۔
2. صاف ہدایت دیں۔ یہ نہ کہیں: “یار رپورٹ اچھی بنا دینا۔” بلکہ کہیں: “پانچ صفحے کی رپورٹ، جمعہ کو دوپہر تین بجے چاہیے، ورڈ میں، اور باس کو سمجھ آجائے۔”
3. کنٹرول کریں، کنٹرول فریک نہ بنیں۔ مطلب، پروگریس دیکھیں لیکن ہر دو منٹ میں نہ پوچھیں: “ہو گیا؟ ہو گیا؟ ہو گیا؟”
4. غلطی کی گنجائش دیں۔ اگر پہلی بار تھوڑا خراب ہوا تو سمجھائیں، چھین کر واپس نہ کر لیں۔ ورنہ بیچارہ اگلی بار کچھ کرے گا ہی نہیں۔
5. شکریہ کہنا نہ بھولیں۔ جب بندہ اچھا کرے تو تعریف کریں۔ انسان تعریف پر پالتو کتے کی طرح خوش ہو جاتا ہے۔
مزے کے مثالیں:
• گھر میں، امی ہر وقت بچوں کو کہتی ہیں: “یہ بھی میں کروں گی، وہ بھی میں کروں گی۔” ارے بی بی! کبھی بچوں کو جھاڑو پکڑاؤ، برتن دھلواؤ، تاکہ وہ بھی سیکھیں۔
• دفتر میں، باس سوچتا ہے: “سوشل میڈیا پوسٹ بھی میں خود بناؤں گا۔” بھائی، باس میمز بنانے کے لیے نہیں ہوتا، اس کا کام ویژن دینا ہے۔
• کاروبار میں، بزنس مین خود ہی گاہک سے بات کرے، خود ہی ریسیپشن پر بیٹھے، اور خود ہی صفائی کرے تو وہ بزنس مین نہیں، سوپر مین ہے!
آخر میں…
پرفیکشنسٹ بھائیو! یہ یاد رکھیں کہ “ڈن از بیٹر دین پرفیکٹ۔” اگر آپ سب کچھ خود کریں گے تو ادارہ کبھی بڑا نہیں ہوگا۔ آپ کا اصل کام یہ ہے کہ ٹیم کو سکھائیں، اعتماد کریں، اور پھر ان کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔
ڈیلیگیشن کام چھوڑنے کا نام نہیں، یہ کام بڑھانے کا طریقہ ہے۔ اور یاد رکھیں، جب آپ بانٹتے ہیں تو کام کم نہیں ہوتا… بڑھتا ہے!
شکریہ!
حضرات و خواتین!
السلام علیکم!
آج میں آپ کو ایک ایسا راز بتانے جا رہا ہوں جس نے کتنے ہی ادارے، کمپنیاں اور کاروبار برباد کر دیے ہیں۔ اور وہ راز ہے: ہمیں کام بانٹنا نہیں آتا۔
جی ہاں! ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم خود اپنے ہاتھ سے کام کریں گے تو ہی بہترین ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنے ادارے کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
اب ذرا سوچیں… ایک مینیجر ہے، خود ہی فائل بھی بنا رہا ہے، خود ہی چائے بھی پلا رہا ہے، اور خود ہی بوس کے لیے پریزنٹیشن بھی تیار کر رہا ہے۔ نتیجہ؟ نہ فائل اچھی بنی، نہ چائے میں شکر تھی، نہ پریزنٹیشن میں دم تھا۔ لیکن بھائی صاحب خوش ہیں کہ “میں نے سب کچھ اپنے ہاتھ سے کیا!”
یہ بیماری کیوں ہے؟
1. کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پرفیکشنسٹ ہیں۔ مطلب وہی کام صحیح کر سکتے ہیں، باقی سب تو نااہل ہیں۔
2. کچھ کو کنٹرول کا نشہ ہے۔ ہر چیز پر پہرہ دینا ہے، جیسے دنیا انہی کے قابو میں چلتی ہے۔
3. کچھ کو اعتماد نہیں ہوتا اپنے اسٹاف پر۔ اور کچھ کی انا اتنی بڑی ہے کہ کہتے ہیں: “ہیرو تو میں ہی ہوں، باقی سب ایکسٹرا ہیں۔”
اب بھائیو اور بہنو! اگر آپ ہر کام خود ہی کریں گے تو آپ کا ادارہ ایک ریڑھی کی دکان سے آگے نہیں بڑھے گا۔ کیونکہ وہاں بھی ریڑھی والا خود ہی برتن دھو رہا ہوتا ہے، خود ہی چٹنی بنا رہا ہوتا ہے، اور خود ہی آواز لگا رہا ہوتا ہے: “آلو چھولے گرم گرم!”
حل کیا ہے؟
ڈیلیگیشن! یعنی کام بانٹنا۔
لیکن یہ ایسے نہیں ہوتا کہ آپ کہیں: “تم یہ کر لو” اور پھر بھاگ جائیں۔ نہیں! کچھ اصول ہیں:
1. صحیح بندہ چنیں۔ ہر کام ہر کسی کے بس کا نہیں۔ گاڑی ڈرائیور سے چلوائیں، مالی سے پریزنٹیشن نہ بنوائیں۔
2. صاف ہدایت دیں۔ یہ نہ کہیں: “یار رپورٹ اچھی بنا دینا۔” بلکہ کہیں: “پانچ صفحے کی رپورٹ، جمعہ کو دوپہر تین بجے چاہیے، ورڈ میں، اور باس کو سمجھ آجائے۔”
3. کنٹرول کریں، کنٹرول فریک نہ بنیں۔ مطلب، پروگریس دیکھیں لیکن ہر دو منٹ میں نہ پوچھیں: “ہو گیا؟ ہو گیا؟ ہو گیا؟”
4. غلطی کی گنجائش دیں۔ اگر پہلی بار تھوڑا خراب ہوا تو سمجھائیں، چھین کر واپس نہ کر لیں۔ ورنہ بیچارہ اگلی بار کچھ کرے گا ہی نہیں۔
5. شکریہ کہنا نہ بھولیں۔ جب بندہ اچھا کرے تو تعریف کریں۔ انسان تعریف پر پالتو کتے کی طرح خوش ہو جاتا ہے۔
مزے کے مثالیں:
• گھر میں، امی ہر وقت بچوں کو کہتی ہیں: “یہ بھی میں کروں گی، وہ بھی میں کروں گی۔” ارے بی بی! کبھی بچوں کو جھاڑو پکڑاؤ، برتن دھلواؤ، تاکہ وہ بھی سیکھیں۔
• دفتر میں، باس سوچتا ہے: “سوشل میڈیا پوسٹ بھی میں خود بناؤں گا۔” بھائی، باس میمز بنانے کے لیے نہیں ہوتا، اس کا کام ویژن دینا ہے۔
• کاروبار میں، بزنس مین خود ہی گاہک سے بات کرے، خود ہی ریسیپشن پر بیٹھے، اور خود ہی صفائی کرے تو وہ بزنس مین نہیں، سوپر مین ہے!
آخر میں…
پرفیکشنسٹ بھائیو! یہ یاد رکھیں کہ “ڈن از بیٹر دین پرفیکٹ۔” اگر آپ سب کچھ خود کریں گے تو ادارہ کبھی بڑا نہیں ہوگا۔ آپ کا اصل کام یہ ہے کہ ٹیم کو سکھائیں، اعتماد کریں، اور پھر ان کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔
ڈیلیگیشن کام چھوڑنے کا نام نہیں، یہ کام بڑھانے کا طریقہ ہے۔ اور یاد رکھیں، جب آپ بانٹتے ہیں تو کام کم نہیں ہوتا… بڑھتا ہے!
شکریہ!
تقریر: “ڈیلیگیشن کا درد”
حضرات و خواتین!
السلام علیکم!
آج میں آپ کو ایک ایسا راز بتانے جا رہا ہوں جس نے کتنے ہی ادارے، کمپنیاں اور کاروبار برباد کر دیے ہیں۔ اور وہ راز ہے: ہمیں کام بانٹنا نہیں آتا۔
جی ہاں! ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم خود اپنے ہاتھ سے کام کریں گے تو ہی بہترین ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنے ادارے کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
اب ذرا سوچیں… ایک مینیجر ہے، خود ہی فائل بھی بنا رہا ہے، خود ہی چائے بھی پلا رہا ہے، اور خود ہی بوس کے لیے پریزنٹیشن بھی تیار کر رہا ہے۔ نتیجہ؟ نہ فائل اچھی بنی، نہ چائے میں شکر تھی، نہ پریزنٹیشن میں دم تھا۔ لیکن بھائی صاحب خوش ہیں کہ “میں نے سب کچھ اپنے ہاتھ سے کیا!”
یہ بیماری کیوں ہے؟
1. کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پرفیکشنسٹ ہیں۔ مطلب وہی کام صحیح کر سکتے ہیں، باقی سب تو نااہل ہیں۔
2. کچھ کو کنٹرول کا نشہ ہے۔ ہر چیز پر پہرہ دینا ہے، جیسے دنیا انہی کے قابو میں چلتی ہے۔
3. کچھ کو اعتماد نہیں ہوتا اپنے اسٹاف پر۔ اور کچھ کی انا اتنی بڑی ہے کہ کہتے ہیں: “ہیرو تو میں ہی ہوں، باقی سب ایکسٹرا ہیں۔”
اب بھائیو اور بہنو! اگر آپ ہر کام خود ہی کریں گے تو آپ کا ادارہ ایک ریڑھی کی دکان سے آگے نہیں بڑھے گا۔ کیونکہ وہاں بھی ریڑھی والا خود ہی برتن دھو رہا ہوتا ہے، خود ہی چٹنی بنا رہا ہوتا ہے، اور خود ہی آواز لگا رہا ہوتا ہے: “آلو چھولے گرم گرم!”
حل کیا ہے؟
ڈیلیگیشن! یعنی کام بانٹنا۔
لیکن یہ ایسے نہیں ہوتا کہ آپ کہیں: “تم یہ کر لو” اور پھر بھاگ جائیں۔ نہیں! کچھ اصول ہیں:
1. صحیح بندہ چنیں۔ ہر کام ہر کسی کے بس کا نہیں۔ گاڑی ڈرائیور سے چلوائیں، مالی سے پریزنٹیشن نہ بنوائیں۔
2. صاف ہدایت دیں۔ یہ نہ کہیں: “یار رپورٹ اچھی بنا دینا۔” بلکہ کہیں: “پانچ صفحے کی رپورٹ، جمعہ کو دوپہر تین بجے چاہیے، ورڈ میں، اور باس کو سمجھ آجائے۔”
3. کنٹرول کریں، کنٹرول فریک نہ بنیں۔ مطلب، پروگریس دیکھیں لیکن ہر دو منٹ میں نہ پوچھیں: “ہو گیا؟ ہو گیا؟ ہو گیا؟”
4. غلطی کی گنجائش دیں۔ اگر پہلی بار تھوڑا خراب ہوا تو سمجھائیں، چھین کر واپس نہ کر لیں۔ ورنہ بیچارہ اگلی بار کچھ کرے گا ہی نہیں۔
5. شکریہ کہنا نہ بھولیں۔ جب بندہ اچھا کرے تو تعریف کریں۔ انسان تعریف پر پالتو کتے کی طرح خوش ہو جاتا ہے۔
مزے کے مثالیں:
• گھر میں، امی ہر وقت بچوں کو کہتی ہیں: “یہ بھی میں کروں گی، وہ بھی میں کروں گی۔” ارے بی بی! کبھی بچوں کو جھاڑو پکڑاؤ، برتن دھلواؤ، تاکہ وہ بھی سیکھیں۔
• دفتر میں، باس سوچتا ہے: “سوشل میڈیا پوسٹ بھی میں خود بناؤں گا۔” بھائی، باس میمز بنانے کے لیے نہیں ہوتا، اس کا کام ویژن دینا ہے۔
• کاروبار میں، بزنس مین خود ہی گاہک سے بات کرے، خود ہی ریسیپشن پر بیٹھے، اور خود ہی صفائی کرے تو وہ بزنس مین نہیں، سوپر مین ہے!
آخر میں…
پرفیکشنسٹ بھائیو! یہ یاد رکھیں کہ “ڈن از بیٹر دین پرفیکٹ۔” اگر آپ سب کچھ خود کریں گے تو ادارہ کبھی بڑا نہیں ہوگا۔ آپ کا اصل کام یہ ہے کہ ٹیم کو سکھائیں، اعتماد کریں، اور پھر ان کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔
ڈیلیگیشن کام چھوڑنے کا نام نہیں، یہ کام بڑھانے کا طریقہ ہے۔ اور یاد رکھیں، جب آپ بانٹتے ہیں تو کام کم نہیں ہوتا… بڑھتا ہے!
شکریہ!
0 Comments
0 Shares
112 Views