“اگر آپ افسردہ ہیں تو آپ ماضی میں جی رہے ہیں۔ اگر آپ پریشان ہیں تو آپ مستقبل میں جی رہے ہیں۔ اگر آپ پرسکون ہیں تو آپ حال میں جی رہے ہیں۔” – لاؤزو
خواتین و حضرات،
آج میں آپ کے ساتھ ایک ایسی سچائی بانٹنا چاہتا ہوں جو بظاہر بہت سادہ ہے مگر اس میں زندگی بدلنے کی طاقت ہے۔ یہ الفاظ مشہور فلسفی لاؤزو نے کہے تھے، اور ان میں خوشی، آزادی اور سکون کا راز چھپا ہوا ہے۔
سوچیں ذرا! جب ہم ماضی میں رہتے ہیں تو ہم پچھتاوے، غم اور دکھ کے بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ ہم بار بار پرانی غلطیاں دہراتے ہیں، حالانکہ وہ وقت کبھی واپس نہیں آ سکتا۔ ماضی کی زنجیروں میں قید رہنا ہی افسردگی کی اصل وجہ ہے۔
جب ہم مستقبل میں رہتے ہیں تو دل خوف اور بےچینی سے بھر جاتا ہے۔ اگر ناکام ہو گیا تو؟ اگر سب کچھ بگڑ گیا تو؟ ہم ان چیزوں سے ڈرتے ہیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ یہی فکر اور بے سکونی ہمیں پریشان کر دیتی ہے۔
لیکن جب ہم حال میں رہتے ہیں، اس لمحے میں، تو ہمیں سکون ملتا ہے۔ اسی لمحے ہم سانس لے سکتے ہیں، مسکرا سکتے ہیں، محبت کر سکتے ہیں۔ زندگی صرف حال میں موجود ہے۔ نہ کل میں، نہ کل کے بعد میں—بلکہ صرف ابھی میں۔
تو میں آپ سے پوچھتا ہوں: کیوں ہم کل کے دکھوں یا کل کے ڈر کو آج کی خوشی چھیننے دیں؟ کیوں ہم وقت کے قیدی بنیں جبکہ آزادی بس ایک سانس کی دُوری پر ہے؟
میرے دوستو! ماضی سے سیکھیں، مستقبل کے لیے تیاری کریں، لیکن زندگی آج گزاریں۔ سکون نہ “جو تھا” میں ہے اور نہ “جو ہوگا” میں، بلکہ صرف “جو ہے” میں ہے۔
تو آج جب آپ گھر جائیں تو گہری سانس لیں، آنکھیں بند کریں، اور اپنے دل سے کہیں: میں یہیں ہوں، میں زندہ ہوں، میں پرسکون ہوں۔
شکریہ۔
خواتین و حضرات،
آج میں آپ کے ساتھ ایک ایسی سچائی بانٹنا چاہتا ہوں جو بظاہر بہت سادہ ہے مگر اس میں زندگی بدلنے کی طاقت ہے۔ یہ الفاظ مشہور فلسفی لاؤزو نے کہے تھے، اور ان میں خوشی، آزادی اور سکون کا راز چھپا ہوا ہے۔
سوچیں ذرا! جب ہم ماضی میں رہتے ہیں تو ہم پچھتاوے، غم اور دکھ کے بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ ہم بار بار پرانی غلطیاں دہراتے ہیں، حالانکہ وہ وقت کبھی واپس نہیں آ سکتا۔ ماضی کی زنجیروں میں قید رہنا ہی افسردگی کی اصل وجہ ہے۔
جب ہم مستقبل میں رہتے ہیں تو دل خوف اور بےچینی سے بھر جاتا ہے۔ اگر ناکام ہو گیا تو؟ اگر سب کچھ بگڑ گیا تو؟ ہم ان چیزوں سے ڈرتے ہیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ یہی فکر اور بے سکونی ہمیں پریشان کر دیتی ہے۔
لیکن جب ہم حال میں رہتے ہیں، اس لمحے میں، تو ہمیں سکون ملتا ہے۔ اسی لمحے ہم سانس لے سکتے ہیں، مسکرا سکتے ہیں، محبت کر سکتے ہیں۔ زندگی صرف حال میں موجود ہے۔ نہ کل میں، نہ کل کے بعد میں—بلکہ صرف ابھی میں۔
تو میں آپ سے پوچھتا ہوں: کیوں ہم کل کے دکھوں یا کل کے ڈر کو آج کی خوشی چھیننے دیں؟ کیوں ہم وقت کے قیدی بنیں جبکہ آزادی بس ایک سانس کی دُوری پر ہے؟
میرے دوستو! ماضی سے سیکھیں، مستقبل کے لیے تیاری کریں، لیکن زندگی آج گزاریں۔ سکون نہ “جو تھا” میں ہے اور نہ “جو ہوگا” میں، بلکہ صرف “جو ہے” میں ہے۔
تو آج جب آپ گھر جائیں تو گہری سانس لیں، آنکھیں بند کریں، اور اپنے دل سے کہیں: میں یہیں ہوں، میں زندہ ہوں، میں پرسکون ہوں۔
شکریہ۔
“اگر آپ افسردہ ہیں تو آپ ماضی میں جی رہے ہیں۔ اگر آپ پریشان ہیں تو آپ مستقبل میں جی رہے ہیں۔ اگر آپ پرسکون ہیں تو آپ حال میں جی رہے ہیں۔” – لاؤزو
خواتین و حضرات،
آج میں آپ کے ساتھ ایک ایسی سچائی بانٹنا چاہتا ہوں جو بظاہر بہت سادہ ہے مگر اس میں زندگی بدلنے کی طاقت ہے۔ یہ الفاظ مشہور فلسفی لاؤزو نے کہے تھے، اور ان میں خوشی، آزادی اور سکون کا راز چھپا ہوا ہے۔
سوچیں ذرا! جب ہم ماضی میں رہتے ہیں تو ہم پچھتاوے، غم اور دکھ کے بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ ہم بار بار پرانی غلطیاں دہراتے ہیں، حالانکہ وہ وقت کبھی واپس نہیں آ سکتا۔ ماضی کی زنجیروں میں قید رہنا ہی افسردگی کی اصل وجہ ہے۔
جب ہم مستقبل میں رہتے ہیں تو دل خوف اور بےچینی سے بھر جاتا ہے۔ اگر ناکام ہو گیا تو؟ اگر سب کچھ بگڑ گیا تو؟ ہم ان چیزوں سے ڈرتے ہیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ یہی فکر اور بے سکونی ہمیں پریشان کر دیتی ہے۔
لیکن جب ہم حال میں رہتے ہیں، اس لمحے میں، تو ہمیں سکون ملتا ہے۔ اسی لمحے ہم سانس لے سکتے ہیں، مسکرا سکتے ہیں، محبت کر سکتے ہیں۔ زندگی صرف حال میں موجود ہے۔ نہ کل میں، نہ کل کے بعد میں—بلکہ صرف ابھی میں۔
تو میں آپ سے پوچھتا ہوں: کیوں ہم کل کے دکھوں یا کل کے ڈر کو آج کی خوشی چھیننے دیں؟ کیوں ہم وقت کے قیدی بنیں جبکہ آزادی بس ایک سانس کی دُوری پر ہے؟
میرے دوستو! ماضی سے سیکھیں، مستقبل کے لیے تیاری کریں، لیکن زندگی آج گزاریں۔ سکون نہ “جو تھا” میں ہے اور نہ “جو ہوگا” میں، بلکہ صرف “جو ہے” میں ہے۔
تو آج جب آپ گھر جائیں تو گہری سانس لیں، آنکھیں بند کریں، اور اپنے دل سے کہیں: میں یہیں ہوں، میں زندہ ہوں، میں پرسکون ہوں۔
شکریہ۔
0 Comments
0 Shares
93 Views