یومیہ ایک مقدمہ زیادہ: کیوں پاکستانی عدلیہ کو فوری طور پر AI اپنانا چاہئے
سکھر کی ایک ماں نے وراثت کا ایک سادہ مقدمہ دائر کیا۔ اسے یقین تھا کہ چند مہینوں میں انصاف مل جائے گا۔ مگر مہینے برسوں میں بدل گئے۔ اس کا بیٹا جوان ہوگیا اور فائل کمرہ عدالت میں دھول کھاتی رہی۔
یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے جو برسوں سے مقدمات کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر 2023 میں پاکستان کی عدالتوں میں 22 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں سے 82 فیصد صرف ضلعی عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی 57 ہزار مقدمات اگست 2025 تک زیرِ سماعت تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال نئے مقدمات کی تعداد نمٹائے گئے مقدمات سے زیادہ ہے۔ صرف چھ مہینوں میں 23 لاکھ 80 ہزار نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ 23 لاکھ کیسز نمٹائے گئے۔ یوں صرف آدھے سال میں 80 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوگیا۔
پاکستان میں اس وقت بمشکل چار ہزار ججز ہیں جو 25 کروڑ آبادی کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی ایک جج تقریباً 63 ہزار افراد کے لئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب کئی گنا بہتر ہے۔
تصویر تاریک لگتی ہے مگر ایک چھوٹی سی کرنِ اُمید بھی ہے: اگر ہر جج روزانہ صرف ایک مقدمہ زیادہ نمٹا دے تو پورا بیک لاگ محض چار سال میں ختم ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں، ایک سادہ سا ریاضی کا حساب ہے۔
⸻
AI کیوں؟
دنیا بھر میں عدالتی نظام وقت بچانے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) استعمال کر رہے ہیں۔
• بھارت کی سپریم کورٹ نے AI لائیو ٹرانسکرپشن اور ای-فائلنگ ٹولز آزمانے شروع کر دیے ہیں۔
• پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی ای-کورٹ ویڈیو لنک سماعتیں 2019 سے شروع کر رکھی ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم جدیدیت اپنا سکتے ہیں۔
• دنیا بھر میں تجربات یہ دکھا چکے ہیں کہ AI بعض اوقات انسانی وکلاء سے زیادہ تیز اور درست کام کرتا ہے۔ ایک ٹیسٹ میں AI نے معاہدے کا تجزیہ 26 سیکنڈ میں کر لیا جبکہ وکیل کو 92 منٹ لگے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وکلاء اور ججز کے پاس وہ وقت واپس آسکتا ہے جو فالتو کاغذی کارروائی کھا جاتی ہے۔
⸻
پاکستانی وکلاء کے لئے پانچ فوری فوائد
صرف ChatGPT اور Perplexity جیسے عام ٹولز کے ذریعے بھی وکلاء آج سے اپنی کارکردگی بڑھا سکتے ہیں:
1. تحقیق میں تیزی: قانون کی دفعات اور نظائر سیکنڈوں میں سامنے۔
2. مسودہ نویسی: عریضہ، دلائل اور جرح کے سوالات کا پہلا مسودہ AI تیار کر دے، وکیل صرف ترمیم کرے۔ وقت کی بچت 30 سے 50 فیصد۔
3. ترجمہ اور ٹرانسکرپشن: عدالت کی کارروائی ریکارڈ کر کے اردو اور انگریزی متن فوراً تیار ہو سکتا ہے۔
4. کاز لسٹ کی تیاری: ہفتہ وار مقدمات کا خودکار خلاصہ اور بریف۔
5. موکل سے رابطہ: سادہ زبان میں کیس کی وضاحت، کم سوال، کم وقت ضائع۔
⸻
انصاف اور معیشت کا رشتہ
انصاف میں تاخیر صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں کسی معاہدے کو نافذ کروانے میں ماضی میں اوسطاً 1000 دن سے زائد لگتے تھے۔ یہ تاخیر سرمایہ کاری کو روکتی ہے، کاروبار کو نقصان پہنچاتی ہے اور نوجوانوں کو مایوس کرتی ہے۔
اگر مقدمات تیزی سے نمٹنے لگیں تو پاکستان کی کاروباری فضا بدلے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور عام آدمی کو اعتماد ملے گا کہ اس کا حق جلد ملے گا۔
⸻
آئندہ 90 دنوں کا لائحہ عمل
یہ انقلاب اربوں روپے کا محتاج نہیں، صرف ارادے کا۔
• بار کونسلز کو چاہئے کہ وکلاء کے لئے 20 گھنٹے کا لازمی AI کورس فوراً متعارف کرائیں۔
• ہائی کورٹس 50 عدالتوں میں AI ٹرانسکرپشن اور ڈرافٹنگ پائلٹ شروع کریں۔
• ای-فائلنگ اسسٹنٹ متعارف کرایا جائے تاکہ ججز کے سامنے صرف مکمل اور درست فائلز پہنچیں۔
• روزانہ و ہفتہ وار ڈیش بورڈز شائع ہوں تاکہ پیش رفت سب کو نظر آئے۔
⸻
نتیجہ: انصاف مؤخر ہونا تقدیر نہیں
انصاف میں تاخیر ہماری تقدیر نہیں، یہ صرف ایک عملیاتی مسئلہ ہے۔ اور ایسے مسائل ٹیکنالوجی سے حل ہوتے ہیں۔
AI وکیل یا جج کی جگہ نہیں لے گا، یہ صرف ان کے لئے وقت واپس لے کر آئے گا۔
اگر ہم آج ہمت کریں تو یومیہ ایک مقدمہ زیادہ نمٹانے سے چار برس میں لاکھوں خاندانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔
یاد رکھئے: صرف ایک مقدمہ روزانہ زیادہ۔ اتنا ہی کافی ہے۔
⸻
کیا آپ چاہتے ہیں میں اسی اوپ-ایڈ کو مزید مختصر کر کے (700–800 الفاظ میں) ڈان کے کالم سائز کے مطابق بنا دوں تاکہ براہِ راست بھیجا جا سکے؟
سکھر کی ایک ماں نے وراثت کا ایک سادہ مقدمہ دائر کیا۔ اسے یقین تھا کہ چند مہینوں میں انصاف مل جائے گا۔ مگر مہینے برسوں میں بدل گئے۔ اس کا بیٹا جوان ہوگیا اور فائل کمرہ عدالت میں دھول کھاتی رہی۔
یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے جو برسوں سے مقدمات کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر 2023 میں پاکستان کی عدالتوں میں 22 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں سے 82 فیصد صرف ضلعی عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی 57 ہزار مقدمات اگست 2025 تک زیرِ سماعت تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال نئے مقدمات کی تعداد نمٹائے گئے مقدمات سے زیادہ ہے۔ صرف چھ مہینوں میں 23 لاکھ 80 ہزار نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ 23 لاکھ کیسز نمٹائے گئے۔ یوں صرف آدھے سال میں 80 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوگیا۔
پاکستان میں اس وقت بمشکل چار ہزار ججز ہیں جو 25 کروڑ آبادی کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی ایک جج تقریباً 63 ہزار افراد کے لئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب کئی گنا بہتر ہے۔
تصویر تاریک لگتی ہے مگر ایک چھوٹی سی کرنِ اُمید بھی ہے: اگر ہر جج روزانہ صرف ایک مقدمہ زیادہ نمٹا دے تو پورا بیک لاگ محض چار سال میں ختم ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں، ایک سادہ سا ریاضی کا حساب ہے۔
⸻
AI کیوں؟
دنیا بھر میں عدالتی نظام وقت بچانے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) استعمال کر رہے ہیں۔
• بھارت کی سپریم کورٹ نے AI لائیو ٹرانسکرپشن اور ای-فائلنگ ٹولز آزمانے شروع کر دیے ہیں۔
• پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی ای-کورٹ ویڈیو لنک سماعتیں 2019 سے شروع کر رکھی ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم جدیدیت اپنا سکتے ہیں۔
• دنیا بھر میں تجربات یہ دکھا چکے ہیں کہ AI بعض اوقات انسانی وکلاء سے زیادہ تیز اور درست کام کرتا ہے۔ ایک ٹیسٹ میں AI نے معاہدے کا تجزیہ 26 سیکنڈ میں کر لیا جبکہ وکیل کو 92 منٹ لگے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وکلاء اور ججز کے پاس وہ وقت واپس آسکتا ہے جو فالتو کاغذی کارروائی کھا جاتی ہے۔
⸻
پاکستانی وکلاء کے لئے پانچ فوری فوائد
صرف ChatGPT اور Perplexity جیسے عام ٹولز کے ذریعے بھی وکلاء آج سے اپنی کارکردگی بڑھا سکتے ہیں:
1. تحقیق میں تیزی: قانون کی دفعات اور نظائر سیکنڈوں میں سامنے۔
2. مسودہ نویسی: عریضہ، دلائل اور جرح کے سوالات کا پہلا مسودہ AI تیار کر دے، وکیل صرف ترمیم کرے۔ وقت کی بچت 30 سے 50 فیصد۔
3. ترجمہ اور ٹرانسکرپشن: عدالت کی کارروائی ریکارڈ کر کے اردو اور انگریزی متن فوراً تیار ہو سکتا ہے۔
4. کاز لسٹ کی تیاری: ہفتہ وار مقدمات کا خودکار خلاصہ اور بریف۔
5. موکل سے رابطہ: سادہ زبان میں کیس کی وضاحت، کم سوال، کم وقت ضائع۔
⸻
انصاف اور معیشت کا رشتہ
انصاف میں تاخیر صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں کسی معاہدے کو نافذ کروانے میں ماضی میں اوسطاً 1000 دن سے زائد لگتے تھے۔ یہ تاخیر سرمایہ کاری کو روکتی ہے، کاروبار کو نقصان پہنچاتی ہے اور نوجوانوں کو مایوس کرتی ہے۔
اگر مقدمات تیزی سے نمٹنے لگیں تو پاکستان کی کاروباری فضا بدلے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور عام آدمی کو اعتماد ملے گا کہ اس کا حق جلد ملے گا۔
⸻
آئندہ 90 دنوں کا لائحہ عمل
یہ انقلاب اربوں روپے کا محتاج نہیں، صرف ارادے کا۔
• بار کونسلز کو چاہئے کہ وکلاء کے لئے 20 گھنٹے کا لازمی AI کورس فوراً متعارف کرائیں۔
• ہائی کورٹس 50 عدالتوں میں AI ٹرانسکرپشن اور ڈرافٹنگ پائلٹ شروع کریں۔
• ای-فائلنگ اسسٹنٹ متعارف کرایا جائے تاکہ ججز کے سامنے صرف مکمل اور درست فائلز پہنچیں۔
• روزانہ و ہفتہ وار ڈیش بورڈز شائع ہوں تاکہ پیش رفت سب کو نظر آئے۔
⸻
نتیجہ: انصاف مؤخر ہونا تقدیر نہیں
انصاف میں تاخیر ہماری تقدیر نہیں، یہ صرف ایک عملیاتی مسئلہ ہے۔ اور ایسے مسائل ٹیکنالوجی سے حل ہوتے ہیں۔
AI وکیل یا جج کی جگہ نہیں لے گا، یہ صرف ان کے لئے وقت واپس لے کر آئے گا۔
اگر ہم آج ہمت کریں تو یومیہ ایک مقدمہ زیادہ نمٹانے سے چار برس میں لاکھوں خاندانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔
یاد رکھئے: صرف ایک مقدمہ روزانہ زیادہ۔ اتنا ہی کافی ہے۔
⸻
کیا آپ چاہتے ہیں میں اسی اوپ-ایڈ کو مزید مختصر کر کے (700–800 الفاظ میں) ڈان کے کالم سائز کے مطابق بنا دوں تاکہ براہِ راست بھیجا جا سکے؟
یومیہ ایک مقدمہ زیادہ: کیوں پاکستانی عدلیہ کو فوری طور پر AI اپنانا چاہئے
سکھر کی ایک ماں نے وراثت کا ایک سادہ مقدمہ دائر کیا۔ اسے یقین تھا کہ چند مہینوں میں انصاف مل جائے گا۔ مگر مہینے برسوں میں بدل گئے۔ اس کا بیٹا جوان ہوگیا اور فائل کمرہ عدالت میں دھول کھاتی رہی۔
یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے جو برسوں سے مقدمات کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر 2023 میں پاکستان کی عدالتوں میں 22 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں سے 82 فیصد صرف ضلعی عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی 57 ہزار مقدمات اگست 2025 تک زیرِ سماعت تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال نئے مقدمات کی تعداد نمٹائے گئے مقدمات سے زیادہ ہے۔ صرف چھ مہینوں میں 23 لاکھ 80 ہزار نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ 23 لاکھ کیسز نمٹائے گئے۔ یوں صرف آدھے سال میں 80 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوگیا۔
پاکستان میں اس وقت بمشکل چار ہزار ججز ہیں جو 25 کروڑ آبادی کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی ایک جج تقریباً 63 ہزار افراد کے لئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب کئی گنا بہتر ہے۔
تصویر تاریک لگتی ہے مگر ایک چھوٹی سی کرنِ اُمید بھی ہے: اگر ہر جج روزانہ صرف ایک مقدمہ زیادہ نمٹا دے تو پورا بیک لاگ محض چار سال میں ختم ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں، ایک سادہ سا ریاضی کا حساب ہے۔
⸻
AI کیوں؟
دنیا بھر میں عدالتی نظام وقت بچانے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) استعمال کر رہے ہیں۔
• بھارت کی سپریم کورٹ نے AI لائیو ٹرانسکرپشن اور ای-فائلنگ ٹولز آزمانے شروع کر دیے ہیں۔
• پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی ای-کورٹ ویڈیو لنک سماعتیں 2019 سے شروع کر رکھی ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم جدیدیت اپنا سکتے ہیں۔
• دنیا بھر میں تجربات یہ دکھا چکے ہیں کہ AI بعض اوقات انسانی وکلاء سے زیادہ تیز اور درست کام کرتا ہے۔ ایک ٹیسٹ میں AI نے معاہدے کا تجزیہ 26 سیکنڈ میں کر لیا جبکہ وکیل کو 92 منٹ لگے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وکلاء اور ججز کے پاس وہ وقت واپس آسکتا ہے جو فالتو کاغذی کارروائی کھا جاتی ہے۔
⸻
پاکستانی وکلاء کے لئے پانچ فوری فوائد
صرف ChatGPT اور Perplexity جیسے عام ٹولز کے ذریعے بھی وکلاء آج سے اپنی کارکردگی بڑھا سکتے ہیں:
1. تحقیق میں تیزی: قانون کی دفعات اور نظائر سیکنڈوں میں سامنے۔
2. مسودہ نویسی: عریضہ، دلائل اور جرح کے سوالات کا پہلا مسودہ AI تیار کر دے، وکیل صرف ترمیم کرے۔ وقت کی بچت 30 سے 50 فیصد۔
3. ترجمہ اور ٹرانسکرپشن: عدالت کی کارروائی ریکارڈ کر کے اردو اور انگریزی متن فوراً تیار ہو سکتا ہے۔
4. کاز لسٹ کی تیاری: ہفتہ وار مقدمات کا خودکار خلاصہ اور بریف۔
5. موکل سے رابطہ: سادہ زبان میں کیس کی وضاحت، کم سوال، کم وقت ضائع۔
⸻
انصاف اور معیشت کا رشتہ
انصاف میں تاخیر صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں کسی معاہدے کو نافذ کروانے میں ماضی میں اوسطاً 1000 دن سے زائد لگتے تھے۔ یہ تاخیر سرمایہ کاری کو روکتی ہے، کاروبار کو نقصان پہنچاتی ہے اور نوجوانوں کو مایوس کرتی ہے۔
اگر مقدمات تیزی سے نمٹنے لگیں تو پاکستان کی کاروباری فضا بدلے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور عام آدمی کو اعتماد ملے گا کہ اس کا حق جلد ملے گا۔
⸻
آئندہ 90 دنوں کا لائحہ عمل
یہ انقلاب اربوں روپے کا محتاج نہیں، صرف ارادے کا۔
• بار کونسلز کو چاہئے کہ وکلاء کے لئے 20 گھنٹے کا لازمی AI کورس فوراً متعارف کرائیں۔
• ہائی کورٹس 50 عدالتوں میں AI ٹرانسکرپشن اور ڈرافٹنگ پائلٹ شروع کریں۔
• ای-فائلنگ اسسٹنٹ متعارف کرایا جائے تاکہ ججز کے سامنے صرف مکمل اور درست فائلز پہنچیں۔
• روزانہ و ہفتہ وار ڈیش بورڈز شائع ہوں تاکہ پیش رفت سب کو نظر آئے۔
⸻
نتیجہ: انصاف مؤخر ہونا تقدیر نہیں
انصاف میں تاخیر ہماری تقدیر نہیں، یہ صرف ایک عملیاتی مسئلہ ہے۔ اور ایسے مسائل ٹیکنالوجی سے حل ہوتے ہیں۔
AI وکیل یا جج کی جگہ نہیں لے گا، یہ صرف ان کے لئے وقت واپس لے کر آئے گا۔
اگر ہم آج ہمت کریں تو یومیہ ایک مقدمہ زیادہ نمٹانے سے چار برس میں لاکھوں خاندانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔
یاد رکھئے: صرف ایک مقدمہ روزانہ زیادہ۔ اتنا ہی کافی ہے۔
⸻
کیا آپ چاہتے ہیں میں اسی اوپ-ایڈ کو مزید مختصر کر کے (700–800 الفاظ میں) ڈان کے کالم سائز کے مطابق بنا دوں تاکہ براہِ راست بھیجا جا سکے؟
0 Commenti
0 condivisioni
152 Views