درست اور مستند حدیث موجود ہے جس میں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:

“النَّاسُ مَعَادِنٌ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ…”
«لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں۔ جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہترین تھے، وہ اسلام میں بھی بہترین رہیں گے بشرطیکہ دین کو سمجھیں۔ اور روحیں فوج کی طرح ہیں — جو ایک دوسرے کو پہچانتی تھیں، وہ یہاں بھی ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں، اور جو نہیں تھیں، وہ جدا رہتی ہیں۔»


یہ حدیث اہلِ سنت کے معتبر مجموعہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 6709 (ترقیم 2638) کے تحت موجود ہے ۔



تشریح و معنٰی:
• تشبیہ:
حضرت ﷺ نے انسانوں کی طبیعت اور صلاحیتوں کو مختلف کانوں جیسے ظاہر فرمایا: کچھ کان سونا و چاندی پیدا کرتے ہیں، جبکہ دیگر کم قیمت معدنیات۔ اسی طرح کچھ انسان اخلاق، کردار اور علم میں اعلیٰ ہوتے ہیں، اور کچھ کم۔
• فضل و مرتبہ:
وہ لوگ جو جاہلیت کے دور میں شرافت، سخاوت یا شجاعت کی بنا پر ممتاز تھے، اگر اسلام میں داخل ہو کر دین کی حقیقت سمجھیں اور عمل کریں، تو اسلام میں بھی بہترین قرار پائیں گے۔ اسلام لوگوں کو عزت دیتا ہے، ان کے نسب سے نہیں، بلکہ دین کی سمجھ اور علم سے۔  
• روحوں کی قربت:
حدیث کا یہ حصہ کہتا ہے کہ روحیں ایک فوج کی طرح ہیں: وہ جو ایک دوسرے سے قبل از پیدائش ہی قریب تھیں، وہ دنیا میں بھی ساتھ رہتی ہیں—اچھے اچھوں کے ساتھ اور کم نیک لوگوں کے ساتھ۔ 



خلاصہ:
• جی ہاں، صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے اور معتبر ہے۔
• اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی قدر و قیمت موجود ہوتی ہے، جیسا کہ مختلف معادن میں مختلف قیمتی دھاتیں ہوتی ہیں۔
• جو لوگ ابتدا میں اعلیٰ تھے (جاہلیت میں) اور دین کا فہم حاصل کریں، وہ اسلام میں بھی اعلیٰ ترین رہیں گے۔
• نیز یہ پیغام بھی ہے کہ انسانوں کی اصل پہچان ان کی روحانی اور اخلاقی شرافت سے ہوتی ہے، نہ کہ خاندانی نسب یا شکل و صورت سے۔
درست اور مستند حدیث موجود ہے جس میں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: “النَّاسُ مَعَادِنٌ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ…” «لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں۔ جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہترین تھے، وہ اسلام میں بھی بہترین رہیں گے بشرطیکہ دین کو سمجھیں۔ اور روحیں فوج کی طرح ہیں — جو ایک دوسرے کو پہچانتی تھیں، وہ یہاں بھی ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں، اور جو نہیں تھیں، وہ جدا رہتی ہیں۔»  یہ حدیث اہلِ سنت کے معتبر مجموعہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 6709 (ترقیم 2638) کے تحت موجود ہے ۔ ⸻ 💡 تشریح و معنٰی: • تشبیہ: حضرت ﷺ نے انسانوں کی طبیعت اور صلاحیتوں کو مختلف کانوں جیسے ظاہر فرمایا: کچھ کان سونا و چاندی پیدا کرتے ہیں، جبکہ دیگر کم قیمت معدنیات۔ اسی طرح کچھ انسان اخلاق، کردار اور علم میں اعلیٰ ہوتے ہیں، اور کچھ کم۔ • فضل و مرتبہ: وہ لوگ جو جاہلیت کے دور میں شرافت، سخاوت یا شجاعت کی بنا پر ممتاز تھے، اگر اسلام میں داخل ہو کر دین کی حقیقت سمجھیں اور عمل کریں، تو اسلام میں بھی بہترین قرار پائیں گے۔ اسلام لوگوں کو عزت دیتا ہے، ان کے نسب سے نہیں، بلکہ دین کی سمجھ اور علم سے۔   • روحوں کی قربت: حدیث کا یہ حصہ کہتا ہے کہ روحیں ایک فوج کی طرح ہیں: وہ جو ایک دوسرے سے قبل از پیدائش ہی قریب تھیں، وہ دنیا میں بھی ساتھ رہتی ہیں—اچھے اچھوں کے ساتھ اور کم نیک لوگوں کے ساتھ۔  ⸻ 🧠 خلاصہ: • جی ہاں، صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے اور معتبر ہے۔ • اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی قدر و قیمت موجود ہوتی ہے، جیسا کہ مختلف معادن میں مختلف قیمتی دھاتیں ہوتی ہیں۔ • جو لوگ ابتدا میں اعلیٰ تھے (جاہلیت میں) اور دین کا فہم حاصل کریں، وہ اسلام میں بھی اعلیٰ ترین رہیں گے۔ • نیز یہ پیغام بھی ہے کہ انسانوں کی اصل پہچان ان کی روحانی اور اخلاقی شرافت سے ہوتی ہے، نہ کہ خاندانی نسب یا شکل و صورت سے۔
0 Comments 0 Shares 269 Views