حضرت رابعہ ایک بار بیمار تھیں۔
ایک لڑکی تیمارداری کے لیے آئی، مگر تھوڑی دیر میں اُکتا گئی۔
رابعہ نے نرمی سے فرمایا:
“بیٹی! جو میری بیماری برداشت نہیں کر سکتی،
وہ میرے علم کی روشنی کیسے سہے گی؟”
علم پہلے دل میں رحم اور خدمت پیدا کرتا ہے۔
اس کے بعد وہ لڑکی ہر روز آتی، خاموشی سے پانی دیتی، کمر دباتی، اور آنکھوں میں عاجزی کے موتی لیے واپس جا
ایک لڑکی تیمارداری کے لیے آئی، مگر تھوڑی دیر میں اُکتا گئی۔
رابعہ نے نرمی سے فرمایا:
“بیٹی! جو میری بیماری برداشت نہیں کر سکتی،
وہ میرے علم کی روشنی کیسے سہے گی؟”
علم پہلے دل میں رحم اور خدمت پیدا کرتا ہے۔
اس کے بعد وہ لڑکی ہر روز آتی، خاموشی سے پانی دیتی، کمر دباتی، اور آنکھوں میں عاجزی کے موتی لیے واپس جا
حضرت رابعہ ایک بار بیمار تھیں۔
ایک لڑکی تیمارداری کے لیے آئی، مگر تھوڑی دیر میں اُکتا گئی۔
رابعہ نے نرمی سے فرمایا:
“بیٹی! جو میری بیماری برداشت نہیں کر سکتی،
وہ میرے علم کی روشنی کیسے سہے گی؟”
علم پہلے دل میں رحم اور خدمت پیدا کرتا ہے۔
اس کے بعد وہ لڑکی ہر روز آتی، خاموشی سے پانی دیتی، کمر دباتی، اور آنکھوں میں عاجزی کے موتی لیے واپس جا
0 Kommentare
0 Anteile
211 Ansichten