جب بھی کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے، دنیا اس پر تنقید کرتی ہے

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی انقلابی ایجاد یا نیا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو سب سے پہلے اسے شک و شبہ، تنقید اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔ جب انہوں نے ہوائی جہاز ایجاد کرنے کی کوشش کی تو انہیں میڈیا، سائنسی برادری اور عوامی حلقوں میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

میڈیا کی طرف سے شکوک و شبہات

انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں، میڈیا اور سائنسی ماہرین کا ماننا تھا کہ انسان کبھی بھی مشینی پرواز کے قابل نہیں ہوگا۔ نیویارک ٹائمز نے 9 اکتوبر 1903 کو ایک اداریہ شائع کیا جس کا عنوان تھا “اڑنے والی مشینیں جو نہیں اڑ سکتیں”۔ اس مضمون میں بیان کیا گیا کہ انسانی پرواز ممکن ہونے میں “10 لاکھ سے 10 ملین سال” لگ سکتے ہیں۔ حیران کن طور پر، صرف دو ماہ بعد، 17 دسمبر 1903 کو، رائٹ برادران نے کامیابی سے اپنی پہلی پرواز مکمل کی۔

سائنسی برادری کی طرف سے عدم اعتماد

اس وقت کے کئی سائنسدان بھی ہوائی جہاز کی ایجاد کے امکان پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ 1895 میں، مشہور موجد تھامس ایڈیسن نے نیویارک ورلڈ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا:
“مجھے صاف نظر آتا ہے کہ ہوائی جہاز کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور ہمیں کسی اور سمت دیکھنا ہوگا۔”
یہ بیان اس دور کی عمومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہوائی جہاز کو ایک ناممکن خواب سمجھا جاتا تھا۔

یورپ میں رائٹ برادران کی تردید

یورپ، خاص طور پر فرانس میں، رائٹ برادران کے دعووں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ 1906 میں، نیویارک ہیرالڈ (پیرس ایڈیشن) نے ایک اداریہ شائع کیا جس میں کہا گیا:
“رائٹ برادران نے پرواز کی ہے یا نہیں؟ ان کے پاس ہوائی جہاز ہے یا نہیں؟ وہ یا تو ہوا میں اڑنے والے ہیں یا پھر جھوٹے!”
یہ بیان یورپی حلقوں میں پائے جانے والے شک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ رائٹ برادران کی کامیابی کو محض ایک دعویٰ سمجھ رہے تھے۔

پیٹنٹ کے جھگڑے اور الزامات

اپنی کامیابی کے بعد، رائٹ برادران نے اپنے ہوائی جہاز کے پیٹنٹ کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی۔ اس پر انہیں کئی تنقیدی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ وہ اپنی قانونی جنگوں کے ذریعے ہوابازی کی ترقی کو روک رہے ہیں۔ کچھ ناقدین نے انہیں محض پیسے کمانے والے افراد قرار دیا جو سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

نتیجہ

یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی نئی ایجاد یا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو ابتدا میں اسے تنقید، مخالفت اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی موجد وہی ہوتے ہیں جو تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنے مقصد پر قائم رہتے ہیں۔ آج، رائٹ برادران کی ایجاد نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، اور وہ ہمیشہ تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔
جب بھی کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے، دنیا اس پر تنقید کرتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی انقلابی ایجاد یا نیا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو سب سے پہلے اسے شک و شبہ، تنقید اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔ جب انہوں نے ہوائی جہاز ایجاد کرنے کی کوشش کی تو انہیں میڈیا، سائنسی برادری اور عوامی حلقوں میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا کی طرف سے شکوک و شبہات انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں، میڈیا اور سائنسی ماہرین کا ماننا تھا کہ انسان کبھی بھی مشینی پرواز کے قابل نہیں ہوگا۔ نیویارک ٹائمز نے 9 اکتوبر 1903 کو ایک اداریہ شائع کیا جس کا عنوان تھا “اڑنے والی مشینیں جو نہیں اڑ سکتیں”۔ اس مضمون میں بیان کیا گیا کہ انسانی پرواز ممکن ہونے میں “10 لاکھ سے 10 ملین سال” لگ سکتے ہیں۔ حیران کن طور پر، صرف دو ماہ بعد، 17 دسمبر 1903 کو، رائٹ برادران نے کامیابی سے اپنی پہلی پرواز مکمل کی۔ سائنسی برادری کی طرف سے عدم اعتماد اس وقت کے کئی سائنسدان بھی ہوائی جہاز کی ایجاد کے امکان پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ 1895 میں، مشہور موجد تھامس ایڈیسن نے نیویارک ورلڈ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا: “مجھے صاف نظر آتا ہے کہ ہوائی جہاز کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور ہمیں کسی اور سمت دیکھنا ہوگا۔” یہ بیان اس دور کی عمومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہوائی جہاز کو ایک ناممکن خواب سمجھا جاتا تھا۔ یورپ میں رائٹ برادران کی تردید یورپ، خاص طور پر فرانس میں، رائٹ برادران کے دعووں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ 1906 میں، نیویارک ہیرالڈ (پیرس ایڈیشن) نے ایک اداریہ شائع کیا جس میں کہا گیا: “رائٹ برادران نے پرواز کی ہے یا نہیں؟ ان کے پاس ہوائی جہاز ہے یا نہیں؟ وہ یا تو ہوا میں اڑنے والے ہیں یا پھر جھوٹے!” یہ بیان یورپی حلقوں میں پائے جانے والے شک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ رائٹ برادران کی کامیابی کو محض ایک دعویٰ سمجھ رہے تھے۔ پیٹنٹ کے جھگڑے اور الزامات اپنی کامیابی کے بعد، رائٹ برادران نے اپنے ہوائی جہاز کے پیٹنٹ کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی۔ اس پر انہیں کئی تنقیدی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ وہ اپنی قانونی جنگوں کے ذریعے ہوابازی کی ترقی کو روک رہے ہیں۔ کچھ ناقدین نے انہیں محض پیسے کمانے والے افراد قرار دیا جو سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ نتیجہ یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی نئی ایجاد یا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو ابتدا میں اسے تنقید، مخالفت اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی موجد وہی ہوتے ہیں جو تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنے مقصد پر قائم رہتے ہیں۔ آج، رائٹ برادران کی ایجاد نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، اور وہ ہمیشہ تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔
0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 165 Views