طلوع اسلام
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟
فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی
یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی
ترجمہ اور وضاحت
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ترجمہ:
اگر عقل نے “لا الہ” یعنی “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں” کہہ بھی دیا تو اس کا کیا فائدہ؟
اگر مسلمان کا دل اور نظر ایمان سے خالی ہیں، تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
وضاحت:
اقبال اس شعر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ محض زبانی اقرار یا عقلی طور پر مان لینا کافی نہیں ہے۔ حقیقی ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزین ہو اور انسان کی بصیرت کو متاثر کرے۔ اگر ایمان دل اور نظر میں نہ ہو تو یہ بیکار ہے۔
طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے
ترجمہ:
پہاڑ کو سر کرنے کے طریقے میں وہی پرانے حربے ہیں،
جو مسافر کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔
وضاحت:
اقبال یہاں پر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جو لوگ ترقی یا جدوجہد کے دعوے کرتے ہیں، وہ اکثر پرانی اور غیر مؤثر حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔ یہ راستے، حقیقی رہنمائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
ترجمہ:
تجھے بتوں سے امیدیں ہیں اور اللہ سے مایوسی،
مجھے بتا کہ اس سے بڑھ کر کفر کیا ہو سکتا ہے؟
وضاحت:
یہاں اقبال مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے امیدیں توڑ چکے ہیں لیکن دنیاوی چیزوں، بتوں یا دیگر طاقتوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اقبال کے مطابق، اس رویے سے بڑھ کر اور کوئی کفر نہیں ہو سکتا۔
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟
ترجمہ:
آسمان نے ان لوگوں کو حکمرانی عطا کر دی ہے،
جو بندہ نوازی کے آداب سے بے خبر ہیں۔
وضاحت:
یہ شعر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اقتدار یا حکمرانی رکھتے ہیں لیکن انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی خیرخواہی کا شعور نہیں رکھتے۔ اقبال ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو حکمران ہیں لیکن ان کے اندر انسانیت کا جذبہ نہیں ہے۔
فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی
ترجمہ:
شہر کے فقیہہ محراب اور منبر سے پیدا ہو رہے ہیں،
کون جانتا ہے کہ صحرا میں بھی ہزاروں خالص اور مخلص لوگ موجود ہیں۔
وضاحت:
اقبال یہاں کہتے ہیں کہ دنیاوی علم یا مذہبی خطبات کا اثر صرف ظاہر پر رہ گیا ہے، جبکہ اصل نیک اور مخلص لوگ ان سے دور ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ علم رکھنے والے اپنی عبادت گاہوں میں رہتے ہیں، جبکہ حقیقی روحانیت رکھنے والے عام لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔
یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی
ترجمہ:
قومیں علم و فن سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ
نبی کریم ﷺ کی میراث ایک سانس بھی نہیں چل سکتی۔
وضاحت:
اقبال یہاں علم اور ہنر کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ کی بقا علم اور فنون پر ہے، اگر یہ علم و فن سے محروم ہو جائیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ علم اور ہنر کے بغیر ان کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ایک رسمی دعویٰ ہی رہ جائے گی۔
اقبال کی یہ نظم مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے اور حقیقی ایمان، علم اور فن کی اہمیت کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟
فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی
یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی
ترجمہ اور وضاحت
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ترجمہ:
اگر عقل نے “لا الہ” یعنی “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں” کہہ بھی دیا تو اس کا کیا فائدہ؟
اگر مسلمان کا دل اور نظر ایمان سے خالی ہیں، تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
وضاحت:
اقبال اس شعر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ محض زبانی اقرار یا عقلی طور پر مان لینا کافی نہیں ہے۔ حقیقی ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزین ہو اور انسان کی بصیرت کو متاثر کرے۔ اگر ایمان دل اور نظر میں نہ ہو تو یہ بیکار ہے۔
طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے
ترجمہ:
پہاڑ کو سر کرنے کے طریقے میں وہی پرانے حربے ہیں،
جو مسافر کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔
وضاحت:
اقبال یہاں پر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جو لوگ ترقی یا جدوجہد کے دعوے کرتے ہیں، وہ اکثر پرانی اور غیر مؤثر حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔ یہ راستے، حقیقی رہنمائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
ترجمہ:
تجھے بتوں سے امیدیں ہیں اور اللہ سے مایوسی،
مجھے بتا کہ اس سے بڑھ کر کفر کیا ہو سکتا ہے؟
وضاحت:
یہاں اقبال مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے امیدیں توڑ چکے ہیں لیکن دنیاوی چیزوں، بتوں یا دیگر طاقتوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اقبال کے مطابق، اس رویے سے بڑھ کر اور کوئی کفر نہیں ہو سکتا۔
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟
ترجمہ:
آسمان نے ان لوگوں کو حکمرانی عطا کر دی ہے،
جو بندہ نوازی کے آداب سے بے خبر ہیں۔
وضاحت:
یہ شعر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اقتدار یا حکمرانی رکھتے ہیں لیکن انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی خیرخواہی کا شعور نہیں رکھتے۔ اقبال ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو حکمران ہیں لیکن ان کے اندر انسانیت کا جذبہ نہیں ہے۔
فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی
ترجمہ:
شہر کے فقیہہ محراب اور منبر سے پیدا ہو رہے ہیں،
کون جانتا ہے کہ صحرا میں بھی ہزاروں خالص اور مخلص لوگ موجود ہیں۔
وضاحت:
اقبال یہاں کہتے ہیں کہ دنیاوی علم یا مذہبی خطبات کا اثر صرف ظاہر پر رہ گیا ہے، جبکہ اصل نیک اور مخلص لوگ ان سے دور ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ علم رکھنے والے اپنی عبادت گاہوں میں رہتے ہیں، جبکہ حقیقی روحانیت رکھنے والے عام لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔
یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی
ترجمہ:
قومیں علم و فن سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ
نبی کریم ﷺ کی میراث ایک سانس بھی نہیں چل سکتی۔
وضاحت:
اقبال یہاں علم اور ہنر کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ کی بقا علم اور فنون پر ہے، اگر یہ علم و فن سے محروم ہو جائیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ علم اور ہنر کے بغیر ان کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ایک رسمی دعویٰ ہی رہ جائے گی۔
اقبال کی یہ نظم مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے اور حقیقی ایمان، علم اور فن کی اہمیت کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
طلوع اسلام
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟
فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی
یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی
ترجمہ اور وضاحت
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ترجمہ:
اگر عقل نے “لا الہ” یعنی “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں” کہہ بھی دیا تو اس کا کیا فائدہ؟
اگر مسلمان کا دل اور نظر ایمان سے خالی ہیں، تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
وضاحت:
اقبال اس شعر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ محض زبانی اقرار یا عقلی طور پر مان لینا کافی نہیں ہے۔ حقیقی ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزین ہو اور انسان کی بصیرت کو متاثر کرے۔ اگر ایمان دل اور نظر میں نہ ہو تو یہ بیکار ہے۔
طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے
ترجمہ:
پہاڑ کو سر کرنے کے طریقے میں وہی پرانے حربے ہیں،
جو مسافر کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔
وضاحت:
اقبال یہاں پر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جو لوگ ترقی یا جدوجہد کے دعوے کرتے ہیں، وہ اکثر پرانی اور غیر مؤثر حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔ یہ راستے، حقیقی رہنمائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
ترجمہ:
تجھے بتوں سے امیدیں ہیں اور اللہ سے مایوسی،
مجھے بتا کہ اس سے بڑھ کر کفر کیا ہو سکتا ہے؟
وضاحت:
یہاں اقبال مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے امیدیں توڑ چکے ہیں لیکن دنیاوی چیزوں، بتوں یا دیگر طاقتوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اقبال کے مطابق، اس رویے سے بڑھ کر اور کوئی کفر نہیں ہو سکتا۔
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟
ترجمہ:
آسمان نے ان لوگوں کو حکمرانی عطا کر دی ہے،
جو بندہ نوازی کے آداب سے بے خبر ہیں۔
وضاحت:
یہ شعر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اقتدار یا حکمرانی رکھتے ہیں لیکن انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی خیرخواہی کا شعور نہیں رکھتے۔ اقبال ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو حکمران ہیں لیکن ان کے اندر انسانیت کا جذبہ نہیں ہے۔
فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی
ترجمہ:
شہر کے فقیہہ محراب اور منبر سے پیدا ہو رہے ہیں،
کون جانتا ہے کہ صحرا میں بھی ہزاروں خالص اور مخلص لوگ موجود ہیں۔
وضاحت:
اقبال یہاں کہتے ہیں کہ دنیاوی علم یا مذہبی خطبات کا اثر صرف ظاہر پر رہ گیا ہے، جبکہ اصل نیک اور مخلص لوگ ان سے دور ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ علم رکھنے والے اپنی عبادت گاہوں میں رہتے ہیں، جبکہ حقیقی روحانیت رکھنے والے عام لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔
یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی
ترجمہ:
قومیں علم و فن سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ
نبی کریم ﷺ کی میراث ایک سانس بھی نہیں چل سکتی۔
وضاحت:
اقبال یہاں علم اور ہنر کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ کی بقا علم اور فنون پر ہے، اگر یہ علم و فن سے محروم ہو جائیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ علم اور ہنر کے بغیر ان کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ایک رسمی دعویٰ ہی رہ جائے گی۔
اقبال کی یہ نظم مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے اور حقیقی ایمان، علم اور فن کی اہمیت کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
0 Yorumlar
0 hisse senetleri
179 Views