ابن خلدون اپنی کتاب "مقدمہ" میں قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں گہرے فلسفیانہ خیالات پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں، تو ان میں کچھ خاص نشانیاں اور عوامل نمودار ہوتے ہیں:

جب قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں، تو ان کے افراد آپس کی محبت اور اتحاد، جسے ابن خلدون "عصبیت" کہتے ہیں، کو کھو دیتے ہیں۔ پہلے پہل یہی عصبیت قوموں کو طاقتور بناتی ہے، مگر عیش و عشرت اور آرام کی زندگی اس کو کمزور کر دیتی ہے۔ قوم میں دولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ اخلاقی گراوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ حکمران ظلم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، ٹیکس بڑھا دیتے ہیں اور ناانصافی کو عام کرتے ہیں۔

ایسے وقت میں قوم کے افراد لالچ اور خودغرضی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عصبیت، جو قوم کی طاقت کا سرچشمہ تھی، رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہے۔ حکومتی ادارے بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں، انتظامیہ میں بدعنوانی اور نااہلی بڑھ جاتی ہے، اور یوں معاشرہ زوال کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔

ابن خلدون یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب قوموں میں عیش پرستی عام ہو جائے، تو ان میں قائدانہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، اور بزدلی، سستی اور آرام طلبی عام ہو جاتی ہے۔ قوم کے افراد آرام و آسائش کے عادی ہو جاتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، قوم کو زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یوں جب ایک قوم زوال پذیر ہوتی ہے، تو حکمران طبقہ ظلم اور عیش پرستی میں مشغول ہو جاتا ہے، عوام ٹیکسوں اور غربت کی چکی میں پستے ہیں، اور قوم کا مجموعی اخلاقی معیار پستی کی طرف جا رہا ہوتا ہے۔

یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے ابن خلدون قوموں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرتے ہیں، اور انہی اصولوں کے تحت وہ ایک قوم کے زوال کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
ابن خلدون اپنی کتاب "مقدمہ" میں قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں گہرے فلسفیانہ خیالات پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں، تو ان میں کچھ خاص نشانیاں اور عوامل نمودار ہوتے ہیں: جب قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں، تو ان کے افراد آپس کی محبت اور اتحاد، جسے ابن خلدون "عصبیت" کہتے ہیں، کو کھو دیتے ہیں۔ پہلے پہل یہی عصبیت قوموں کو طاقتور بناتی ہے، مگر عیش و عشرت اور آرام کی زندگی اس کو کمزور کر دیتی ہے۔ قوم میں دولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ اخلاقی گراوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ حکمران ظلم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، ٹیکس بڑھا دیتے ہیں اور ناانصافی کو عام کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں قوم کے افراد لالچ اور خودغرضی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عصبیت، جو قوم کی طاقت کا سرچشمہ تھی، رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہے۔ حکومتی ادارے بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں، انتظامیہ میں بدعنوانی اور نااہلی بڑھ جاتی ہے، اور یوں معاشرہ زوال کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ ابن خلدون یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب قوموں میں عیش پرستی عام ہو جائے، تو ان میں قائدانہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، اور بزدلی، سستی اور آرام طلبی عام ہو جاتی ہے۔ قوم کے افراد آرام و آسائش کے عادی ہو جاتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، قوم کو زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں جب ایک قوم زوال پذیر ہوتی ہے، تو حکمران طبقہ ظلم اور عیش پرستی میں مشغول ہو جاتا ہے، عوام ٹیکسوں اور غربت کی چکی میں پستے ہیں، اور قوم کا مجموعی اخلاقی معیار پستی کی طرف جا رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے ابن خلدون قوموں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرتے ہیں، اور انہی اصولوں کے تحت وہ ایک قوم کے زوال کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
0 Комментарии 0 Поделились 128 Просмотры