ایک دن ایک نوجوان نے حضرت بایزید بسطامی کے پاس آکر ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت بایزید بسطامی نے نوجوان کی خواہش کو پرکھنے کا فیصلہ کیا اور اسے ایک عجیب آزمائش میں ڈالا۔
انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم میرے مرید بننا چاہتے ہو تو جاؤ اور شہر کے بازار میں گدھے پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں میں چکر لگاؤ۔ اور لوگوں کو بتاؤ کہ تم پاگل ہو اور کسی بھی قسم کی ذلت برداشت کرو۔"
نوجوان، جو حضرت بایزید بسطامی کی تعلیمات سے متاثر تھا، بغیر کسی سوال کے اس عجیب و غریب آزمائش کو قبول کیا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر بازار گیا اور لوگوں کو بتانے لگا کہ وہ پاگل ہے۔ لوگ اس پر ہنسے، اس کا مذاق اڑایا اور کچھ نے اسے پتھر بھی مارے۔
لیکن نوجوان نے صبر اور عاجزی کا مظاہرہ کیا اور آزمائش کو مکمل کر کے واپس حضرت بایزید بسطامی کے پاس آیا۔ انہوں نے اسے گلے لگا کر کہا، "اب تم اس قابل ہو کہ تمہیں روحانی تعلیمات دی جا سکیں۔ تم نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا ہے اور اب تم حقیقتاً میری تعلیمات کو سمجھنے کے قابل ہو۔"
یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ نفس کی تحلیل، عاجزی اور صبر کے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم میرے مرید بننا چاہتے ہو تو جاؤ اور شہر کے بازار میں گدھے پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں میں چکر لگاؤ۔ اور لوگوں کو بتاؤ کہ تم پاگل ہو اور کسی بھی قسم کی ذلت برداشت کرو۔"
نوجوان، جو حضرت بایزید بسطامی کی تعلیمات سے متاثر تھا، بغیر کسی سوال کے اس عجیب و غریب آزمائش کو قبول کیا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر بازار گیا اور لوگوں کو بتانے لگا کہ وہ پاگل ہے۔ لوگ اس پر ہنسے، اس کا مذاق اڑایا اور کچھ نے اسے پتھر بھی مارے۔
لیکن نوجوان نے صبر اور عاجزی کا مظاہرہ کیا اور آزمائش کو مکمل کر کے واپس حضرت بایزید بسطامی کے پاس آیا۔ انہوں نے اسے گلے لگا کر کہا، "اب تم اس قابل ہو کہ تمہیں روحانی تعلیمات دی جا سکیں۔ تم نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا ہے اور اب تم حقیقتاً میری تعلیمات کو سمجھنے کے قابل ہو۔"
یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ نفس کی تحلیل، عاجزی اور صبر کے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
ایک دن ایک نوجوان نے حضرت بایزید بسطامی کے پاس آکر ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت بایزید بسطامی نے نوجوان کی خواہش کو پرکھنے کا فیصلہ کیا اور اسے ایک عجیب آزمائش میں ڈالا۔
انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم میرے مرید بننا چاہتے ہو تو جاؤ اور شہر کے بازار میں گدھے پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں میں چکر لگاؤ۔ اور لوگوں کو بتاؤ کہ تم پاگل ہو اور کسی بھی قسم کی ذلت برداشت کرو۔"
نوجوان، جو حضرت بایزید بسطامی کی تعلیمات سے متاثر تھا، بغیر کسی سوال کے اس عجیب و غریب آزمائش کو قبول کیا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر بازار گیا اور لوگوں کو بتانے لگا کہ وہ پاگل ہے۔ لوگ اس پر ہنسے، اس کا مذاق اڑایا اور کچھ نے اسے پتھر بھی مارے۔
لیکن نوجوان نے صبر اور عاجزی کا مظاہرہ کیا اور آزمائش کو مکمل کر کے واپس حضرت بایزید بسطامی کے پاس آیا۔ انہوں نے اسے گلے لگا کر کہا، "اب تم اس قابل ہو کہ تمہیں روحانی تعلیمات دی جا سکیں۔ تم نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا ہے اور اب تم حقیقتاً میری تعلیمات کو سمجھنے کے قابل ہو۔"
یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ نفس کی تحلیل، عاجزی اور صبر کے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
0 Commentarios
0 Acciones
367 Views