یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے
جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں
دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے
کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے
آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے
نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے
اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں
اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں
یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے
روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں
ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے
جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا
اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے
لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔ
ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے
شاہد ذکی

Thank You Syed Abdul Rafay Ather
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔ ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے شاہد ذکی Thank You Syed Abdul Rafay Ather
0 Commentarios 0 Acciones 154 Views