یہ جملہ "جس کے ساتھ بھلا کرو اس کے شر سے بچو" حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے مشہور اقوال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ اسلامی اصولی متون میں موجود ہے۔ اگرچہ اس جملے کا مفہوم اسلامی تعلیمات اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے منسوب حکمت کے مطابق ہے، لیکن اس کے براہ راست حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے منسوب ہونے کا کوئی خاص ثبوت نہیں ہے۔
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اپنی گہری حکمت اور فصیح الفاظ کے لئے مشہور ہیں اور ان سے بہت سے اقوال منسوب کئے جاتے ہیں۔ تاہم، ایسے اقوال کی صحت کی تصدیق کرنا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان میں سے تمام کو براہ راست حضرت علی (رضی اللہ عنہ) تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اس معاملے میں، یہ جملہ زیادہ عمومی حکمت کا ایک ٹکڑا لگتا ہے جو اسلامی اقدار کو عکس کرتا ہے بجائے اس کے کہ یہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا کوئی خاص قول ہو۔
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اپنی گہری حکمت اور فصیح الفاظ کے لئے مشہور ہیں اور ان سے بہت سے اقوال منسوب کئے جاتے ہیں۔ تاہم، ایسے اقوال کی صحت کی تصدیق کرنا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان میں سے تمام کو براہ راست حضرت علی (رضی اللہ عنہ) تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اس معاملے میں، یہ جملہ زیادہ عمومی حکمت کا ایک ٹکڑا لگتا ہے جو اسلامی اقدار کو عکس کرتا ہے بجائے اس کے کہ یہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا کوئی خاص قول ہو۔
یہ جملہ "جس کے ساتھ بھلا کرو اس کے شر سے بچو" حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے مشہور اقوال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ اسلامی اصولی متون میں موجود ہے۔ اگرچہ اس جملے کا مفہوم اسلامی تعلیمات اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے منسوب حکمت کے مطابق ہے، لیکن اس کے براہ راست حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے منسوب ہونے کا کوئی خاص ثبوت نہیں ہے۔
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اپنی گہری حکمت اور فصیح الفاظ کے لئے مشہور ہیں اور ان سے بہت سے اقوال منسوب کئے جاتے ہیں۔ تاہم، ایسے اقوال کی صحت کی تصدیق کرنا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان میں سے تمام کو براہ راست حضرت علی (رضی اللہ عنہ) تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اس معاملے میں، یہ جملہ زیادہ عمومی حکمت کا ایک ٹکڑا لگتا ہے جو اسلامی اقدار کو عکس کرتا ہے بجائے اس کے کہ یہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا کوئی خاص قول ہو۔
0 Comments
0 Shares
94 Views