محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا

تحریر۔ عارف الحق عارف

اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔

محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔

سیدھا سادھا بھولا بھالا۔
محمود احمد اللہ والا

پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔

محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔

محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا تحریر۔ عارف الحق عارف اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔ محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔ سیدھا سادھا بھولا بھالا۔ محمود احمد اللہ والا پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔ محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔ محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
0 Commentaires 0 Parts 173 Vue