اللامہ اقبال کا مذہبی پیغام اور ان کی شاعری کا مضمون عام طور پر خودی اور خود کو شناخت کی طرف ہے۔ یہ شعر جو آپ نے اشتہار کیا ہے، "خودی کو کر بلبل از محمدؐ اقبال" کا حصہ ہے اور پورا شعر درج ذیل ہے:
خُودی کو کر بلبل مِرے دل آج پریشاں
فغاں، گلزار ہے زمانہ آج کی رات
تُند خیالی سے آئینہ،آخر کی روشنی
اے عرق میں تیری آبائیں کا زمانہ
تماشا ہو نکلے گا، شب و روز کی عرس
میں ہوں زیست کا مختصر اور تو خودی
یہ شعر اقبال کی تصویری اور فلسفی انداز میں خود کو پہچاننے اور اپنی قدرتی خصوصیات کو جاننے کی ترغیب دیتا ہے۔
خُودی کو کر بلبل مِرے دل آج پریشاں
فغاں، گلزار ہے زمانہ آج کی رات
تُند خیالی سے آئینہ،آخر کی روشنی
اے عرق میں تیری آبائیں کا زمانہ
تماشا ہو نکلے گا، شب و روز کی عرس
میں ہوں زیست کا مختصر اور تو خودی
یہ شعر اقبال کی تصویری اور فلسفی انداز میں خود کو پہچاننے اور اپنی قدرتی خصوصیات کو جاننے کی ترغیب دیتا ہے۔
اللامہ اقبال کا مذہبی پیغام اور ان کی شاعری کا مضمون عام طور پر خودی اور خود کو شناخت کی طرف ہے۔ یہ شعر جو آپ نے اشتہار کیا ہے، "خودی کو کر بلبل از محمدؐ اقبال" کا حصہ ہے اور پورا شعر درج ذیل ہے:
خُودی کو کر بلبل مِرے دل آج پریشاں
فغاں، گلزار ہے زمانہ آج کی رات
تُند خیالی سے آئینہ،آخر کی روشنی
اے عرق میں تیری آبائیں کا زمانہ
تماشا ہو نکلے گا، شب و روز کی عرس
میں ہوں زیست کا مختصر اور تو خودی
یہ شعر اقبال کی تصویری اور فلسفی انداز میں خود کو پہچاننے اور اپنی قدرتی خصوصیات کو جاننے کی ترغیب دیتا ہے۔
0 Comments
0 Shares
308 Views