ایک دن امیر اور حسان، دو بھائی، اپنے دادا کے پاس بیٹھے تھے۔ دادا نے ان سے پوچھا کہ وہ بڑوں کی عزت کیوں کرتے ہیں؟

امیر نے فوراً جواب دیا، "مجھے یاد ہے، امی نے مجھے بتایا تھا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو اپنے ماں باپ سے بہت اچھے انداز میں پیش آ، اور اگر ایک یا دونوں تمہارے پاس موت کی عمر میں پہنچ جائیں تو انہیں اوف بھی مت کہو۔"

حسان نے کہا، "مجھے بھی ایک حدیث یاد آتی ہے جس میں نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔"

دادا نے مسکرا کر جواب دیا، "بہت اچھا، بچو! ہمیں اللہ اور اُس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ بڑوں کی عزت کرنا صرف ایک اچھے انسان بنانے کے لئے ضروری نہیں بلکہ ہمارے دین کا بھی اہم حصہ ہے۔"

۔
ایک دن امیر اور حسان، دو بھائی، اپنے دادا کے پاس بیٹھے تھے۔ دادا نے ان سے پوچھا کہ وہ بڑوں کی عزت کیوں کرتے ہیں؟ امیر نے فوراً جواب دیا، "مجھے یاد ہے، امی نے مجھے بتایا تھا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ 'تو اپنے ماں باپ سے بہت اچھے انداز میں پیش آ، اور اگر ایک یا دونوں تمہارے پاس موت کی عمر میں پہنچ جائیں تو انہیں 'اوف' بھی مت کہو۔'" حسان نے کہا، "مجھے بھی ایک حدیث یاد آتی ہے جس میں نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ 'جو شخص بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔'" دادا نے مسکرا کر جواب دیا، "بہت اچھا، بچو! ہمیں اللہ اور اُس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ بڑوں کی عزت کرنا صرف ایک اچھے انسان بنانے کے لئے ضروری نہیں بلکہ ہمارے دین کا بھی اہم حصہ ہے۔" ۔
0 Commentarios 0 Acciones 297 Views