پوسٹ یہ ہے
باجوڑ دھماکہ: امن کی دعوت
30 جولائی 2023 کو خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ دھماکا مبینہ طور پر ایک خودکش بمبار نے کیا جس نے ایک سیکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا۔
پاکستان میں مہلک حملوں کے سلسلے میں یہ تازہ ترین واقعہ ہے جس میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ حکومت عسکریت پسند گروپوں کے خلاف طویل عرصے سے جنگ لڑ رہی ہے، لیکن تشدد میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
باجوڑ دھماکے کے تناظر میں دہشت گردی کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میں حکومت پاکستان سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ان جنگوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ تشدد کبھی بھی جواب نہیں ہے، اور یہ صرف مزید موت اور تباہی کی طرف جاتا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ حکومت کو جنگجو گروپوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ یہ جنگیں ہمارے ملک کے لیے بہت بڑے مسائل پیدا کر رہی ہیں، اور انہیں روکنے کی ضرورت ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ ’’جنگ ایک سکہ ہے جس کے دو رخ ہوتے ہیں‘‘۔ ایک طرف وہ تشدد اور تباہی ہے جو اس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دوسری طرف امن کا موقع ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیں سکے کے آخری رخ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ان جنگوں کو ختم کرنے اور اپنے ملک میں امن لانے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ آسان نہیں ہوگا، لیکن یہ ضروری ہے۔ ہم تشدد کے راستے پر گامزن رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
میں حکومت پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ وہ ان جنگوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ یہ ہمارے ملک میں امن لانے اور تمام پاکستانیوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔
From Siraj Ahmad Baloch
باجوڑ دھماکہ: امن کی دعوت
30 جولائی 2023 کو خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ دھماکا مبینہ طور پر ایک خودکش بمبار نے کیا جس نے ایک سیکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا۔
پاکستان میں مہلک حملوں کے سلسلے میں یہ تازہ ترین واقعہ ہے جس میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ حکومت عسکریت پسند گروپوں کے خلاف طویل عرصے سے جنگ لڑ رہی ہے، لیکن تشدد میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
باجوڑ دھماکے کے تناظر میں دہشت گردی کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میں حکومت پاکستان سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ان جنگوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ تشدد کبھی بھی جواب نہیں ہے، اور یہ صرف مزید موت اور تباہی کی طرف جاتا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ حکومت کو جنگجو گروپوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ یہ جنگیں ہمارے ملک کے لیے بہت بڑے مسائل پیدا کر رہی ہیں، اور انہیں روکنے کی ضرورت ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ ’’جنگ ایک سکہ ہے جس کے دو رخ ہوتے ہیں‘‘۔ ایک طرف وہ تشدد اور تباہی ہے جو اس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دوسری طرف امن کا موقع ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیں سکے کے آخری رخ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ان جنگوں کو ختم کرنے اور اپنے ملک میں امن لانے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ آسان نہیں ہوگا، لیکن یہ ضروری ہے۔ ہم تشدد کے راستے پر گامزن رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
میں حکومت پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ وہ ان جنگوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ یہ ہمارے ملک میں امن لانے اور تمام پاکستانیوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔
From Siraj Ahmad Baloch
پوسٹ یہ ہے
باجوڑ دھماکہ: امن کی دعوت
30 جولائی 2023 کو خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ دھماکا مبینہ طور پر ایک خودکش بمبار نے کیا جس نے ایک سیکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا۔
پاکستان میں مہلک حملوں کے سلسلے میں یہ تازہ ترین واقعہ ہے جس میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ حکومت عسکریت پسند گروپوں کے خلاف طویل عرصے سے جنگ لڑ رہی ہے، لیکن تشدد میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
باجوڑ دھماکے کے تناظر میں دہشت گردی کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میں حکومت پاکستان سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ان جنگوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ تشدد کبھی بھی جواب نہیں ہے، اور یہ صرف مزید موت اور تباہی کی طرف جاتا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ حکومت کو جنگجو گروپوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ یہ جنگیں ہمارے ملک کے لیے بہت بڑے مسائل پیدا کر رہی ہیں، اور انہیں روکنے کی ضرورت ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ ’’جنگ ایک سکہ ہے جس کے دو رخ ہوتے ہیں‘‘۔ ایک طرف وہ تشدد اور تباہی ہے جو اس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دوسری طرف امن کا موقع ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیں سکے کے آخری رخ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ان جنگوں کو ختم کرنے اور اپنے ملک میں امن لانے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ آسان نہیں ہوگا، لیکن یہ ضروری ہے۔ ہم تشدد کے راستے پر گامزن رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
میں حکومت پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ وہ ان جنگوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ یہ ہمارے ملک میں امن لانے اور تمام پاکستانیوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔
From Siraj Ahmad Baloch
0 التعليقات
0 المشاركات
193 مشاهدة