آنے والے دور میں پاکستان کے "حساس" اداروں کو AI سے سخت قسم کے قومی سلامتی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ملک کے کچھ مخلص اور محبِ وطن انجینئیرز نظام سے مایوس ہو کر ایسے Artificially Intelligent روبوٹ تیار کر لیں گے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار انسانوں کی طرح ادا تو کر سکیں گے، لیکن نہ تو انکے کوئ جزبات ہوں گے اور نہ ہی کوئ جزباتی بندھن ۔
چنانچہ یہ روبوٹ صحافت، سول سروسز، پولیس، عدلیہ، احتساب ، سیاست، مذہب حتٰی کہ دفاع میں بھی حقیقی قومی خدمات سر انجام دیں گے۔
ان روبوٹس کی ننگی وڈیوز نہیں بنائ جا سکیں گی کیونکہ یہ جنسی جزبات نہیں رکھتے ہوں گے
چونکہ انکی کوئ فیملی نہیں ہو گی تو فیملی کو اغوا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
ان پر پچاس FIR کاٹ کر مقدمات نہیں چلائے جا سکیں گے
انکو vigo ڈالوں سے کوئ خوف نہیں ہو گا
انکو اغوا کر کے تشدد کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انکو درد محسوس نہیں ہوگا۔
انکو توڑ پھوڑ کر تباہ کرنے کا بھی کوئ فائدا نہیں ہو گا کیونکہ یہ self replicating ہوں گے یعنی یہ اپنے جیسے کئ دیگر روبوٹس بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے ۔
انکو رشوت ، پلاٹ یا اعلٰی عہدوں کا لالچ بھی نہیں دیا جا سکے گا کیونکہ ان میں دولت جمع کرنے کی حَوس نہیں ہو گی۔
حساس اداروں کے بڑے دماغوں کو سر جوڑ کر اس آنے والے خطرے کا کوئ توڑ نکالنا ہو گا ورنہ انکا مستقبل تاریک ہے
العبد
Via Bobby Shahzad
چنانچہ یہ روبوٹ صحافت، سول سروسز، پولیس، عدلیہ، احتساب ، سیاست، مذہب حتٰی کہ دفاع میں بھی حقیقی قومی خدمات سر انجام دیں گے۔
ان روبوٹس کی ننگی وڈیوز نہیں بنائ جا سکیں گی کیونکہ یہ جنسی جزبات نہیں رکھتے ہوں گے
چونکہ انکی کوئ فیملی نہیں ہو گی تو فیملی کو اغوا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
ان پر پچاس FIR کاٹ کر مقدمات نہیں چلائے جا سکیں گے
انکو vigo ڈالوں سے کوئ خوف نہیں ہو گا
انکو اغوا کر کے تشدد کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انکو درد محسوس نہیں ہوگا۔
انکو توڑ پھوڑ کر تباہ کرنے کا بھی کوئ فائدا نہیں ہو گا کیونکہ یہ self replicating ہوں گے یعنی یہ اپنے جیسے کئ دیگر روبوٹس بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے ۔
انکو رشوت ، پلاٹ یا اعلٰی عہدوں کا لالچ بھی نہیں دیا جا سکے گا کیونکہ ان میں دولت جمع کرنے کی حَوس نہیں ہو گی۔
حساس اداروں کے بڑے دماغوں کو سر جوڑ کر اس آنے والے خطرے کا کوئ توڑ نکالنا ہو گا ورنہ انکا مستقبل تاریک ہے
العبد
Via Bobby Shahzad
آنے والے دور میں پاکستان کے "حساس" اداروں کو AI سے سخت قسم کے قومی سلامتی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ملک کے کچھ مخلص اور محبِ وطن انجینئیرز نظام سے مایوس ہو کر ایسے Artificially Intelligent روبوٹ تیار کر لیں گے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار انسانوں کی طرح ادا تو کر سکیں گے، لیکن نہ تو انکے کوئ جزبات ہوں گے اور نہ ہی کوئ جزباتی بندھن ۔
چنانچہ یہ روبوٹ صحافت، سول سروسز، پولیس، عدلیہ، احتساب ، سیاست، مذہب حتٰی کہ دفاع میں بھی حقیقی قومی خدمات سر انجام دیں گے۔
ان روبوٹس کی ننگی وڈیوز نہیں بنائ جا سکیں گی کیونکہ یہ جنسی جزبات نہیں رکھتے ہوں گے
چونکہ انکی کوئ فیملی نہیں ہو گی تو فیملی کو اغوا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
ان پر پچاس FIR کاٹ کر مقدمات نہیں چلائے جا سکیں گے
انکو vigo ڈالوں سے کوئ خوف نہیں ہو گا
انکو اغوا کر کے تشدد کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انکو درد محسوس نہیں ہوگا۔
انکو توڑ پھوڑ کر تباہ کرنے کا بھی کوئ فائدا نہیں ہو گا کیونکہ یہ self replicating ہوں گے یعنی یہ اپنے جیسے کئ دیگر روبوٹس بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے ۔
انکو رشوت ، پلاٹ یا اعلٰی عہدوں کا لالچ بھی نہیں دیا جا سکے گا کیونکہ ان میں دولت جمع کرنے کی حَوس نہیں ہو گی۔
حساس اداروں کے بڑے دماغوں کو سر جوڑ کر اس آنے والے خطرے کا کوئ توڑ نکالنا ہو گا ورنہ انکا مستقبل تاریک ہے
العبد
Via Bobby Shahzad
0 Commentaires
0 Parts
104 Vue