اسلامی دور کی تعلیم کے تاریخی واقعات کی ٹائم لائن:

622 CE: حضرت محمدﷺ مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کرتے ہیں جو اسلام میں علم کی اہمیت کو زور دیتی ہیں۔
ساتویں صدی: مساجد اور غیر رسمی تعلیمی حلقے (حلقہ) عام ہو جاتے ہیں جو قرآن، اسلامی فقہ اور عربی زبان سکھاتے ہیں۔
آٹھویں صدی: عباسی خلافت قائم ہوتی ہے، جو اسلامی عہد زرین کے آغاز کو زور دیتی ہیں اور تعلیم کے حوالے سے توسیع کا دور کا آغاز۔
750 CE: خلیفہ ہارون الرشید کی جانب سے بغداد میں حکمت کا گھر قائم ہوتا ہے جو بعد میں علم و تعلیم کے مرکز کے طور پر مشہور ہوتا ہے۔
نویں صدی: پہلے مدرسے یعنی اسلامی مذہبی اسکولز قائم ہوتے ہیں جو سنگت بندی کی تعلیم اور نصاب فراہم کرتے ہیں۔
859 CE: فاطمہ الفہری مراکش میں القروین یونیورسٹی قائم کرتی ہیں، جو دنیا کے سب سے پرانے تعلیمی ادارے میں سے ایک بن جاتی ہیں۔
دسویں-گیارہویں صدی: مصر کی قاہرہ میں الازھر یونیورسٹی قائم ہوتی ہے جو اسلامی تعلیمی مراکز
میں سب سے عمردار اور معروف بن جاتی ہیں۔
8. گیارہویں-بارہویں صدی: نظام الملک کی جانب سے نظامیہ مدرسے قائم ہوتے ہیں جو مسلم دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور علماء کو جیسے الغزالی پیدا کرتے ہیں۔

بارہویں-تیرہویں صدی: یونانی فلاسفہ کے کاموں کا عربی میں ترجمہ کر کے مسلم علماء کو اپنے فلسفی، سائنسی اور ریاضی کے نظریات تشکیل دینے میں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔
تیرہویں صدی: ابن خلدون اپنے اثر انگیز کام "المقدمہ" لکھتے ہیں جو اسلامی دنیا کی تاریخ، معاشرت اور تعلیم کا جامع تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔
پندرہویں-سولہویں صدی: عثمانیہ سلطنت میں دولتی تعلیمی نظام قائم کرتی ہے، ساحن-آی سیمان، جس میں مدرسوں اور اسکولوں کا نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔
انیسویں-بیسویں صدی: اسلامی ممالک میں مغربی انداز میں جدید تعلیم کا داخلہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سیکولر اسکولز اور یونیورسٹیز قائم ہوتی ہیں۔
1875 CE: سر سید احمد خان الیگڑھ، ہندوستان میں محمدان انگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھتے ہیں
اسلامی دور کی تعلیم کے تاریخی واقعات کی ٹائم لائن: 622 CE: حضرت محمدﷺ مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کرتے ہیں جو اسلام میں علم کی اہمیت کو زور دیتی ہیں۔ ساتویں صدی: مساجد اور غیر رسمی تعلیمی حلقے (حلقہ) عام ہو جاتے ہیں جو قرآن، اسلامی فقہ اور عربی زبان سکھاتے ہیں۔ آٹھویں صدی: عباسی خلافت قائم ہوتی ہے، جو اسلامی عہد زرین کے آغاز کو زور دیتی ہیں اور تعلیم کے حوالے سے توسیع کا دور کا آغاز۔ 750 CE: خلیفہ ہارون الرشید کی جانب سے بغداد میں حکمت کا گھر قائم ہوتا ہے جو بعد میں علم و تعلیم کے مرکز کے طور پر مشہور ہوتا ہے۔ نویں صدی: پہلے مدرسے یعنی اسلامی مذہبی اسکولز قائم ہوتے ہیں جو سنگت بندی کی تعلیم اور نصاب فراہم کرتے ہیں۔ 859 CE: فاطمہ الفہری مراکش میں القروین یونیورسٹی قائم کرتی ہیں، جو دنیا کے سب سے پرانے تعلیمی ادارے میں سے ایک بن جاتی ہیں۔ دسویں-گیارہویں صدی: مصر کی قاہرہ میں الازھر یونیورسٹی قائم ہوتی ہے جو اسلامی تعلیمی مراکز میں سب سے عمردار اور معروف بن جاتی ہیں۔ 8. گیارہویں-بارہویں صدی: نظام الملک کی جانب سے نظامیہ مدرسے قائم ہوتے ہیں جو مسلم دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور علماء کو جیسے الغزالی پیدا کرتے ہیں۔ بارہویں-تیرہویں صدی: یونانی فلاسفہ کے کاموں کا عربی میں ترجمہ کر کے مسلم علماء کو اپنے فلسفی، سائنسی اور ریاضی کے نظریات تشکیل دینے میں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ تیرہویں صدی: ابن خلدون اپنے اثر انگیز کام "المقدمہ" لکھتے ہیں جو اسلامی دنیا کی تاریخ، معاشرت اور تعلیم کا جامع تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔ پندرہویں-سولہویں صدی: عثمانیہ سلطنت میں دولتی تعلیمی نظام قائم کرتی ہے، ساحن-آی سیمان، جس میں مدرسوں اور اسکولوں کا نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ انیسویں-بیسویں صدی: اسلامی ممالک میں مغربی انداز میں جدید تعلیم کا داخلہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سیکولر اسکولز اور یونیورسٹیز قائم ہوتی ہیں۔ 1875 CE: سر سید احمد خان الیگڑھ، ہندوستان میں محمدان انگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھتے ہیں
0 Commentarios 0 Acciones 277 Views