تحریر: ہشام سرور
ترجمہ: روبینہ یاسمین
ہماری نوجوان نسل کو ازراہ کرم آنے والے کل کے لئے تیار کریں .
پاکستانی ٹی وی چینلز بہت مایوس کن کام کر رہے ہیں . چوبیس گھنٹے منفی یا سیاسی خبریں کم پروپیگنڈا زیادہ چلتا رہتا ہے - ہمارے پاس نفرت پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کے بجاے کوئی اچھی چیز نہیں جو ہم اپنے ناظرین کو دکھا سکیں ؟ سیاسی لوگ پہلے ہی یہ کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں . مرکزی میڈیا بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے - ایک بار یہ ایک مثال قائم کر دے تو سوشل میڈیا بھی مہذب ڈھنگ سیکھ لے گا.
ٹی وی پر ٹیکنا لوجی ، ترقی، خوشحالی اور ملک میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی بات ہونی چاہئے .مختلف شعبوں سے بہترین لوگ عوام کے سامنے لائے جائیں . ہمیں دنیا بھر میں سائنس، سماجی خدمات انجام دینے والوں ، ٹیکنا لوجی اور تعلیم کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کو کیوں نہیں دکھایا جاتا تا کہ نوجوان نسل درست راستہ اپنانے کے لئے اثر لے .
ریٹنگ لینے کے لئے ہر ٹی وی چینل سیاسی خبروں تک محدود ہو گیا ہے۔ ڈرامہ چینلز پر بلاشبہ کچھ معیاری ڈرامے نشر ہو رہے ہیں لیکن ظاہر ہے ڈرامہ حقیقت نہیں ہوتا ۔
ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے کسوٹی جیسے پروگرام دیکھ کر پروان چڑھے ہیں۔ سکول جانے سے پہلے مستنصر حسین تارڈ صاحب کی صبح کی نشریات ہمیں ایک چھوٹی سی بات روز سکھا دیتی تھیں۔ نیلم گھر کی طرح بہت سے معلوماتی پروگرام ہماری معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔
نوجوان نسل کو میٹا ورلڈ ، این ایف ٹی، کرپٹو، گیمنگ اور بلاک چین کی معلومات پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ایک بھی ایسا پروگرام نہیں جو آرٹیفشل انٹیلیجنس یا آگمینٹڈ رئیلٹی کے بارے میں معلومات دے۔
دنیا تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور ہم ترقی پذیر سے بھی زوال کی طرف پتھر کے زمانے کی طرف کا سفر کر رہے ہیں۔
ہم وقت کا دھارا نہیں موڑ سکتے مگر ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مین سٹریم ٹی وی کی نشریات کا معیار بہتر بنا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو آنیوالے کل کے لئے تیار کریں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ہم کس گلی جا رہے ہیں----
ترجمہ: روبینہ یاسمین
ہماری نوجوان نسل کو ازراہ کرم آنے والے کل کے لئے تیار کریں .
پاکستانی ٹی وی چینلز بہت مایوس کن کام کر رہے ہیں . چوبیس گھنٹے منفی یا سیاسی خبریں کم پروپیگنڈا زیادہ چلتا رہتا ہے - ہمارے پاس نفرت پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کے بجاے کوئی اچھی چیز نہیں جو ہم اپنے ناظرین کو دکھا سکیں ؟ سیاسی لوگ پہلے ہی یہ کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں . مرکزی میڈیا بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے - ایک بار یہ ایک مثال قائم کر دے تو سوشل میڈیا بھی مہذب ڈھنگ سیکھ لے گا.
ٹی وی پر ٹیکنا لوجی ، ترقی، خوشحالی اور ملک میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی بات ہونی چاہئے .مختلف شعبوں سے بہترین لوگ عوام کے سامنے لائے جائیں . ہمیں دنیا بھر میں سائنس، سماجی خدمات انجام دینے والوں ، ٹیکنا لوجی اور تعلیم کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کو کیوں نہیں دکھایا جاتا تا کہ نوجوان نسل درست راستہ اپنانے کے لئے اثر لے .
ریٹنگ لینے کے لئے ہر ٹی وی چینل سیاسی خبروں تک محدود ہو گیا ہے۔ ڈرامہ چینلز پر بلاشبہ کچھ معیاری ڈرامے نشر ہو رہے ہیں لیکن ظاہر ہے ڈرامہ حقیقت نہیں ہوتا ۔
ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے کسوٹی جیسے پروگرام دیکھ کر پروان چڑھے ہیں۔ سکول جانے سے پہلے مستنصر حسین تارڈ صاحب کی صبح کی نشریات ہمیں ایک چھوٹی سی بات روز سکھا دیتی تھیں۔ نیلم گھر کی طرح بہت سے معلوماتی پروگرام ہماری معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔
نوجوان نسل کو میٹا ورلڈ ، این ایف ٹی، کرپٹو، گیمنگ اور بلاک چین کی معلومات پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ایک بھی ایسا پروگرام نہیں جو آرٹیفشل انٹیلیجنس یا آگمینٹڈ رئیلٹی کے بارے میں معلومات دے۔
دنیا تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور ہم ترقی پذیر سے بھی زوال کی طرف پتھر کے زمانے کی طرف کا سفر کر رہے ہیں۔
ہم وقت کا دھارا نہیں موڑ سکتے مگر ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مین سٹریم ٹی وی کی نشریات کا معیار بہتر بنا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو آنیوالے کل کے لئے تیار کریں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ہم کس گلی جا رہے ہیں----
تحریر: ہشام سرور
ترجمہ: روبینہ یاسمین
ہماری نوجوان نسل کو ازراہ کرم آنے والے کل کے لئے تیار کریں .
پاکستانی ٹی وی چینلز بہت مایوس کن کام کر رہے ہیں . چوبیس گھنٹے منفی یا سیاسی خبریں کم پروپیگنڈا زیادہ چلتا رہتا ہے - ہمارے پاس نفرت پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کے بجاے کوئی اچھی چیز نہیں جو ہم اپنے ناظرین کو دکھا سکیں ؟ سیاسی لوگ پہلے ہی یہ کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں . مرکزی میڈیا بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے - ایک بار یہ ایک مثال قائم کر دے تو سوشل میڈیا بھی مہذب ڈھنگ سیکھ لے گا.
ٹی وی پر ٹیکنا لوجی ، ترقی، خوشحالی اور ملک میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی بات ہونی چاہئے .مختلف شعبوں سے بہترین لوگ عوام کے سامنے لائے جائیں . ہمیں دنیا بھر میں سائنس، سماجی خدمات انجام دینے والوں ، ٹیکنا لوجی اور تعلیم کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کو کیوں نہیں دکھایا جاتا تا کہ نوجوان نسل درست راستہ اپنانے کے لئے اثر لے .
ریٹنگ لینے کے لئے ہر ٹی وی چینل سیاسی خبروں تک محدود ہو گیا ہے۔ ڈرامہ چینلز پر بلاشبہ کچھ معیاری ڈرامے نشر ہو رہے ہیں لیکن ظاہر ہے ڈرامہ حقیقت نہیں ہوتا ۔
ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے کسوٹی جیسے پروگرام دیکھ کر پروان چڑھے ہیں۔ سکول جانے سے پہلے مستنصر حسین تارڈ صاحب کی صبح کی نشریات ہمیں ایک چھوٹی سی بات روز سکھا دیتی تھیں۔ نیلم گھر کی طرح بہت سے معلوماتی پروگرام ہماری معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔
نوجوان نسل کو میٹا ورلڈ ، این ایف ٹی، کرپٹو، گیمنگ اور بلاک چین کی معلومات پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ایک بھی ایسا پروگرام نہیں جو آرٹیفشل انٹیلیجنس یا آگمینٹڈ رئیلٹی کے بارے میں معلومات دے۔
دنیا تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور ہم ترقی پذیر سے بھی زوال کی طرف پتھر کے زمانے کی طرف کا سفر کر رہے ہیں۔
ہم وقت کا دھارا نہیں موڑ سکتے مگر ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مین سٹریم ٹی وی کی نشریات کا معیار بہتر بنا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو آنیوالے کل کے لئے تیار کریں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ہم کس گلی جا رہے ہیں----
0 Comments
0 Shares
201 Views