زندگی کا مقصد تلاش کرنا ہے تو یہ سوچو کے جب زندگی نہیں رہے گی تو آپ کے پاس کیا ہوگا۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا پیغام اپنے صحابہ کو دیا تو ان کے دلوں سے دنیا کا لگاؤ خود ختم ہوگیا جتنی بھی احادیث میں نے پڑھیں ہیں ان میں مجھے ایسا کوئی لمحہ نہیں ملا کے جب کسی صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو کے ہم دولت کیسے کمائیں کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھا دی تھی کے یہ زندگی بھر حال ختم ہو جانی ہے
اور الله تعالیٰ نے تو یہ آیت نازل کر کے سارا مسئلہ ہی ختم کردیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت 185
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿١٨٥﴾
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں، (185)
راہی بات غربت کے خاتمے کی تو یہ بھی ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے انسان کو موٹیویشنل اسپیکر لگا دیتے ہیں۔
میں اپنی زندگی سے یہی سیکھ سکا ہوں کے دولت کا انا یا نہ انا سب قدرت کے کھیل ہیں میں نے بہت سے قابل لوگ ڈگریاں ہاتھ میں لئے جاہل اور کم پڑھے لکھے سیٹھوں کے سامنے نوکری مانگتے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کے کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں کے دبئی میں نوکری مل جائے لیکن نہیں ملتی کچھ لوگ کھیل ہی کھیل میں نوکری کی درخواست دیتے ہیں اور دبئی میں ان کی بہت ہی اچھی نوکری لگ جاتی ہے کچھ اپنا خرچہ کر کے دبئی پہنچ جاتے ہیں اور ہر دفتر کا چکر لگاتے ہیں پھر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے اور اس سب کچھ میں کوئی تعلیم کوئی ہنر کوئی واسطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔
راہی بات غربت مٹانے کی تو انسان نے دنیا میں نظام ایسا بنایا ہے کے آپ جس سطح پر موجود ہونگے اس سے اپر کی سطح کی زندگی آپ کو اچھی لگے گی اور آپ خود کو اپنے سے اپر والے کے نزدیک کم ہی سمجھتے رہیں گے یہاں تک کے آپ الله کی تقسیم میں خود کو راضی کر لیں اور اپنا دھیان مال دولت کے آنے جانے سے ہٹا کر جتنا ہے اتنے میں خوشی تلاش کرنے لگ جائیں۔
اللّٰہ سے دعا ہے کے وہ سب کے دلوں میں سکون پیدا کرے اور سب کو اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنا دے۔
Via Abdul Ali Muhammad Iqbal
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا پیغام اپنے صحابہ کو دیا تو ان کے دلوں سے دنیا کا لگاؤ خود ختم ہوگیا جتنی بھی احادیث میں نے پڑھیں ہیں ان میں مجھے ایسا کوئی لمحہ نہیں ملا کے جب کسی صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو کے ہم دولت کیسے کمائیں کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھا دی تھی کے یہ زندگی بھر حال ختم ہو جانی ہے
اور الله تعالیٰ نے تو یہ آیت نازل کر کے سارا مسئلہ ہی ختم کردیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت 185
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿١٨٥﴾
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں، (185)
راہی بات غربت کے خاتمے کی تو یہ بھی ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے انسان کو موٹیویشنل اسپیکر لگا دیتے ہیں۔
میں اپنی زندگی سے یہی سیکھ سکا ہوں کے دولت کا انا یا نہ انا سب قدرت کے کھیل ہیں میں نے بہت سے قابل لوگ ڈگریاں ہاتھ میں لئے جاہل اور کم پڑھے لکھے سیٹھوں کے سامنے نوکری مانگتے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کے کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں کے دبئی میں نوکری مل جائے لیکن نہیں ملتی کچھ لوگ کھیل ہی کھیل میں نوکری کی درخواست دیتے ہیں اور دبئی میں ان کی بہت ہی اچھی نوکری لگ جاتی ہے کچھ اپنا خرچہ کر کے دبئی پہنچ جاتے ہیں اور ہر دفتر کا چکر لگاتے ہیں پھر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے اور اس سب کچھ میں کوئی تعلیم کوئی ہنر کوئی واسطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔
راہی بات غربت مٹانے کی تو انسان نے دنیا میں نظام ایسا بنایا ہے کے آپ جس سطح پر موجود ہونگے اس سے اپر کی سطح کی زندگی آپ کو اچھی لگے گی اور آپ خود کو اپنے سے اپر والے کے نزدیک کم ہی سمجھتے رہیں گے یہاں تک کے آپ الله کی تقسیم میں خود کو راضی کر لیں اور اپنا دھیان مال دولت کے آنے جانے سے ہٹا کر جتنا ہے اتنے میں خوشی تلاش کرنے لگ جائیں۔
اللّٰہ سے دعا ہے کے وہ سب کے دلوں میں سکون پیدا کرے اور سب کو اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنا دے۔
Via Abdul Ali Muhammad Iqbal
زندگی کا مقصد تلاش کرنا ہے تو یہ سوچو کے جب زندگی نہیں رہے گی تو آپ کے پاس کیا ہوگا۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا پیغام اپنے صحابہ کو دیا تو ان کے دلوں سے دنیا کا لگاؤ خود ختم ہوگیا جتنی بھی احادیث میں نے پڑھیں ہیں ان میں مجھے ایسا کوئی لمحہ نہیں ملا کے جب کسی صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو کے ہم دولت کیسے کمائیں کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھا دی تھی کے یہ زندگی بھر حال ختم ہو جانی ہے
اور الله تعالیٰ نے تو یہ آیت نازل کر کے سارا مسئلہ ہی ختم کردیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت 185
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿١٨٥﴾
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں، (185)
راہی بات غربت کے خاتمے کی تو یہ بھی ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے انسان کو موٹیویشنل اسپیکر لگا دیتے ہیں۔
میں اپنی زندگی سے یہی سیکھ سکا ہوں کے دولت کا انا یا نہ انا سب قدرت کے کھیل ہیں میں نے بہت سے قابل لوگ ڈگریاں ہاتھ میں لئے جاہل اور کم پڑھے لکھے سیٹھوں کے سامنے نوکری مانگتے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کے کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں کے دبئی میں نوکری مل جائے لیکن نہیں ملتی کچھ لوگ کھیل ہی کھیل میں نوکری کی درخواست دیتے ہیں اور دبئی میں ان کی بہت ہی اچھی نوکری لگ جاتی ہے کچھ اپنا خرچہ کر کے دبئی پہنچ جاتے ہیں اور ہر دفتر کا چکر لگاتے ہیں پھر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے اور اس سب کچھ میں کوئی تعلیم کوئی ہنر کوئی واسطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔
راہی بات غربت مٹانے کی تو انسان نے دنیا میں نظام ایسا بنایا ہے کے آپ جس سطح پر موجود ہونگے اس سے اپر کی سطح کی زندگی آپ کو اچھی لگے گی اور آپ خود کو اپنے سے اپر والے کے نزدیک کم ہی سمجھتے رہیں گے یہاں تک کے آپ الله کی تقسیم میں خود کو راضی کر لیں اور اپنا دھیان مال دولت کے آنے جانے سے ہٹا کر جتنا ہے اتنے میں خوشی تلاش کرنے لگ جائیں۔
اللّٰہ سے دعا ہے کے وہ سب کے دلوں میں سکون پیدا کرے اور سب کو اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنا دے۔
Via Abdul Ali Muhammad Iqbal
0 Commentarios
0 Acciones
322 Views