Can someone introduce me to her !

(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 دسمبر 2018ء) : ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے لیے چیف جسٹس نےڈیم فنڈ بھی قائم کیا ۔ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں وزیراعظم عمران خان نے بھی عطیہ کرنے کی اپیل کی جس کے بعد اس فنڈ کا نام وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ رکھ دیا گیا۔ ڈیمز کی تعمیر تو پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لیے بنائے جانے کا اعلان کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ضائع ہونے والے پانی کوکیسے بچایا جائے۔
اس مشکل ترین سوال کا جواب پاکستان کی ایک خاتون سائنسدان نے ڈھونڈ نکالا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی سابق یونیسکو چئیرہولڈر، ریسرچ آفیسر اور مرکز برائے مربوط پہاڑی علاقہ جات پر تحقیق کی بانی ڈائریکٹر اور سارک ریجن میں پہلی پروفیسر ڈاکٹر خالدہ مسرت نے ملک میں بڑھتے ہوئے پانی بحران کے پیش نظر، زیر زمین پانی کو آلودگی سے پاک کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔
00:00
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ویسٹ واٹر سیگریگیشن استیریٹجی کی ضرورت ہے جس کے تحت آلودہ پانی کو صاف پانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس پر ریسرچ کی جس پر ہمیں کافی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف لاہور میں ہی روزانہ 90 ہزار لیٹر پانی کو آلودہ ہونے سے بچا کر استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی پالیسی سازوں سمیت تمام با اثر افراد سے میری التماس ہے کہ آگے بڑھیں اور میرے اس کام میں میرے ساتھ شامل ہوں۔ عالمی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر خالدہ مسرت خان اپنے گھر کے ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال کرتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا یہ تجربہپانی کے بحران کا شکار پاکستان جیسے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔
Can someone introduce me to her ! (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 دسمبر 2018ء) : ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے لیے چیف جسٹس نےڈیم فنڈ بھی قائم کیا ۔ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں وزیراعظم عمران خان نے بھی عطیہ کرنے کی اپیل کی جس کے بعد اس فنڈ کا نام وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ رکھ دیا گیا۔ ڈیمز کی تعمیر تو پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لیے بنائے جانے کا اعلان کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ضائع ہونے والے پانی کوکیسے بچایا جائے۔ اس مشکل ترین سوال کا جواب پاکستان کی ایک خاتون سائنسدان نے ڈھونڈ نکالا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی سابق یونیسکو چئیرہولڈر، ریسرچ آفیسر اور مرکز برائے مربوط پہاڑی علاقہ جات پر تحقیق کی بانی ڈائریکٹر اور سارک ریجن میں پہلی پروفیسر ڈاکٹر خالدہ مسرت نے ملک میں بڑھتے ہوئے پانی بحران کے پیش نظر، زیر زمین پانی کو آلودگی سے پاک کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ 00:00 انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ویسٹ واٹر سیگریگیشن استیریٹجی کی ضرورت ہے جس کے تحت آلودہ پانی کو صاف پانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس پر ریسرچ کی جس پر ہمیں کافی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف لاہور میں ہی روزانہ 90 ہزار لیٹر پانی کو آلودہ ہونے سے بچا کر استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی پالیسی سازوں سمیت تمام با اثر افراد سے میری التماس ہے کہ آگے بڑھیں اور میرے اس کام میں میرے ساتھ شامل ہوں۔ عالمی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر خالدہ مسرت خان اپنے گھر کے ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال کرتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا یہ تجربہپانی کے بحران کا شکار پاکستان جیسے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔
0 Comentários 0 Compartilhamentos 218 Visualizações