MTCP 2 Pakistan
ورکشاپ : پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری اور اس کے فروغ کا عملی طریقہ
پاکستان اخوت کسان* نے *کرافٹر فاؤنڈیشن* کے تعاون سے لاہور میں “پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری کے فروغ اور عملی طریقہ کار” “Paradoxical Agriculture”کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام مورخہ 2 اور 3 فروری 2019 کیا ہے۔
اس ورکشاپ کو معروف ماھر زراعت جناب آصف شریف کنڈکٹ کریں گے۔ آصف شریف Paradoxical Agriculture کے داعی کے طور پر دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتے ہیں، کارنل یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او (FAO) کے ساتھ ملکر اس کے فروغ کے لئے پاکستان سمیت کئی ممالک میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
یہ تربیتی ورکشاپ بلاشبہ سیکھنے اور ترقی کے خواھش مند کسانوں کے لیے ایک نادر موقع ھے۔ ورکشاپ کا پروگرام حسب ذیل ترتیب دیا گیا ھے۔
ہفتہ 2 فروری
پہلی نشست:
صبح 10 سے دو پہر 2 بجے
لنچ 2 سے 3 بجےسہ پہر
دوسری نشست:
3 سے 5:30 بجے شام
بمقام: پاک ہیریٹیج ہوٹل، ڈیوس روڈ لاہور
ورکشاپ میں جن موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:-
1. کاشتکاری کے لئے زمین کی زرخیزی کیوں اہم ہے؟؟
2. مسلسل کوشش کے باوجود ہماری آباد زمینوں کی زرخیزی بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہو رہی ہے؟؟
3. ہماری زمینوں میں لگائی جانے والی فصلوں پر ہر آنے والے سال بیماریاں کیوں زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں؟؟
4. زمینوں کی زرخیزی کیسے چند ہی ماہ میں اطمینان بخش حد تک بڑھائی جا سکتی ہے؟؟
5. پھر ہر فصل پر وہ کم ہونے کی بجائے نہ صرف برقرار بلکہ مزید بہتر کیسی ہو سکتی ہے؟؟
6. ان مقاصد کا حصول کس بھی قسم کے اضافی اخراجات کے بغیر کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟؟؟
7. بنجر اور کلر زدہ زمینوں کی تیز تر اصلاح اور انھیں جلد منافع بخش بنانے کا کیا طریقہ کار ھے؟؟؟
8. زمین کی تیاری، دوایوں اور پانی بجلی وغیرہ پر ہونے والے اخراجات کو بتدریج کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟؟؟
9. وقت کی ایسی بچت کیسے ممکن ہے کہ ہم ایک ہی کھیت سے دو تین کی بجائے سال میں پانچ چھ فصلیں لے سکیں؟؟؟
10. آبپاشی کے نظام جیسے سپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن پر اضافی خرچ کئے بغیر پانی کی ساٹھ فیصد تک بچت کے ساتھ ساتھ مزید فوائد حاصل کرنا کیسے ممکن ھے؟؟؟
11. کیمیائی کھادوں کی بچت پہلی ہی فصل سے ۵۰ فیصد تک کیسے کی جا سکتی ہے اور پھر بتدریج ان کے استعمال سے مکمل ہی جان چھڑوا کر منافع بخش اور صحت مند پیداوار کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟؟؟
12. جڑی بوٹی (ویڈی سائیڈز) اور پھپھوندی مار زھروں (فنجی سائیڈز) کے استعمال سے دوسری تیسری فصل تک چھٹکارہ کیسے ممکن ھے؟؟؟
13. بتدریج کیڑے مار زھروں (انسیکٹی سائیڈز) کے استعمال کم سے کم کرنا کیسے ممکن ہے؟؟؟
14. وہ کیا طریقہ کار ہے کہ جس سے ایک غریب گھرانہ ایک ڈیڑھ ایکڑ زمین پر کاشتکاری سے خوشحال زندگی بسر کر سکتا ہے؟؟؟
15. ٹنل فارمنگ سے ملتے جلتے فوائد کا حصول ٹنل کے بغیر کیسے ممکن ہے؟؟؟
16. ایک ہی کھیت میں فصل اور باغات کیسے لگائیں جائیں کہ وہ ایک دوسرے کی پیداوار پر منفی کی بجائے مثبت اثرات دیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں؟؟؟
17. اس کے علاوہ سیڈ کواپریٹو بینک بنانے کے امکانات اور اس کے فوائد پر بھی بات ہو گی۔
اطمینان رہے کہ یہ سب کچھ صرف کاشتکاری کے طریقہ کار کو سیکھنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جانتے ہی ہونگے کسی بھی غیر مروجہ طریقہ کار کو سیکھ اور سمجھ کر اپنا لینا متوسط درجہ کے اذہان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ وہ کسی چیز کے مروج ہو جانے کے بعد ہی پیروی کر سکتے ہیں۔
اتوار 3 فروری 2019
دوسرا دن: فیلڈ وزٹ (تعلیمی دورہ)
ہوٹل سے روانگی برائے سکھیکی: صبح 9 بجے
چائے: صبح 10:30 بجے
پقنک پر کاشت کردہ فصلوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: صبح 11 بجے
لنچ: 2 سے 3 بجے دوپہر
پقنک سے متعلق مشینوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: 3 بجے شام
رونگی برائے لاہور: 4 بجے شام
رجسٹریشن فیس (بشمول دونوں دن کا لنچ، چائے اور لاہور سے سکھیکی اور واپسی کا سفر): 2,000 روپے
رابطہ برائے رجسٹریشن:
مس صائمہ
+92 321 4223613
نوٹ:
۱– رجسٹریشن پہلے آیئے پہلے پائیے کی بنیاد پر ہو گی۔ کہ انتظامات صرف ۵۰ لوگوں کے لئے ممکن ہو سکے۔
۲۔ باہر سے آنے والے احباب کے لئے پاک ہیریٹیج ہوٹل میں رعایتی نرخوں پر رہائش کا انتظام کیا گیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سنگل روم؛ 2000 روپے
ڈبل بیڈ؛ 3500 روپے
ٹریپل بیڈ؛ 4000 روپے
جو دوست رات ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں وہ مس صائمہ سے رابطہ کریں۔
ورکشاپ : پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری اور اس کے فروغ کا عملی طریقہ
پاکستان اخوت کسان* نے *کرافٹر فاؤنڈیشن* کے تعاون سے لاہور میں “پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری کے فروغ اور عملی طریقہ کار” “Paradoxical Agriculture”کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام مورخہ 2 اور 3 فروری 2019 کیا ہے۔
اس ورکشاپ کو معروف ماھر زراعت جناب آصف شریف کنڈکٹ کریں گے۔ آصف شریف Paradoxical Agriculture کے داعی کے طور پر دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتے ہیں، کارنل یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او (FAO) کے ساتھ ملکر اس کے فروغ کے لئے پاکستان سمیت کئی ممالک میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
یہ تربیتی ورکشاپ بلاشبہ سیکھنے اور ترقی کے خواھش مند کسانوں کے لیے ایک نادر موقع ھے۔ ورکشاپ کا پروگرام حسب ذیل ترتیب دیا گیا ھے۔
ہفتہ 2 فروری
پہلی نشست:
صبح 10 سے دو پہر 2 بجے
لنچ 2 سے 3 بجےسہ پہر
دوسری نشست:
3 سے 5:30 بجے شام
بمقام: پاک ہیریٹیج ہوٹل، ڈیوس روڈ لاہور
ورکشاپ میں جن موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:-
1. کاشتکاری کے لئے زمین کی زرخیزی کیوں اہم ہے؟؟
2. مسلسل کوشش کے باوجود ہماری آباد زمینوں کی زرخیزی بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہو رہی ہے؟؟
3. ہماری زمینوں میں لگائی جانے والی فصلوں پر ہر آنے والے سال بیماریاں کیوں زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں؟؟
4. زمینوں کی زرخیزی کیسے چند ہی ماہ میں اطمینان بخش حد تک بڑھائی جا سکتی ہے؟؟
5. پھر ہر فصل پر وہ کم ہونے کی بجائے نہ صرف برقرار بلکہ مزید بہتر کیسی ہو سکتی ہے؟؟
6. ان مقاصد کا حصول کس بھی قسم کے اضافی اخراجات کے بغیر کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟؟؟
7. بنجر اور کلر زدہ زمینوں کی تیز تر اصلاح اور انھیں جلد منافع بخش بنانے کا کیا طریقہ کار ھے؟؟؟
8. زمین کی تیاری، دوایوں اور پانی بجلی وغیرہ پر ہونے والے اخراجات کو بتدریج کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟؟؟
9. وقت کی ایسی بچت کیسے ممکن ہے کہ ہم ایک ہی کھیت سے دو تین کی بجائے سال میں پانچ چھ فصلیں لے سکیں؟؟؟
10. آبپاشی کے نظام جیسے سپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن پر اضافی خرچ کئے بغیر پانی کی ساٹھ فیصد تک بچت کے ساتھ ساتھ مزید فوائد حاصل کرنا کیسے ممکن ھے؟؟؟
11. کیمیائی کھادوں کی بچت پہلی ہی فصل سے ۵۰ فیصد تک کیسے کی جا سکتی ہے اور پھر بتدریج ان کے استعمال سے مکمل ہی جان چھڑوا کر منافع بخش اور صحت مند پیداوار کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟؟؟
12. جڑی بوٹی (ویڈی سائیڈز) اور پھپھوندی مار زھروں (فنجی سائیڈز) کے استعمال سے دوسری تیسری فصل تک چھٹکارہ کیسے ممکن ھے؟؟؟
13. بتدریج کیڑے مار زھروں (انسیکٹی سائیڈز) کے استعمال کم سے کم کرنا کیسے ممکن ہے؟؟؟
14. وہ کیا طریقہ کار ہے کہ جس سے ایک غریب گھرانہ ایک ڈیڑھ ایکڑ زمین پر کاشتکاری سے خوشحال زندگی بسر کر سکتا ہے؟؟؟
15. ٹنل فارمنگ سے ملتے جلتے فوائد کا حصول ٹنل کے بغیر کیسے ممکن ہے؟؟؟
16. ایک ہی کھیت میں فصل اور باغات کیسے لگائیں جائیں کہ وہ ایک دوسرے کی پیداوار پر منفی کی بجائے مثبت اثرات دیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں؟؟؟
17. اس کے علاوہ سیڈ کواپریٹو بینک بنانے کے امکانات اور اس کے فوائد پر بھی بات ہو گی۔
اطمینان رہے کہ یہ سب کچھ صرف کاشتکاری کے طریقہ کار کو سیکھنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جانتے ہی ہونگے کسی بھی غیر مروجہ طریقہ کار کو سیکھ اور سمجھ کر اپنا لینا متوسط درجہ کے اذہان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ وہ کسی چیز کے مروج ہو جانے کے بعد ہی پیروی کر سکتے ہیں۔
اتوار 3 فروری 2019
دوسرا دن: فیلڈ وزٹ (تعلیمی دورہ)
ہوٹل سے روانگی برائے سکھیکی: صبح 9 بجے
چائے: صبح 10:30 بجے
پقنک پر کاشت کردہ فصلوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: صبح 11 بجے
لنچ: 2 سے 3 بجے دوپہر
پقنک سے متعلق مشینوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: 3 بجے شام
رونگی برائے لاہور: 4 بجے شام
رجسٹریشن فیس (بشمول دونوں دن کا لنچ، چائے اور لاہور سے سکھیکی اور واپسی کا سفر): 2,000 روپے
رابطہ برائے رجسٹریشن:
مس صائمہ
+92 321 4223613
نوٹ:
۱– رجسٹریشن پہلے آیئے پہلے پائیے کی بنیاد پر ہو گی۔ کہ انتظامات صرف ۵۰ لوگوں کے لئے ممکن ہو سکے۔
۲۔ باہر سے آنے والے احباب کے لئے پاک ہیریٹیج ہوٹل میں رعایتی نرخوں پر رہائش کا انتظام کیا گیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سنگل روم؛ 2000 روپے
ڈبل بیڈ؛ 3500 روپے
ٹریپل بیڈ؛ 4000 روپے
جو دوست رات ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں وہ مس صائمہ سے رابطہ کریں۔
MTCP 2 Pakistan
ورکشاپ : پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری اور اس کے فروغ کا عملی طریقہ
پاکستان اخوت کسان* نے *کرافٹر فاؤنڈیشن* کے تعاون سے لاہور میں “پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری کے فروغ اور عملی طریقہ کار” “Paradoxical Agriculture”کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام مورخہ 2 اور 3 فروری 2019 کیا ہے۔
اس ورکشاپ کو معروف ماھر زراعت جناب آصف شریف کنڈکٹ کریں گے۔ آصف شریف Paradoxical Agriculture کے داعی کے طور پر دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتے ہیں، کارنل یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او (FAO) کے ساتھ ملکر اس کے فروغ کے لئے پاکستان سمیت کئی ممالک میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
یہ تربیتی ورکشاپ بلاشبہ سیکھنے اور ترقی کے خواھش مند کسانوں کے لیے ایک نادر موقع ھے۔ ورکشاپ کا پروگرام حسب ذیل ترتیب دیا گیا ھے۔
ہفتہ 2 فروری
پہلی نشست:
صبح 10 سے دو پہر 2 بجے
لنچ 2 سے 3 بجےسہ پہر
دوسری نشست:
3 سے 5:30 بجے شام
بمقام: پاک ہیریٹیج ہوٹل، ڈیوس روڈ لاہور
ورکشاپ میں جن موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:-
1. کاشتکاری کے لئے زمین کی زرخیزی کیوں اہم ہے؟؟
2. مسلسل کوشش کے باوجود ہماری آباد زمینوں کی زرخیزی بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہو رہی ہے؟؟
3. ہماری زمینوں میں لگائی جانے والی فصلوں پر ہر آنے والے سال بیماریاں کیوں زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں؟؟
4. زمینوں کی زرخیزی کیسے چند ہی ماہ میں اطمینان بخش حد تک بڑھائی جا سکتی ہے؟؟
5. پھر ہر فصل پر وہ کم ہونے کی بجائے نہ صرف برقرار بلکہ مزید بہتر کیسی ہو سکتی ہے؟؟
6. ان مقاصد کا حصول کس بھی قسم کے اضافی اخراجات کے بغیر کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟؟؟
7. بنجر اور کلر زدہ زمینوں کی تیز تر اصلاح اور انھیں جلد منافع بخش بنانے کا کیا طریقہ کار ھے؟؟؟
8. زمین کی تیاری، دوایوں اور پانی بجلی وغیرہ پر ہونے والے اخراجات کو بتدریج کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟؟؟
9. وقت کی ایسی بچت کیسے ممکن ہے کہ ہم ایک ہی کھیت سے دو تین کی بجائے سال میں پانچ چھ فصلیں لے سکیں؟؟؟
10. آبپاشی کے نظام جیسے سپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن پر اضافی خرچ کئے بغیر پانی کی ساٹھ فیصد تک بچت کے ساتھ ساتھ مزید فوائد حاصل کرنا کیسے ممکن ھے؟؟؟
11. کیمیائی کھادوں کی بچت پہلی ہی فصل سے ۵۰ فیصد تک کیسے کی جا سکتی ہے اور پھر بتدریج ان کے استعمال سے مکمل ہی جان چھڑوا کر منافع بخش اور صحت مند پیداوار کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟؟؟
12. جڑی بوٹی (ویڈی سائیڈز) اور پھپھوندی مار زھروں (فنجی سائیڈز) کے استعمال سے دوسری تیسری فصل تک چھٹکارہ کیسے ممکن ھے؟؟؟
13. بتدریج کیڑے مار زھروں (انسیکٹی سائیڈز) کے استعمال کم سے کم کرنا کیسے ممکن ہے؟؟؟
14. وہ کیا طریقہ کار ہے کہ جس سے ایک غریب گھرانہ ایک ڈیڑھ ایکڑ زمین پر کاشتکاری سے خوشحال زندگی بسر کر سکتا ہے؟؟؟
15. ٹنل فارمنگ سے ملتے جلتے فوائد کا حصول ٹنل کے بغیر کیسے ممکن ہے؟؟؟
16. ایک ہی کھیت میں فصل اور باغات کیسے لگائیں جائیں کہ وہ ایک دوسرے کی پیداوار پر منفی کی بجائے مثبت اثرات دیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں؟؟؟
17. اس کے علاوہ سیڈ کواپریٹو بینک بنانے کے امکانات اور اس کے فوائد پر بھی بات ہو گی۔
اطمینان رہے کہ یہ سب کچھ صرف کاشتکاری کے طریقہ کار کو سیکھنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جانتے ہی ہونگے کسی بھی غیر مروجہ طریقہ کار کو سیکھ اور سمجھ کر اپنا لینا متوسط درجہ کے اذہان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ وہ کسی چیز کے مروج ہو جانے کے بعد ہی پیروی کر سکتے ہیں۔
اتوار 3 فروری 2019
دوسرا دن: فیلڈ وزٹ (تعلیمی دورہ)
ہوٹل سے روانگی برائے سکھیکی: صبح 9 بجے
چائے: صبح 10:30 بجے
پقنک پر کاشت کردہ فصلوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: صبح 11 بجے
لنچ: 2 سے 3 بجے دوپہر
پقنک سے متعلق مشینوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: 3 بجے شام
رونگی برائے لاہور: 4 بجے شام
رجسٹریشن فیس (بشمول دونوں دن کا لنچ، چائے اور لاہور سے سکھیکی اور واپسی کا سفر): 2,000 روپے
رابطہ برائے رجسٹریشن:
مس صائمہ
+92 321 4223613
نوٹ:
۱– رجسٹریشن پہلے آیئے پہلے پائیے کی بنیاد پر ہو گی۔ کہ انتظامات صرف ۵۰ لوگوں کے لئے ممکن ہو سکے۔
۲۔ باہر سے آنے والے احباب کے لئے پاک ہیریٹیج ہوٹل میں رعایتی نرخوں پر رہائش کا انتظام کیا گیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سنگل روم؛ 2000 روپے
ڈبل بیڈ؛ 3500 روپے
ٹریپل بیڈ؛ 4000 روپے
جو دوست رات ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں وہ مس صائمہ سے رابطہ کریں۔
0 Commentarios
0 Acciones
236 Views