ہر سال حج پر تقریباً 70 لاکھ مسلمان خانہ کعبہ میں کھڑے ہو اسلام کی سر بلندی کے لیے دعا کرتے ہیں مگر دعا قبول نہیں ہوتی جب بھی شام ، رومانیہ ، افغانستان ، اے پی ایس سکول جہاں کہیں بھی غیر مسلم مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹتے ہیں ہم آن لائن تقریباً اربوں مسلمان بد دعائیں دیتے ہیں مگر نہ تو ہماری دعائیں قبول ہوتیں ہیں نہ بد دعائیں قبول ہوتیں ہیں اس کی کیا وجہ ہے کبھی سوچا ہم نے ، ہمارے پاس کتنے نیک لوگ ہیں جو دن رات اللہ اللہ کرتے ہیں ، کتنے ایسے ہیں جو دوسروں کی اولاد بند کر سکتے ہیں روزی روٹی بند کر سکتے ہیں ، یعنی جادو گر ، کچھ بے چارے سمجھتے ہیں میری روزی روٹی اولاد پر جادو کیا ہوا ہے ، پھر بھی ہمارے حالات کیوں نہیں بدلتے اس کی کیا وجہ ہے ، کچھ تو کمی ہے ہم میں جو ہماری دعا اور بد دعا میں اثر نہیں رہا ، افغانستان میں جو کچھ ہوا ہم بھول جائیں گے ، شام ایران عراق ، کربلا کی طرح ہم سب کو بھول جائیں گے ، گورا ریسرچ کرتا ہے ایسا کیوں ہوا ہم کہتے ہیں تقدیر میں ہی یہ لکھا تھا ، اگر ہم کسی کے بچے جو موٹرسائیکل گاڑی تلے روند کر چلے جاتے ہیں تو ہاتھ بندھ کر اس کو تقدیر پر ایمان لانے کو مجبور کر دیتے ہیں اور وہ معاف کر دیتا ہے ، آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے تقدیر میں یہ لکھا ہے یا ہم خود ذمہ دار ہیں ، بھائی ہم مر اس لیے رہے ہیں کی ہم جینا چاہتے ہیں وہ بھی اپنی چاہت کے ساتھ مگر خدا فرماتا ہے تھکا دو گا تم کو تری چاہت میں ، کیا ہم تھک نہیں چکے ، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ، دوسری اقوام مسئلہ کا حل نکالتیں ہیں ہم احتجاج کرتے ہیں ، ایک دفعہ ایک جماعت نے امریکا کے سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا اور ایک صحافی امریکی سفیر کے پاس گیا کہ اب کیا ہو گا اس نے جواب دیا اگر میں باہر نکل کر علان کر دو کہ جو چپ چاپ گھر چلا جائے اس کو امریکا کی نیشنلٹی دو گا اور ان کو یقین ہو کہ ملے گی یہ سب چلے جائیں گے ، ، ہمارے دل کی کیفت تمام اقوام عالم جان چکی ہے اگر ہمارے وزیراعظم کے کپڑے اتر کر بے عزت کیا جارہا ہے تو ان کو پتہ ہے جس ملک کا وزیراعظم ہے وہ خود اس کو جوتے مارتے ہیں ہم تو اپنے ملک کا قانون فالو کر رہے ہیں عمران خان پر ہم کیا کیا باتیں کرتے ہیں لوگ تو بانی پاکستان پر بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ، ڈاکٹر قدیر خان کس کس کا نام لو ، کیا یہ سب تقدیر کا لکھا ہے ،
By Sarwar Adil
By Sarwar Adil
ہر سال حج پر تقریباً 70 لاکھ مسلمان خانہ کعبہ میں کھڑے ہو اسلام کی سر بلندی کے لیے دعا کرتے ہیں مگر دعا قبول نہیں ہوتی جب بھی شام ، رومانیہ ، افغانستان ، اے پی ایس سکول جہاں کہیں بھی غیر مسلم مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹتے ہیں ہم آن لائن تقریباً اربوں مسلمان بد دعائیں دیتے ہیں مگر نہ تو ہماری دعائیں قبول ہوتیں ہیں نہ بد دعائیں قبول ہوتیں ہیں اس کی کیا وجہ ہے کبھی سوچا ہم نے ، ہمارے پاس کتنے نیک لوگ ہیں جو دن رات اللہ اللہ کرتے ہیں ، کتنے ایسے ہیں جو دوسروں کی اولاد بند کر سکتے ہیں روزی روٹی بند کر سکتے ہیں ، یعنی جادو گر ، کچھ بے چارے سمجھتے ہیں میری روزی روٹی اولاد پر جادو کیا ہوا ہے ، پھر بھی ہمارے حالات کیوں نہیں بدلتے اس کی کیا وجہ ہے ، کچھ تو کمی ہے ہم میں جو ہماری دعا اور بد دعا میں اثر نہیں رہا ، افغانستان میں جو کچھ ہوا ہم بھول جائیں گے ، شام ایران عراق ، کربلا کی طرح ہم سب کو بھول جائیں گے ، گورا ریسرچ کرتا ہے ایسا کیوں ہوا ہم کہتے ہیں تقدیر میں ہی یہ لکھا تھا ، اگر ہم کسی کے بچے جو موٹرسائیکل گاڑی تلے روند کر چلے جاتے ہیں تو ہاتھ بندھ کر اس کو تقدیر پر ایمان لانے کو مجبور کر دیتے ہیں اور وہ معاف کر دیتا ہے ، آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے تقدیر میں یہ لکھا ہے یا ہم خود ذمہ دار ہیں ، بھائی ہم مر اس لیے رہے ہیں کی ہم جینا چاہتے ہیں وہ بھی اپنی چاہت کے ساتھ مگر خدا فرماتا ہے تھکا دو گا تم کو تری چاہت میں ، کیا ہم تھک نہیں چکے ، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ، دوسری اقوام مسئلہ کا حل نکالتیں ہیں ہم احتجاج کرتے ہیں ، ایک دفعہ ایک جماعت نے امریکا کے سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا اور ایک صحافی امریکی سفیر کے پاس گیا کہ اب کیا ہو گا اس نے جواب دیا اگر میں باہر نکل کر علان کر دو کہ جو چپ چاپ گھر چلا جائے اس کو امریکا کی نیشنلٹی دو گا اور ان کو یقین ہو کہ ملے گی یہ سب چلے جائیں گے ، ، ہمارے دل کی کیفت تمام اقوام عالم جان چکی ہے اگر ہمارے وزیراعظم کے کپڑے اتر کر بے عزت کیا جارہا ہے تو ان کو پتہ ہے جس ملک کا وزیراعظم ہے وہ خود اس کو جوتے مارتے ہیں ہم تو اپنے ملک کا قانون فالو کر رہے ہیں عمران خان پر ہم کیا کیا باتیں کرتے ہیں لوگ تو بانی پاکستان پر بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ، ڈاکٹر قدیر خان کس کس کا نام لو ، کیا یہ سب تقدیر کا لکھا ہے ،
By Sarwar Adil
0 Commentarios
0 Acciones
207 Views