* علامہ اقبال *

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

هر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

سجدوں سے تیرے کیا هوا صدیاں گزر گئیں
دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر.
* علامہ اقبال * منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر هر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر سجدوں سے تیرے کیا هوا صدیاں گزر گئیں دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر.
0 Comments 0 Shares 117 Views