Burma Situation Wonderfully Explained by Fahad Rizwan
جہاں تک میں سمجھ سکا ھوں، روھینگیا مسلمانوں کا مسٰلہ دینی سے زیادہ قومیت کا ھے۔ یہ ایسے ھی ھے جیسے پاکستان میں بلوچوں، ترکی میں کردوں، ایران میں آزری یا تیونس ، مراکش میں بربر قوم کا مسٰلہ ھے۔ متحدہ ھندوستان میں دو طرز کے نقطہ نظر تھے۔ ایک موقف جناح صاحب اور مسلم لیگ کا تھا، دوسرا موقف قوم پرست کانگرسی مسلمانوں اور جمیعت علمائے ھند کا تھا۔ مسلم لیگ اور اسکی قیادت کہتی تھی کہ مسلمان متحدہ ھندوستان میں غیر مسلموں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے اس لیے ھندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو علیحدہ کر پاکستان بنا دیا جائے (ھم نے پاکستان بنا کر یہ جانا کہ مسلمان، مسلمانوں کے ساتھ بھی امن سے نہیں رہ سکتے)۔ دوسرا موقف یہ تھا کہ ھندوستان میں مسلمان اس طرح بکھرے ھوئے ھیں کہ علیحدگی ، مسلمانوں کے مسائل نہیں ھو سکتی بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دے گی۔ باچا خاں اور مولانا آزاد اس پر بہت اصرار سے یہ کہتے تھے کہ اج کابل، قندھار سے لے کر رنگون، پٹنہ تک مسلمان ایک ھیں۔ اپ نے اگر درمیان میں سرحدیں کھڑی کر دیں، انکو مستقل شکل دے دی تو یہ کروڑوں مسلمانوں کی تقسیم ھو گی۔ جب کابل میں مسلمان پر مصیبت ائے گی تو لاھور ، دلی ، ڈھاکے میں بیٹھا مسلمان اسکی کچھ مدد نا کر سکے گا۔
بہرحال اس زمانے میں مسلم لیگ جیت گئی اور یہ سارا خطہ بندر بانٹ کی نذر ھو گیا۔ اچھا جس وقت یہ سرحدیں اور لکیریں کھینچی جا رھیں تھیں، اس وقت برما میں آباد ان مسلمانوں نے جناح صاحب کو لکھا کہ انکو پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔ مگر جناح صاحب نے ، اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
اب معاملہ یہ ھے کہ برمی، ان بنگالی نژاد روھنگیوں کو برمی نہیں مانتے ۔۔۔۔ یہ روھنگیا ، اپنے اکژیتی خطے کو پہلے مشرقی پاکستان اور اب بنگلہ دیش کا حصہ بنانا چاھتے ھیں۔ بنگالی انکو ، بنگالی تسلیم نہیں کرتے نا انکو پناہ دینا چاھتے ھیں (جیسے پاکستان ، ڈھاکہ میں محصور ان لاکھوں بہاری مسلمانوں کو قبول نہیں کرتا جو اج چالیس سال بعد بھی اپنے اپکو پاکیستانی کہتے ھیں اور بنگالیوں کے ھاتھوں اس طرح زلیل ھو رھے ھیں جیسے ھم پاکستانی افغانوں کو کرتے ھیں۔ )
اخری تناظر میں یہ سب اسی وطنیت اور قوم پرستی ، نسل پرستی ، مذھبی انتہاپسندی کا شاخسانہ ھے جو مجھے دوسرے انسان سے نفرت کرنے پر مجبور کرتی ھے کیونکہ اسکا مذھب، مسلک، زبان، نسل ، قوم مجھ سے مختلف ھے۔۔۔۔
فہد رضوان
جہاں تک میں سمجھ سکا ھوں، روھینگیا مسلمانوں کا مسٰلہ دینی سے زیادہ قومیت کا ھے۔ یہ ایسے ھی ھے جیسے پاکستان میں بلوچوں، ترکی میں کردوں، ایران میں آزری یا تیونس ، مراکش میں بربر قوم کا مسٰلہ ھے۔ متحدہ ھندوستان میں دو طرز کے نقطہ نظر تھے۔ ایک موقف جناح صاحب اور مسلم لیگ کا تھا، دوسرا موقف قوم پرست کانگرسی مسلمانوں اور جمیعت علمائے ھند کا تھا۔ مسلم لیگ اور اسکی قیادت کہتی تھی کہ مسلمان متحدہ ھندوستان میں غیر مسلموں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے اس لیے ھندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو علیحدہ کر پاکستان بنا دیا جائے (ھم نے پاکستان بنا کر یہ جانا کہ مسلمان، مسلمانوں کے ساتھ بھی امن سے نہیں رہ سکتے)۔ دوسرا موقف یہ تھا کہ ھندوستان میں مسلمان اس طرح بکھرے ھوئے ھیں کہ علیحدگی ، مسلمانوں کے مسائل نہیں ھو سکتی بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دے گی۔ باچا خاں اور مولانا آزاد اس پر بہت اصرار سے یہ کہتے تھے کہ اج کابل، قندھار سے لے کر رنگون، پٹنہ تک مسلمان ایک ھیں۔ اپ نے اگر درمیان میں سرحدیں کھڑی کر دیں، انکو مستقل شکل دے دی تو یہ کروڑوں مسلمانوں کی تقسیم ھو گی۔ جب کابل میں مسلمان پر مصیبت ائے گی تو لاھور ، دلی ، ڈھاکے میں بیٹھا مسلمان اسکی کچھ مدد نا کر سکے گا۔
بہرحال اس زمانے میں مسلم لیگ جیت گئی اور یہ سارا خطہ بندر بانٹ کی نذر ھو گیا۔ اچھا جس وقت یہ سرحدیں اور لکیریں کھینچی جا رھیں تھیں، اس وقت برما میں آباد ان مسلمانوں نے جناح صاحب کو لکھا کہ انکو پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔ مگر جناح صاحب نے ، اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
اب معاملہ یہ ھے کہ برمی، ان بنگالی نژاد روھنگیوں کو برمی نہیں مانتے ۔۔۔۔ یہ روھنگیا ، اپنے اکژیتی خطے کو پہلے مشرقی پاکستان اور اب بنگلہ دیش کا حصہ بنانا چاھتے ھیں۔ بنگالی انکو ، بنگالی تسلیم نہیں کرتے نا انکو پناہ دینا چاھتے ھیں (جیسے پاکستان ، ڈھاکہ میں محصور ان لاکھوں بہاری مسلمانوں کو قبول نہیں کرتا جو اج چالیس سال بعد بھی اپنے اپکو پاکیستانی کہتے ھیں اور بنگالیوں کے ھاتھوں اس طرح زلیل ھو رھے ھیں جیسے ھم پاکستانی افغانوں کو کرتے ھیں۔ )
اخری تناظر میں یہ سب اسی وطنیت اور قوم پرستی ، نسل پرستی ، مذھبی انتہاپسندی کا شاخسانہ ھے جو مجھے دوسرے انسان سے نفرت کرنے پر مجبور کرتی ھے کیونکہ اسکا مذھب، مسلک، زبان، نسل ، قوم مجھ سے مختلف ھے۔۔۔۔
فہد رضوان
Burma Situation Wonderfully Explained by Fahad Rizwan
جہاں تک میں سمجھ سکا ھوں، روھینگیا مسلمانوں کا مسٰلہ دینی سے زیادہ قومیت کا ھے۔ یہ ایسے ھی ھے جیسے پاکستان میں بلوچوں، ترکی میں کردوں، ایران میں آزری یا تیونس ، مراکش میں بربر قوم کا مسٰلہ ھے۔ متحدہ ھندوستان میں دو طرز کے نقطہ نظر تھے۔ ایک موقف جناح صاحب اور مسلم لیگ کا تھا، دوسرا موقف قوم پرست کانگرسی مسلمانوں اور جمیعت علمائے ھند کا تھا۔ مسلم لیگ اور اسکی قیادت کہتی تھی کہ مسلمان متحدہ ھندوستان میں غیر مسلموں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے اس لیے ھندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو علیحدہ کر پاکستان بنا دیا جائے (ھم نے پاکستان بنا کر یہ جانا کہ مسلمان، مسلمانوں کے ساتھ بھی امن سے نہیں رہ سکتے)۔ دوسرا موقف یہ تھا کہ ھندوستان میں مسلمان اس طرح بکھرے ھوئے ھیں کہ علیحدگی ، مسلمانوں کے مسائل نہیں ھو سکتی بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دے گی۔ باچا خاں اور مولانا آزاد اس پر بہت اصرار سے یہ کہتے تھے کہ اج کابل، قندھار سے لے کر رنگون، پٹنہ تک مسلمان ایک ھیں۔ اپ نے اگر درمیان میں سرحدیں کھڑی کر دیں، انکو مستقل شکل دے دی تو یہ کروڑوں مسلمانوں کی تقسیم ھو گی۔ جب کابل میں مسلمان پر مصیبت ائے گی تو لاھور ، دلی ، ڈھاکے میں بیٹھا مسلمان اسکی کچھ مدد نا کر سکے گا۔
بہرحال اس زمانے میں مسلم لیگ جیت گئی اور یہ سارا خطہ بندر بانٹ کی نذر ھو گیا۔ اچھا جس وقت یہ سرحدیں اور لکیریں کھینچی جا رھیں تھیں، اس وقت برما میں آباد ان مسلمانوں نے جناح صاحب کو لکھا کہ انکو پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔ مگر جناح صاحب نے ، اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
اب معاملہ یہ ھے کہ برمی، ان بنگالی نژاد روھنگیوں کو برمی نہیں مانتے ۔۔۔۔ یہ روھنگیا ، اپنے اکژیتی خطے کو پہلے مشرقی پاکستان اور اب بنگلہ دیش کا حصہ بنانا چاھتے ھیں۔ بنگالی انکو ، بنگالی تسلیم نہیں کرتے نا انکو پناہ دینا چاھتے ھیں (جیسے پاکستان ، ڈھاکہ میں محصور ان لاکھوں بہاری مسلمانوں کو قبول نہیں کرتا جو اج چالیس سال بعد بھی اپنے اپکو پاکیستانی کہتے ھیں اور بنگالیوں کے ھاتھوں اس طرح زلیل ھو رھے ھیں جیسے ھم پاکستانی افغانوں کو کرتے ھیں۔ )
اخری تناظر میں یہ سب اسی وطنیت اور قوم پرستی ، نسل پرستی ، مذھبی انتہاپسندی کا شاخسانہ ھے جو مجھے دوسرے انسان سے نفرت کرنے پر مجبور کرتی ھے کیونکہ اسکا مذھب، مسلک، زبان، نسل ، قوم مجھ سے مختلف ھے۔۔۔۔
فہد رضوان
0 Comments
0 Shares
199 Views