میری طرف سے آپ کے لیئے امن اور سلامتی کا پیغام ۔

دنیا میں ھر کارباری اور صنعت کار کی خواہش ھوتی ھے کہ اسکے لیے کام کرنے والا منجھا ھوا ھو تاکہ اسکا کاروبار بہترین چلے۔ انٹرویو دیکھکر تھوڑی سی مایوسی ھوئ شائد آپ دونوں وہ وقت بھول گئے جب آپ دونوں ھی تنکے کے سہارے تلاش کر ھے تھے لیکن لگاتار اپنی جسمانی ، ذھنی مشقت اور ضدی طبیعت کے باعث مالی بحرانوں سے نکل آے۔

آپ دونوں کی نیت پر شک نہی کیا جا سکتا کہ آپ پاکستانی جوانوں کی معاشی اور معاشرتی ابتری سے پریشان ھیں ۔ جن بچوں کو آپ طریقئہ کاروبار بلخصوص آئ ۔ ٹی کے حوالے سے سکھلانے نکلے ھیں انکے معاشی اور معاشرتی رویوں اور حالات کا تجزیہ آپکو اپنے موجودہ معشای حالات کی بنیاد پر نہی اپنے ابتدائ ادوار کی بنیاد پر کرنا چاھیے۔

ھمارے ھاں آئ ۔ ٹی نیا ھے آن لائین کام کا خوب شور شرابہ ھے اسکے لیے ریحان صاحب کی تجویز کہ ان بچوں کی ذمہ داری لی جائے جنمیں اس کام کو کرنے کی لگن اور ضد پائ جائے۔ میرا نہی خیال کہ آپکو بچے تلاش کرنے میں مشکل ھو گی۔ طریقہ کار اور آپکی لگن میں کمی ھو سکتی ھے اسپر تنقیدی جائزہ لیں۔

بچہ جب چن لیا جائے تو اس بات آپنے اپنے آپ سے وعدہ کرنا ھے کہ تربیت کی میعاد ھر صورت میں پوری کرنی ھے بلکل ایسے ھی جیسے کسی سکول میں کچی پکی کلاس کا بچہ داخل ھوتا ھے لیکن ھر کوئ کوشش میں ھوتا ھے کہ پڑھائ \ تربیت مکلمل ھو [ میری رائے میں آپ دونوں ] اس نقطے پر توجہ نہی دے رھے، اور کوشش میں ھیں کہ بچہ فوری اپنے پاوں پر کھڑا ھو جائے اور شائد تھوڑے سے مطلبی بھی ۔

بچے کو بلا کسی زاتی مفاد کے کام سکھایے ۔ اگر آپ انکی دال روٹی کا خیال رکھیں گے تو وہ بچہ آپکے لیے کافی عرصے تک فائدہ مند ثابت ھو سکتا ھے ۔ بچوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے رھیں ۔ بلکل ایک سکول یا فوجی ادارے یا بنک کے ادارے یا سرکار ادارے کی طرح جو بچہ اگلا کورس کاروبار کے ساتھ کرتا رھے مالی اور عہدے کی ترقی کا اھل اھلیت کی بنیاد پر پائے گا۔

قاسم حسین صاحب کے لیے وقت مسلہ ھے انکو چاھیے کہ اپنے ھاتھ سے کام کرنا چھوڑ دیں دوسروں پر ذمہ داری بتجریج ڈالتے رھیں لیکن گہری نظر رکھیں ایک سال کا ٹارگٹ رکھیں وقت فالتو ھو گا ۔ قاسم صاحب خوف سے نکلیں کہ میرے بغیر کاروبار خراب ھو گا ۔

بنیادی نقطہ مد نظر رھے کہ آپ نے کام بلا کسی مالی فائدے کے کرنا ھے۔ اسی میں سبکی بھلائ ھے۔ مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔۔ جن لوگوں اقوام کی مثالیں آپ دیتے ھیں انھوں پچیس تیس سال لگایے ھیں اور لگاتار مالی انویسٹمنٹ کر ھے ھیں۔

Faisal Pony Wala
فیصل پونی والا
میری طرف سے آپ کے لیئے امن اور سلامتی کا پیغام ۔ دنیا میں ھر کارباری اور صنعت کار کی خواہش ھوتی ھے کہ اسکے لیے کام کرنے والا منجھا ھوا ھو تاکہ اسکا کاروبار بہترین چلے۔ انٹرویو دیکھکر تھوڑی سی مایوسی ھوئ شائد آپ دونوں وہ وقت بھول گئے جب آپ دونوں ھی تنکے کے سہارے تلاش کر ھے تھے لیکن لگاتار اپنی جسمانی ، ذھنی مشقت اور ضدی طبیعت کے باعث مالی بحرانوں سے نکل آے۔ آپ دونوں کی نیت پر شک نہی کیا جا سکتا کہ آپ پاکستانی جوانوں کی معاشی اور معاشرتی ابتری سے پریشان ھیں ۔ جن بچوں کو آپ طریقئہ کاروبار بلخصوص آئ ۔ ٹی کے حوالے سے سکھلانے نکلے ھیں انکے معاشی اور معاشرتی رویوں اور حالات کا تجزیہ آپکو اپنے موجودہ معشای حالات کی بنیاد پر نہی اپنے ابتدائ ادوار کی بنیاد پر کرنا چاھیے۔ ھمارے ھاں آئ ۔ ٹی نیا ھے آن لائین کام کا خوب شور شرابہ ھے اسکے لیے ریحان صاحب کی تجویز کہ ان بچوں کی ذمہ داری لی جائے جنمیں اس کام کو کرنے کی لگن اور ضد پائ جائے۔ میرا نہی خیال کہ آپکو بچے تلاش کرنے میں مشکل ھو گی۔ طریقہ کار اور آپکی لگن میں کمی ھو سکتی ھے اسپر تنقیدی جائزہ لیں۔ بچہ جب چن لیا جائے تو اس بات آپنے اپنے آپ سے وعدہ کرنا ھے کہ تربیت کی میعاد ھر صورت میں پوری کرنی ھے بلکل ایسے ھی جیسے کسی سکول میں کچی پکی کلاس کا بچہ داخل ھوتا ھے لیکن ھر کوئ کوشش میں ھوتا ھے کہ پڑھائ \ تربیت مکلمل ھو [ میری رائے میں آپ دونوں ] اس نقطے پر توجہ نہی دے رھے، اور کوشش میں ھیں کہ بچہ فوری اپنے پاوں پر کھڑا ھو جائے اور شائد تھوڑے سے مطلبی بھی ۔ بچے کو بلا کسی زاتی مفاد کے کام سکھایے ۔ اگر آپ انکی دال روٹی کا خیال رکھیں گے تو وہ بچہ آپکے لیے کافی عرصے تک فائدہ مند ثابت ھو سکتا ھے ۔ بچوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے رھیں ۔ بلکل ایک سکول یا فوجی ادارے یا بنک کے ادارے یا سرکار ادارے کی طرح جو بچہ اگلا کورس کاروبار کے ساتھ کرتا رھے مالی اور عہدے کی ترقی کا اھل اھلیت کی بنیاد پر پائے گا۔ قاسم حسین صاحب کے لیے وقت مسلہ ھے انکو چاھیے کہ اپنے ھاتھ سے کام کرنا چھوڑ دیں دوسروں پر ذمہ داری بتجریج ڈالتے رھیں لیکن گہری نظر رکھیں ایک سال کا ٹارگٹ رکھیں وقت فالتو ھو گا ۔ قاسم صاحب خوف سے نکلیں کہ میرے بغیر کاروبار خراب ھو گا ۔ بنیادی نقطہ مد نظر رھے کہ آپ نے کام بلا کسی مالی فائدے کے کرنا ھے۔ اسی میں سبکی بھلائ ھے۔ مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔۔ جن لوگوں اقوام کی مثالیں آپ دیتے ھیں انھوں پچیس تیس سال لگایے ھیں اور لگاتار مالی انویسٹمنٹ کر ھے ھیں۔ Faisal Pony Wala فیصل پونی والا
0 Comments 0 Shares 249 Views