What do you think ?

Faisal Pony Wala
1 hr ·

سلام۔ ۔

آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔

میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔

والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔

میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔

ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔

اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا سٹیک اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔

کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔

بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔

چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔

دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔
دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری

بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔

آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
What do you think ? Faisal Pony Wala 1 hr · سلام۔ ۔ آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔ میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔ والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔ میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔ ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔ اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا '' سٹیک '' اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔ کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔ بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔ چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔ دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔ دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔ آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
0 التعليقات 0 المشاركات 148 مشاهدة