السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ !
برادرم / محترم !!

ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں:-

سولہ دسمبر کا دن آرہا ہے۔ اب سے پینتالیس سال قبل، ہمارے مُلک کو بیرونی مُداخلت اور عسکری جارحیت کا سنگین اور ہولناک سامنا کرنا پڑا تھا۔

سولہ دسمبر کو ڈھاکا پر، جارح ہندوستانی فوج کا قبضہ مکمل ہوا تھا، اور دِفاعِ پاکستان پر مامور افواج کو ہتھیار ڈالنے پڑے تھے۔

المیہ یہ ہے کہ ہماری قوم، اِس سانحہ کو بُھلا بیٹھی ہے۔ ہمارے اجتماعی ضمیر و نفسیات میں اور ہمارے شَعور و لا شعور میں، اِس عبرت ناک واقعہ کا، کوئی اَثر، کوئی عمل دخل ہی نہیں۔

بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں، اِس " بُھلاوے" کا بھی، بڑا عَیّارانہ، بےرحمانہ اور بھرپور اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔

وائے ناکامی، مَتاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دِل سے، اِحساسِ زِیاں جاتا رہا !!

نتیجتاً آج ہمارے نوجوان، اپنی مِلّی تاریخ کے اِس دردناک باب سے ناواقف، یا کم ہی آگاہ ہیں۔

لھٰذا ایک عاجزانہ رائے ہے کہ کم از کم ہم لوگ، اپنے خاندان کے بچّوں اور بچّیوں کو، سولہ دسمبر یا اُس کے آس پاس، کھانے پر جمع کریں۔

اُنھیں پاکستان حاصل کرنے، اور بعد میں اِس کی حفاظت نہ کرسکنے کی تاریخ کے کچھ اَبواب، کچھ حصّے، کچھ قِصّے سُنائیں، سمجھائیں، یاد کرائیں۔

تاکہ ہماری اگلی نسلوں کے اجتماعی شعور اور لا شعور میں، اِس درد ناک، چَشم کُشا اور سبق آموز واقعہ کی آگہی، شِدَّتِ احساس اور قُوّتِ عمل بخشنے والی خَلِش، زندہ بھی رہے اور کار فرما بھی ہو۔

اِمسال، سولہ دسمبر کو، جمعہ ہے۔ اُسی شب، یا اگلی شب (سترہ دسمبر کو) یہ نشست ہوسکتی ہے۔

اِس عاجز کی رائے ہے کہ ہمیں سارے کام، اھلِ اِختیار و اقتدار پر نہیں چھوڑنے چاہییں۔
نِجی سطح پر، خود بھی کچھ اچھی رِوایات کی داغ بیل ڈالنی چاہیے۔
اِسی سلسلہ میں، ہمیں چاہیے کہ سولہ دسمبر کے حوالہ سے، اپنے اپنے خاندانوں میں، نوجونوں کی نشستوں کا،
(اپنے بچّوں اور نوجوانوں کے مشوروں سے)،
اہتمام کریں۔ اِس سے مُعاشرہ میں، ایک اچھی رِوایت کا آغاز ہوسکتا ہے۔

خُدا کرے کہ اِمسال، ہماری حکومت، اِسٹابلِشمنٹ اور میڈیا، سُقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحہ کو بُھلانے، دَبانے، یا اس سے نظریں چُرانے کی غلطی نہ کرے۔

اللہ کریم، خیر و برکت و عافیت سے نوازیں۔ شکریہ!
والسلام!!
شاہد ہاشمی ۔ کراچی

Whatsapp : +92 333 3987711

To get more from him on whatsapp do whatsapp him to add you to his Groupon
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ! برادرم / محترم !! ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں:- سولہ دسمبر کا دن آرہا ہے۔ اب سے پینتالیس سال قبل، ہمارے مُلک کو بیرونی مُداخلت اور عسکری جارحیت کا سنگین اور ہولناک سامنا کرنا پڑا تھا۔ سولہ دسمبر کو ڈھاکا پر، جارح ہندوستانی فوج کا قبضہ مکمل ہوا تھا، اور دِفاعِ پاکستان پر مامور افواج کو ہتھیار ڈالنے پڑے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری قوم، اِس سانحہ کو بُھلا بیٹھی ہے۔ ہمارے اجتماعی ضمیر و نفسیات میں اور ہمارے شَعور و لا شعور میں، اِس عبرت ناک واقعہ کا، کوئی اَثر، کوئی عمل دخل ہی نہیں۔ بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں، اِس " بُھلاوے" کا بھی، بڑا عَیّارانہ، بےرحمانہ اور بھرپور اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ وائے ناکامی، مَتاعِ کارواں جاتا رہا کارواں کے دِل سے، اِحساسِ زِیاں جاتا رہا !! نتیجتاً آج ہمارے نوجوان، اپنی مِلّی تاریخ کے اِس دردناک باب سے ناواقف، یا کم ہی آگاہ ہیں۔ لھٰذا ایک عاجزانہ رائے ہے کہ کم از کم ہم لوگ، اپنے خاندان کے بچّوں اور بچّیوں کو، سولہ دسمبر یا اُس کے آس پاس، کھانے پر جمع کریں۔ اُنھیں پاکستان حاصل کرنے، اور بعد میں اِس کی حفاظت نہ کرسکنے کی تاریخ کے کچھ اَبواب، کچھ حصّے، کچھ قِصّے سُنائیں، سمجھائیں، یاد کرائیں۔ تاکہ ہماری اگلی نسلوں کے اجتماعی شعور اور لا شعور میں، اِس درد ناک، چَشم کُشا اور سبق آموز واقعہ کی آگہی، شِدَّتِ احساس اور قُوّتِ عمل بخشنے والی خَلِش، زندہ بھی رہے اور کار فرما بھی ہو۔ اِمسال، سولہ دسمبر کو، جمعہ ہے۔ اُسی شب، یا اگلی شب (سترہ دسمبر کو) یہ نشست ہوسکتی ہے۔ اِس عاجز کی رائے ہے کہ ہمیں سارے کام، اھلِ اِختیار و اقتدار پر نہیں چھوڑنے چاہییں۔ نِجی سطح پر، خود بھی کچھ اچھی رِوایات کی داغ بیل ڈالنی چاہیے۔ اِسی سلسلہ میں، ہمیں چاہیے کہ سولہ دسمبر کے حوالہ سے، اپنے اپنے خاندانوں میں، نوجونوں کی نشستوں کا، (اپنے بچّوں اور نوجوانوں کے مشوروں سے)، اہتمام کریں۔ اِس سے مُعاشرہ میں، ایک اچھی رِوایت کا آغاز ہوسکتا ہے۔ خُدا کرے کہ اِمسال، ہماری حکومت، اِسٹابلِشمنٹ اور میڈیا، سُقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحہ کو بُھلانے، دَبانے، یا اس سے نظریں چُرانے کی غلطی نہ کرے۔ اللہ کریم، خیر و برکت و عافیت سے نوازیں۔ شکریہ! والسلام!! شاہد ہاشمی ۔ کراچی Whatsapp : +92 333 3987711 To get more from him on whatsapp do whatsapp him to add you to his Groupon
0 Kommentare 0 Anteile 202 Ansichten