ایک وقت تھا…
جب لوگ سمجھتے تھے کہ اسکول صرف نوکری تک پہنچنے کا راستہ ہوتے ہیں۔
آج…
کچھ اسکول بچوں کو اپنا راستہ خود بنانا بھی سکھا رہے ہیں۔
ریحان اسکول میں تین دوست تھے۔
علی، زینب، اور حمزہ۔
تینوں ہر صبح ایک ہی گیٹ سے اندر آتے تھے۔
لیکن تینوں ایک جیسے نہیں تھے۔
علی خاموش تھا۔
زینب تجسس سے بھری ہوئی تھی۔
اور حمزہ کو لگتا تھا کہ اصل زندگی تو اسکول کے بعد شروع ہوتی ہے۔
پھر ایک دن…
انہیں صرف کتابیں یاد کرنے کے بجائے…
مسئلے حل کرنا سکھایا گیا۔
سوچنا سکھایا گیا۔
اور اپنی مہارت کو دنیا کے کام کی چیز بنانا سکھایا گیا۔
شروع میں کچھ بھی مختلف نظر نہیں آیا۔
وہی کلاس۔
وہی دوست۔
وہی یونیفارم۔
فرق صرف ایک تھا۔
علی نے جو سیکھا…
اسے آزمانا شروع کر دیا۔
مہینے گزر گئے۔
ایک دن اس نے اپنی پہلی آن لائن کمائی کی۔
رقم شاید بہت بڑی نہیں تھی۔
لیکن اس احساس کی کوئی قیمت نہیں تھی۔
اس دن اس نے صرف پیسے نہیں کمائے تھے۔
اس نے یہ جان لیا تھا کہ عمر چھوٹی ہو سکتی ہے…
لیکن صلاحیت نہیں۔
حمزہ خاموش ہو گیا۔
زینب مسکرا دی۔
اور باقی کلاس نے پہلی بار سمجھا…
کچھ اسکول صرف مستقبل کی تیاری نہیں کرتے۔
وہ مستقبل کو وقت سے پہلے شروع کر دیتے ہیں۔
جب لوگ سمجھتے تھے کہ اسکول صرف نوکری تک پہنچنے کا راستہ ہوتے ہیں۔
آج…
کچھ اسکول بچوں کو اپنا راستہ خود بنانا بھی سکھا رہے ہیں۔
ریحان اسکول میں تین دوست تھے۔
علی، زینب، اور حمزہ۔
تینوں ہر صبح ایک ہی گیٹ سے اندر آتے تھے۔
لیکن تینوں ایک جیسے نہیں تھے۔
علی خاموش تھا۔
زینب تجسس سے بھری ہوئی تھی۔
اور حمزہ کو لگتا تھا کہ اصل زندگی تو اسکول کے بعد شروع ہوتی ہے۔
پھر ایک دن…
انہیں صرف کتابیں یاد کرنے کے بجائے…
مسئلے حل کرنا سکھایا گیا۔
سوچنا سکھایا گیا۔
اور اپنی مہارت کو دنیا کے کام کی چیز بنانا سکھایا گیا۔
شروع میں کچھ بھی مختلف نظر نہیں آیا۔
وہی کلاس۔
وہی دوست۔
وہی یونیفارم۔
فرق صرف ایک تھا۔
علی نے جو سیکھا…
اسے آزمانا شروع کر دیا۔
مہینے گزر گئے۔
ایک دن اس نے اپنی پہلی آن لائن کمائی کی۔
رقم شاید بہت بڑی نہیں تھی۔
لیکن اس احساس کی کوئی قیمت نہیں تھی۔
اس دن اس نے صرف پیسے نہیں کمائے تھے۔
اس نے یہ جان لیا تھا کہ عمر چھوٹی ہو سکتی ہے…
لیکن صلاحیت نہیں۔
حمزہ خاموش ہو گیا۔
زینب مسکرا دی۔
اور باقی کلاس نے پہلی بار سمجھا…
کچھ اسکول صرف مستقبل کی تیاری نہیں کرتے۔
وہ مستقبل کو وقت سے پہلے شروع کر دیتے ہیں۔
ایک وقت تھا…
جب لوگ سمجھتے تھے کہ اسکول صرف نوکری تک پہنچنے کا راستہ ہوتے ہیں۔
آج…
کچھ اسکول بچوں کو اپنا راستہ خود بنانا بھی سکھا رہے ہیں۔
ریحان اسکول میں تین دوست تھے۔
علی، زینب، اور حمزہ۔
تینوں ہر صبح ایک ہی گیٹ سے اندر آتے تھے۔
لیکن تینوں ایک جیسے نہیں تھے۔
علی خاموش تھا۔
زینب تجسس سے بھری ہوئی تھی۔
اور حمزہ کو لگتا تھا کہ اصل زندگی تو اسکول کے بعد شروع ہوتی ہے۔
پھر ایک دن…
انہیں صرف کتابیں یاد کرنے کے بجائے…
مسئلے حل کرنا سکھایا گیا۔
سوچنا سکھایا گیا۔
اور اپنی مہارت کو دنیا کے کام کی چیز بنانا سکھایا گیا۔
شروع میں کچھ بھی مختلف نظر نہیں آیا۔
وہی کلاس۔
وہی دوست۔
وہی یونیفارم۔
فرق صرف ایک تھا۔
علی نے جو سیکھا…
اسے آزمانا شروع کر دیا۔
مہینے گزر گئے۔
ایک دن اس نے اپنی پہلی آن لائن کمائی کی۔
رقم شاید بہت بڑی نہیں تھی۔
لیکن اس احساس کی کوئی قیمت نہیں تھی۔
اس دن اس نے صرف پیسے نہیں کمائے تھے۔
اس نے یہ جان لیا تھا کہ عمر چھوٹی ہو سکتی ہے…
لیکن صلاحیت نہیں۔
حمزہ خاموش ہو گیا۔
زینب مسکرا دی۔
اور باقی کلاس نے پہلی بار سمجھا…
کچھ اسکول صرف مستقبل کی تیاری نہیں کرتے۔
وہ مستقبل کو وقت سے پہلے شروع کر دیتے ہیں۔
0 Commenti
0 condivisioni
75 Views