Task : Story post
Story Post no : 31
facbook link : https://www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/www.youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت
ایک دن ملا نصرالدین کو بادشاہ کی طرف سے ایک شاندار دعوت کا بلاوا آیا۔ بادشاہ نے شہر کے کئی معزز لوگوں کو اپنے محل میں کھانے کی دعوت دی تھی۔
ملا نصرالدین خوشی خوشی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن انہوں نے سادہ اور پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ جب وہ محل کے دروازے پر پہنچے تو محافظوں نے انہیں دیکھا اور روک لیا۔
محافظوں نے کہا،
"تم کہاں جا رہے ہو؟ یہ دعوت صرف خاص مہمانوں کے لیے ہے۔"
ملا نصرالدین نے جواب دیا،
"مجھے بادشاہ نے خود دعوت دی ہے۔"
محافظ ہنسنے لگے اور بولے،
"تم جیسے سادہ کپڑوں والے شخص کو بادشاہ کی دعوت میں کیسے بلایا جا سکتا ہے؟"
ملا نصرالدین خاموشی سے واپس گھر چلے گئے۔ انہوں نے اپنے خوبصورت اور قیمتی کپڑے پہنے اور دوبارہ محل پہنچ گئے۔
اس مرتبہ محافظوں نے انہیں فوراً اندر جانے دیا۔ ملا نصرالدین کو عزت کے ساتھ بٹھایا گیا اور کھانا پیش کیا گیا۔
لیکن ملا نصرالدین نے کھانا کھانے کے بجائے اپنی قیمتی قبا کی آستین میں کھانا ڈالنا شروع کر دیا۔
بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا:
"ملا صاحب! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟"
ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے:
"بادشاہ سلامت! لگتا ہے دعوت مجھے نہیں بلکہ میرے کپڑوں کو دی گئی ہے۔ جب میں سادہ کپڑوں میں آیا تو مجھے اندر نہیں آنے دیا گیا، لیکن جب میں اچھے کپڑے پہن کر آیا تو سب نے عزت دی۔ اس لیے کھانا بھی میرے کپڑوں کا حق بنتا ہے!"
بادشاہ کو ملا نصرالدین کی بات سمجھ آگئی۔ وہ مسکرایا اور کہا:
"ملا نصرالدین! آج تم نے ہمیں ایک اہم سبق سکھایا ہے۔ انسان کی قدر اس کے لباس یا دولت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور شخصیت سے ہونی چاہیے۔"
سبق:
کسی انسان کی عزت اس کے لباس، دولت یا ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور صلاحیت سے کرنی چاہیے۔
Task : Story post Story Post no : 31 facbook link : https://www.facebook.com/profile.php?... youtube link : https:/www.youtube.com/@BilalLeaders ملا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت ایک دن ملا نصرالدین کو بادشاہ کی طرف سے ایک شاندار دعوت کا بلاوا آیا۔ بادشاہ نے شہر کے کئی معزز لوگوں کو اپنے محل میں کھانے کی دعوت دی تھی۔ ملا نصرالدین خوشی خوشی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن انہوں نے سادہ اور پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ جب وہ محل کے دروازے پر پہنچے تو محافظوں نے انہیں دیکھا اور روک لیا۔ محافظوں نے کہا، "تم کہاں جا رہے ہو؟ یہ دعوت صرف خاص مہمانوں کے لیے ہے۔" ملا نصرالدین نے جواب دیا، "مجھے بادشاہ نے خود دعوت دی ہے۔" محافظ ہنسنے لگے اور بولے، "تم جیسے سادہ کپڑوں والے شخص کو بادشاہ کی دعوت میں کیسے بلایا جا سکتا ہے؟" ملا نصرالدین خاموشی سے واپس گھر چلے گئے۔ انہوں نے اپنے خوبصورت اور قیمتی کپڑے پہنے اور دوبارہ محل پہنچ گئے۔ اس مرتبہ محافظوں نے انہیں فوراً اندر جانے دیا۔ ملا نصرالدین کو عزت کے ساتھ بٹھایا گیا اور کھانا پیش کیا گیا۔ لیکن ملا نصرالدین نے کھانا کھانے کے بجائے اپنی قیمتی قبا کی آستین میں کھانا ڈالنا شروع کر دیا۔ بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا: "ملا صاحب! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟" ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے: "بادشاہ سلامت! لگتا ہے دعوت مجھے نہیں بلکہ میرے کپڑوں کو دی گئی ہے۔ جب میں سادہ کپڑوں میں آیا تو مجھے اندر نہیں آنے دیا گیا، لیکن جب میں اچھے کپڑے پہن کر آیا تو سب نے عزت دی۔ اس لیے کھانا بھی میرے کپڑوں کا حق بنتا ہے!" بادشاہ کو ملا نصرالدین کی بات سمجھ آگئی۔ وہ مسکرایا اور کہا: "ملا نصرالدین! آج تم نے ہمیں ایک اہم سبق سکھایا ہے۔ انسان کی قدر اس کے لباس یا دولت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور شخصیت سے ہونی چاہیے۔" سبق: کسی انسان کی عزت اس کے لباس، دولت یا ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور صلاحیت سے کرنی چاہیے۔
1
0 Commenti 0 condivisioni 44 Views