# Mulla Nasrudin & the Tightrope Walker
Day 14
Roll no: 01
Story Post
Foundation Level
One day, a tightrope walker came to the town and announced that he would cross the rope from one end to the other.
People gathered to watch the show. Mulla Nasrudin also went there.
The man started walking on the rope, and everyone held their breath. When he reached the other side safely, everyone clapped and praised him.
The tightrope walker, proud of his success, asked Mulla, “How did you like my performance?”
Mulla smiled and replied, “It was very good, but tell me, why did you need a pole?”
The man was surprised and asked, “If not for balance, then for what?”
Mulla laughed and said, “If you have so much balance, then you don’t need a pole!”
The crowd laughed at Mulla’s funny answer.
**Moral of the Story:**
Sometimes, people depend on things they don’t really need. True confidence comes from within.
# ملا نصرالدین اور رسی پر چلنے والا
Day 14
Roll no: 01
Story Post
Foundation Level
ایک دن ایک رسی پر چلنے والا فنکار شہر میں آیا اور اعلان کیا کہ وہ رسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے گا۔
لوگ اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ملا نصرالدین بھی وہاں پہنچ گئے۔
فنکار نے رسی پر چلنا شروع کیا اور سب لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ جب وہ بحفاظت دوسری طرف پہنچ گیا تو سب نے تالیاں بجائیں اور اس کی تعریف کی۔
رسی پر چلنے والے فنکار نے اپنی کامیابی پر فخر کرتے ہوئے ملا سے پوچھا، “آپ کو میرا کرتب کیسا لگا؟”
ملا مسکرائے اور بولے، “بہت اچھا تھا، لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں اس ڈنڈے کی ضرورت کیوں پڑی؟”
فنکار حیران ہو کر بولا، “اگر توازن قائم رکھنے کے لیے نہیں، تو پھر کس لیے؟”
ملا ہنسے اور کہا، “اگر تمہارے پاس اتنا اچھا توازن ہے تو پھر ڈنڈے کی کیا ضرورت ہے!”
لوگ ملا کا مزاحیہ جواب سن کر ہنسنے لگے۔
**کہانی کا سبق:**
کبھی کبھی لوگ ایسی چیزوں پر بھروسہ کرتے ہیں جن کی انہیں واقعی ضرورت نہیں ہوتی۔ حقیقی اعتماد انسان کے اندر سے آتا ہے۔
Day 14
Roll no: 01
Story Post
Foundation Level
One day, a tightrope walker came to the town and announced that he would cross the rope from one end to the other.
People gathered to watch the show. Mulla Nasrudin also went there.
The man started walking on the rope, and everyone held their breath. When he reached the other side safely, everyone clapped and praised him.
The tightrope walker, proud of his success, asked Mulla, “How did you like my performance?”
Mulla smiled and replied, “It was very good, but tell me, why did you need a pole?”
The man was surprised and asked, “If not for balance, then for what?”
Mulla laughed and said, “If you have so much balance, then you don’t need a pole!”
The crowd laughed at Mulla’s funny answer.
**Moral of the Story:**
Sometimes, people depend on things they don’t really need. True confidence comes from within.
# ملا نصرالدین اور رسی پر چلنے والا
Day 14
Roll no: 01
Story Post
Foundation Level
ایک دن ایک رسی پر چلنے والا فنکار شہر میں آیا اور اعلان کیا کہ وہ رسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے گا۔
لوگ اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ملا نصرالدین بھی وہاں پہنچ گئے۔
فنکار نے رسی پر چلنا شروع کیا اور سب لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ جب وہ بحفاظت دوسری طرف پہنچ گیا تو سب نے تالیاں بجائیں اور اس کی تعریف کی۔
رسی پر چلنے والے فنکار نے اپنی کامیابی پر فخر کرتے ہوئے ملا سے پوچھا، “آپ کو میرا کرتب کیسا لگا؟”
ملا مسکرائے اور بولے، “بہت اچھا تھا، لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں اس ڈنڈے کی ضرورت کیوں پڑی؟”
فنکار حیران ہو کر بولا، “اگر توازن قائم رکھنے کے لیے نہیں، تو پھر کس لیے؟”
ملا ہنسے اور کہا، “اگر تمہارے پاس اتنا اچھا توازن ہے تو پھر ڈنڈے کی کیا ضرورت ہے!”
لوگ ملا کا مزاحیہ جواب سن کر ہنسنے لگے۔
**کہانی کا سبق:**
کبھی کبھی لوگ ایسی چیزوں پر بھروسہ کرتے ہیں جن کی انہیں واقعی ضرورت نہیں ہوتی۔ حقیقی اعتماد انسان کے اندر سے آتا ہے۔
# Mulla Nasrudin & the Tightrope Walker
Day 14
Roll no: 01
Story Post
Foundation Level
One day, a tightrope walker came to the town and announced that he would cross the rope from one end to the other.
People gathered to watch the show. Mulla Nasrudin also went there.
The man started walking on the rope, and everyone held their breath. When he reached the other side safely, everyone clapped and praised him.
The tightrope walker, proud of his success, asked Mulla, “How did you like my performance?”
Mulla smiled and replied, “It was very good, but tell me, why did you need a pole?”
The man was surprised and asked, “If not for balance, then for what?”
Mulla laughed and said, “If you have so much balance, then you don’t need a pole!”
The crowd laughed at Mulla’s funny answer.
**Moral of the Story:**
Sometimes, people depend on things they don’t really need. True confidence comes from within.
# ملا نصرالدین اور رسی پر چلنے والا
Day 14
Roll no: 01
Story Post
Foundation Level
ایک دن ایک رسی پر چلنے والا فنکار شہر میں آیا اور اعلان کیا کہ وہ رسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے گا۔
لوگ اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ملا نصرالدین بھی وہاں پہنچ گئے۔
فنکار نے رسی پر چلنا شروع کیا اور سب لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ جب وہ بحفاظت دوسری طرف پہنچ گیا تو سب نے تالیاں بجائیں اور اس کی تعریف کی۔
رسی پر چلنے والے فنکار نے اپنی کامیابی پر فخر کرتے ہوئے ملا سے پوچھا، “آپ کو میرا کرتب کیسا لگا؟”
ملا مسکرائے اور بولے، “بہت اچھا تھا، لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں اس ڈنڈے کی ضرورت کیوں پڑی؟”
فنکار حیران ہو کر بولا، “اگر توازن قائم رکھنے کے لیے نہیں، تو پھر کس لیے؟”
ملا ہنسے اور کہا، “اگر تمہارے پاس اتنا اچھا توازن ہے تو پھر ڈنڈے کی کیا ضرورت ہے!”
لوگ ملا کا مزاحیہ جواب سن کر ہنسنے لگے۔
**کہانی کا سبق:**
کبھی کبھی لوگ ایسی چیزوں پر بھروسہ کرتے ہیں جن کی انہیں واقعی ضرورت نہیں ہوتی۔ حقیقی اعتماد انسان کے اندر سے آتا ہے۔
0 Comentários
0 Compartilhamentos
28 Visualizações