Level 1
Book 1
Day 8
Week
Task story post 8
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ملا نصر الدین کو ان کے شہر کے ایک امیر اور نواب شخص نے شاندار دعوتِ طعام (ضیافت) میں مدعو کیا۔

ملا نصر الدین اس وقت کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اس لیے وہ اپنے سادہ اور پرانے، پیوند لگے ہوئے کپڑوں میں ہی سیدھے نواب کے محل پہنچ گئے۔ جب وہ محل کے دروازے پر پہنچے اور اندر داخل ہوئے تو کسی نے ان کی طرف توجہ نہ دی۔ نوکروں اور دیگر مہمانوں نے ان کے معمولی لباس کی وجہ سے انہیں بالکل نظر انداز کر دیا اور انہیں بیٹھنے کے لیے کوئی اچھے مقام پر جگہ بھی نہ ملی۔ ملا بغیر کچھ کھائے خاموشی سے وہاں سے نکل آئے۔

ملا سیدھے اپنے گھر گئے، نہائے، اور اپنا سب سے بہترین، ریشمی اور قیمتی نیا کوٹ (عبایا) پہنا۔ ساتھ ہی ایک چمکدار عمامہ سر پر سجایا اور دوبارہ نواب کے محل پہنچے۔

اس بار جیسے ہی ملا نصر الدین محل کے دروازے پر پہنچے، دربانوں نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ نواب نے خود آگے بڑھ کر ملا کا پیشواہ کیا اور انہیں عزت کے ساتھ سب سے اعلیٰ نشست پر بٹھایا۔ ان کے سامنے لذیذ ترین کھانوں کی پلیٹیں سجا دی گئیں۔

کھانا شروع ہوتے ہی ملا نصر الدین نے ایک عجیب حرکت کی۔ انہوں نے سالن کا چمچ بھرا اور کھانے کی بجائے اپنے نئے کوٹ کی آستین پر ڈالتے ہوئے بولے:
"کھاؤ، میرے کوٹ! کھاؤ!"

پھر انہوں نے پلوؤ کا مٹھا اٹھایا اور کوٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا:
"اے میرے خوبصورت کوٹ! یہ پرتعیش کھانا تمہارے لیے ہی ہے، اسے نوش فرماؤ!"

آس پاس بیٹھے مہمان اور خود نواب یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ نواب نے حیرت سے پوچھا: "ملا جی! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کپڑوں کو کھانا کون کھلاتا ہے؟"

ملا نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا:
"محترم میزبان! جب میں کچھ دیر پہلے اپنے عام اور پرانے کپڑوں میں آیا تھا، تو کسی نے مجھے سلام تک نہ کیا اور نہ ہی کھانے کی دعوت دی۔ لیکن جیسے ہی میں یہ قیمتی نیا کوٹ پہن کر آیا، سب نے سر جھکا لیا اور یہ شاندار کھانا میرے سامنے چن دیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عزت اور کھانا میرے لیے نہیں، بلکہ اس نئے کوٹ کے لیے تھا۔ اسی لیے جو حق اس کوٹ کا ہے، وہی اسے دے رہا ہوں!"

یہ سن کر نواب اور تمام مہمان شرمندہ ہو گئے اور انہیں ملا نصر الدین کی دانا بات کا اندازہ ہو گیا۔

Key Summary & Moral (خلاصہ اور اخلاقی سبق)
Key Words (کلیدی الفاظ): ملا نصر الدین (Mulla Nasruddin)، نیا کوٹ (New Coat)، ضیافت (Banquet/Feast)، ظاہر داری (Outer Appearance)، حکمت (Wisdom)۔

Moral / Key Takeaway (اخلاقی سبق): انسان کی قدر و قیمت اس کے کپڑوں، مال و دولت یا ظاہری نمود و نمائش سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور بصیرت سے ہونی چاہیے۔ لوگوں کو ان کے لباس سے پرکھنا سطحیت اور بدتہذیبی ہے۔

Tania Khan Mentorship Wali
Imran Khan Street Wala
Mohsin Rathore Seo Wala
Waryam Tharparkar Wala
Shazia Javed Educationwali
Level 1 Book 1 Day 8 Week Task story post 8 ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ملا نصر الدین کو ان کے شہر کے ایک امیر اور نواب شخص نے شاندار دعوتِ طعام (ضیافت) میں مدعو کیا۔ ملا نصر الدین اس وقت کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اس لیے وہ اپنے سادہ اور پرانے، پیوند لگے ہوئے کپڑوں میں ہی سیدھے نواب کے محل پہنچ گئے۔ جب وہ محل کے دروازے پر پہنچے اور اندر داخل ہوئے تو کسی نے ان کی طرف توجہ نہ دی۔ نوکروں اور دیگر مہمانوں نے ان کے معمولی لباس کی وجہ سے انہیں بالکل نظر انداز کر دیا اور انہیں بیٹھنے کے لیے کوئی اچھے مقام پر جگہ بھی نہ ملی۔ ملا بغیر کچھ کھائے خاموشی سے وہاں سے نکل آئے۔ ملا سیدھے اپنے گھر گئے، نہائے، اور اپنا سب سے بہترین، ریشمی اور قیمتی نیا کوٹ (عبایا) پہنا۔ ساتھ ہی ایک چمکدار عمامہ سر پر سجایا اور دوبارہ نواب کے محل پہنچے۔ اس بار جیسے ہی ملا نصر الدین محل کے دروازے پر پہنچے، دربانوں نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ نواب نے خود آگے بڑھ کر ملا کا پیشواہ کیا اور انہیں عزت کے ساتھ سب سے اعلیٰ نشست پر بٹھایا۔ ان کے سامنے لذیذ ترین کھانوں کی پلیٹیں سجا دی گئیں۔ کھانا شروع ہوتے ہی ملا نصر الدین نے ایک عجیب حرکت کی۔ انہوں نے سالن کا چمچ بھرا اور کھانے کی بجائے اپنے نئے کوٹ کی آستین پر ڈالتے ہوئے بولے: "کھاؤ، میرے کوٹ! کھاؤ!" پھر انہوں نے پلوؤ کا مٹھا اٹھایا اور کوٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا: "اے میرے خوبصورت کوٹ! یہ پرتعیش کھانا تمہارے لیے ہی ہے، اسے نوش فرماؤ!" آس پاس بیٹھے مہمان اور خود نواب یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ نواب نے حیرت سے پوچھا: "ملا جی! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کپڑوں کو کھانا کون کھلاتا ہے؟" ملا نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا: "محترم میزبان! جب میں کچھ دیر پہلے اپنے عام اور پرانے کپڑوں میں آیا تھا، تو کسی نے مجھے سلام تک نہ کیا اور نہ ہی کھانے کی دعوت دی۔ لیکن جیسے ہی میں یہ قیمتی نیا کوٹ پہن کر آیا، سب نے سر جھکا لیا اور یہ شاندار کھانا میرے سامنے چن دیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عزت اور کھانا میرے لیے نہیں، بلکہ اس نئے کوٹ کے لیے تھا۔ اسی لیے جو حق اس کوٹ کا ہے، وہی اسے دے رہا ہوں!" یہ سن کر نواب اور تمام مہمان شرمندہ ہو گئے اور انہیں ملا نصر الدین کی دانا بات کا اندازہ ہو گیا۔ Key Summary & Moral (خلاصہ اور اخلاقی سبق) Key Words (کلیدی الفاظ): ملا نصر الدین (Mulla Nasruddin)، نیا کوٹ (New Coat)، ضیافت (Banquet/Feast)، ظاہر داری (Outer Appearance)، حکمت (Wisdom)۔ Moral / Key Takeaway (اخلاقی سبق): انسان کی قدر و قیمت اس کے کپڑوں، مال و دولت یا ظاہری نمود و نمائش سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور بصیرت سے ہونی چاہیے۔ لوگوں کو ان کے لباس سے پرکھنا سطحیت اور بدتہذیبی ہے۔ Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala Mohsin Rathore Seo Wala Waryam Tharparkar Wala Shazia Javed Educationwali
0 Comments 0 Shares 486 Views