آج میری ڈاکٹر Khalid Mushtaq صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ چیسٹ سے متعلق بیماریوں کے ماہر اور بہترین ڈاکٹر ہیں۔ میں ان سے ملنے کے لیے گیا تھا، لیکن اسی دوران ان کے پاس ایک کے بعد ایک مریض آنا شروع ہوگئے۔

میں خاموشی سے وہاں بیٹھا مریضوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک مریض آیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ ان تمام مریضوں میں ایک بات مشترک تھی: کسی کے پاس بھی اپنی مکمل میڈیکل ہسٹری اور میڈیکل ڈیٹا ایک جگہ موجود نہیں تھا۔

کسی کے پاس پرانی رپورٹس تھیں، کسی کے پاس صرف چند نسخے تھے، اور کسی کو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ پہلے کون سی دوا استعمال کی تھی یا کس ڈاکٹر نے کیا تشخیص کی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ بہت سے لوگوں کو اس بات کی اہمیت کا مکمل اندازہ نہیں تھا کہ اپنی میڈیکل معلومات کو محفوظ رکھنا کتنا ضروری ہے۔

اسی دوران ہم نے ان مریضوں سے ایک بہت سادہ سی بات شیئر کی۔

ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ اپنے خاندان کا ایک واٹس ایپ گروپ بنا لیں، جس میں اپنے تمام بیٹے، بیٹیاں اور قریبی گھر والے شامل ہوں۔ جب بھی وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں اور ڈاکٹر کوئی دوا، ٹیسٹ، تشخیص یا نسخہ لکھ کر دے، تو اسی وقت اس کی تصویر لے کر اس گروپ میں محفوظ کر دیں۔

اس چھوٹی سی عادت کا فائدہ بہت بڑا ہوسکتا ہے۔

فرض کریں ایک والد اپنے ایک بیٹے کے گھر رہتے ہیں اور اچانک ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ وہ بیٹا انہیں کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہے۔ اس وقت اگر والد کی مکمل میڈیکل ہسٹری، پرانے نسخے، رپورٹس اور استعمال ہونے والی ادویات ایک ہی واٹس ایپ گروپ میں موجود ہوں، تو ڈاکٹر کو پچھلی معلومات سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی اور علاج کا فیصلہ زیادہ بہتر معلومات کی بنیاد پر کیا جاسکے گا۔

اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر وقت موٹی موٹی فائلیں اور پرانی رپورٹس ساتھ لے کر چلیں۔ صرف ایک موبائل فون اور معلومات کو باقاعدگی سے محفوظ کرنے کی عادت بہت سے مسائل کو آسان بنا سکتی ہے۔

آج ڈاکٹر خالد صاحب کے پاس مریضوں سے ملاقات کے دوران میرے لیے سب سے اہم سبق یہی تھا کہ صحت صرف علاج کروانے کا نام نہیں، بلکہ اپنی صحت کی معلومات کو محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

یہی آج کی ملاقات کا ایک اہم مقصد تھا: لوگوں میں اس بات کی آگاہی پیدا کرنا کہ اپنی میڈیکل ہسٹری کو منظم اور محفوظ رکھنا مشکل کام نہیں۔ ایک چھوٹی سی کوشش مستقبل میں کسی بھی ڈاکٹر کے لیے آپ کی صحت کی مکمل صورتحال سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

Rehan Allahwala
آج میری ڈاکٹر Khalid Mushtaq صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ چیسٹ سے متعلق بیماریوں کے ماہر اور بہترین ڈاکٹر ہیں۔ میں ان سے ملنے کے لیے گیا تھا، لیکن اسی دوران ان کے پاس ایک کے بعد ایک مریض آنا شروع ہوگئے۔ میں خاموشی سے وہاں بیٹھا مریضوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک مریض آیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ ان تمام مریضوں میں ایک بات مشترک تھی: کسی کے پاس بھی اپنی مکمل میڈیکل ہسٹری اور میڈیکل ڈیٹا ایک جگہ موجود نہیں تھا۔ کسی کے پاس پرانی رپورٹس تھیں، کسی کے پاس صرف چند نسخے تھے، اور کسی کو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ پہلے کون سی دوا استعمال کی تھی یا کس ڈاکٹر نے کیا تشخیص کی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ بہت سے لوگوں کو اس بات کی اہمیت کا مکمل اندازہ نہیں تھا کہ اپنی میڈیکل معلومات کو محفوظ رکھنا کتنا ضروری ہے۔ اسی دوران ہم نے ان مریضوں سے ایک بہت سادہ سی بات شیئر کی۔ ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ اپنے خاندان کا ایک واٹس ایپ گروپ بنا لیں، جس میں اپنے تمام بیٹے، بیٹیاں اور قریبی گھر والے شامل ہوں۔ جب بھی وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں اور ڈاکٹر کوئی دوا، ٹیسٹ، تشخیص یا نسخہ لکھ کر دے، تو اسی وقت اس کی تصویر لے کر اس گروپ میں محفوظ کر دیں۔ اس چھوٹی سی عادت کا فائدہ بہت بڑا ہوسکتا ہے۔ فرض کریں ایک والد اپنے ایک بیٹے کے گھر رہتے ہیں اور اچانک ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ وہ بیٹا انہیں کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہے۔ اس وقت اگر والد کی مکمل میڈیکل ہسٹری، پرانے نسخے، رپورٹس اور استعمال ہونے والی ادویات ایک ہی واٹس ایپ گروپ میں موجود ہوں، تو ڈاکٹر کو پچھلی معلومات سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی اور علاج کا فیصلہ زیادہ بہتر معلومات کی بنیاد پر کیا جاسکے گا۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر وقت موٹی موٹی فائلیں اور پرانی رپورٹس ساتھ لے کر چلیں۔ صرف ایک موبائل فون اور معلومات کو باقاعدگی سے محفوظ کرنے کی عادت بہت سے مسائل کو آسان بنا سکتی ہے۔ آج ڈاکٹر خالد صاحب کے پاس مریضوں سے ملاقات کے دوران میرے لیے سب سے اہم سبق یہی تھا کہ صحت صرف علاج کروانے کا نام نہیں، بلکہ اپنی صحت کی معلومات کو محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہی آج کی ملاقات کا ایک اہم مقصد تھا: لوگوں میں اس بات کی آگاہی پیدا کرنا کہ اپنی میڈیکل ہسٹری کو منظم اور محفوظ رکھنا مشکل کام نہیں۔ ایک چھوٹی سی کوشش مستقبل میں کسی بھی ڈاکٹر کے لیے آپ کی صحت کی مکمل صورتحال سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ Rehan Allahwala
0 Комментарии 0 Поделились 300 Просмотры