### ملا نصرالدین اور حکمت کی دکان
ایک دن ملا نصرالدین اپنے شہر کے بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ اپنی اپنی پریشانیوں کے ساتھ ان کے پاس آ رہے تھے اور مشورہ مانگ رہے تھے۔
ایک آدمی نے پوچھا،
"ملا صاحب! میں ہمیشہ غصے میں رہتا ہوں، کیا کروں؟"
ملا نصرالدین نے کہا،
"میرا مشورہ چاہیے تو ایک سکہ دو۔"
آدمی نے حیرت سے ایک سکہ دیا۔ ملا نے کہا،
"جب بھی غصہ آئے، پہلے دس تک گنو، پھر جواب دو۔"
آدمی چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا شخص آیا اور بولا،
"ملا صاحب! میں پیسے بچانا چاہتا ہوں، کوئی حکمت بتائیں۔"
ملا نے پھر ایک سکہ لیا اور کہا،
"جتنی آمدنی ہو، اس میں سے کچھ پہلے بچا لو، پھر باقی خرچ کرو۔"
یہ دیکھ کر شہر کے لوگ حیران ہوئے کہ ملا اپنی حکمت بھی بیچ رہے ہیں!
ایک شخص نے مذاق میں پوچھا،
"ملا صاحب! آپ حکمت کیوں بیچتے ہیں؟ حکمت تو مفت ہونی چاہیے!"
ملا مسکرائے اور بولے،
"جو چیز مفت ملے، لوگ اکثر اس کی قدر نہیں کرتے۔ جب انسان اپنی محنت کی کمائی سے کوئی بات خریدتا ہے تو اسے یاد بھی رکھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔"
لوگوں نے ملا کی بات غور سے سنی۔ اس دن کے بعد بہت سے لوگ ان کے پاس اپنی مشکلات کا حل لینے آنے لگے۔
ملا نصرالدین نے آخر میں کہا:
**"اصل حکمت وہ نہیں جو صرف سنی جائے، بلکہ وہ ہے جس پر عمل کیا جائے۔"
### سبق:
**اچھی نصیحت کی اصل قیمت اس پر عمل کرنے میں ہے۔**
ایک دن ملا نصرالدین اپنے شہر کے بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ اپنی اپنی پریشانیوں کے ساتھ ان کے پاس آ رہے تھے اور مشورہ مانگ رہے تھے۔
ایک آدمی نے پوچھا،
"ملا صاحب! میں ہمیشہ غصے میں رہتا ہوں، کیا کروں؟"
ملا نصرالدین نے کہا،
"میرا مشورہ چاہیے تو ایک سکہ دو۔"
آدمی نے حیرت سے ایک سکہ دیا۔ ملا نے کہا،
"جب بھی غصہ آئے، پہلے دس تک گنو، پھر جواب دو۔"
آدمی چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا شخص آیا اور بولا،
"ملا صاحب! میں پیسے بچانا چاہتا ہوں، کوئی حکمت بتائیں۔"
ملا نے پھر ایک سکہ لیا اور کہا،
"جتنی آمدنی ہو، اس میں سے کچھ پہلے بچا لو، پھر باقی خرچ کرو۔"
یہ دیکھ کر شہر کے لوگ حیران ہوئے کہ ملا اپنی حکمت بھی بیچ رہے ہیں!
ایک شخص نے مذاق میں پوچھا،
"ملا صاحب! آپ حکمت کیوں بیچتے ہیں؟ حکمت تو مفت ہونی چاہیے!"
ملا مسکرائے اور بولے،
"جو چیز مفت ملے، لوگ اکثر اس کی قدر نہیں کرتے۔ جب انسان اپنی محنت کی کمائی سے کوئی بات خریدتا ہے تو اسے یاد بھی رکھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔"
لوگوں نے ملا کی بات غور سے سنی۔ اس دن کے بعد بہت سے لوگ ان کے پاس اپنی مشکلات کا حل لینے آنے لگے۔
ملا نصرالدین نے آخر میں کہا:
**"اصل حکمت وہ نہیں جو صرف سنی جائے، بلکہ وہ ہے جس پر عمل کیا جائے۔"
### سبق:
**اچھی نصیحت کی اصل قیمت اس پر عمل کرنے میں ہے۔**
### ملا نصرالدین اور حکمت کی دکان
ایک دن ملا نصرالدین اپنے شہر کے بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ اپنی اپنی پریشانیوں کے ساتھ ان کے پاس آ رہے تھے اور مشورہ مانگ رہے تھے۔
ایک آدمی نے پوچھا،
"ملا صاحب! میں ہمیشہ غصے میں رہتا ہوں، کیا کروں؟"
ملا نصرالدین نے کہا،
"میرا مشورہ چاہیے تو ایک سکہ دو۔"
آدمی نے حیرت سے ایک سکہ دیا۔ ملا نے کہا،
"جب بھی غصہ آئے، پہلے دس تک گنو، پھر جواب دو۔"
آدمی چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا شخص آیا اور بولا،
"ملا صاحب! میں پیسے بچانا چاہتا ہوں، کوئی حکمت بتائیں۔"
ملا نے پھر ایک سکہ لیا اور کہا،
"جتنی آمدنی ہو، اس میں سے کچھ پہلے بچا لو، پھر باقی خرچ کرو۔"
یہ دیکھ کر شہر کے لوگ حیران ہوئے کہ ملا اپنی حکمت بھی بیچ رہے ہیں!
ایک شخص نے مذاق میں پوچھا،
"ملا صاحب! آپ حکمت کیوں بیچتے ہیں؟ حکمت تو مفت ہونی چاہیے!"
ملا مسکرائے اور بولے،
"جو چیز مفت ملے، لوگ اکثر اس کی قدر نہیں کرتے۔ جب انسان اپنی محنت کی کمائی سے کوئی بات خریدتا ہے تو اسے یاد بھی رکھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔"
لوگوں نے ملا کی بات غور سے سنی۔ اس دن کے بعد بہت سے لوگ ان کے پاس اپنی مشکلات کا حل لینے آنے لگے۔
ملا نصرالدین نے آخر میں کہا:
**"اصل حکمت وہ نہیں جو صرف سنی جائے، بلکہ وہ ہے جس پر عمل کیا جائے۔"
### سبق:
**اچھی نصیحت کی اصل قیمت اس پر عمل کرنے میں ہے۔**
0 Yorumlar
0 hisse senetleri
31 Views